ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ون ڈے اور ٹی20 سے بہت مختلف ہے ، سرفراز احمد

ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ون ڈے اور ٹی20 سے بہت مختلف ہے ، سرفراز احمد

اسلام آباد:پاکستان ٹیسٹ ٹیم کے نئے کپتان سرفراز احمد نے کہا ہے کہ ٹیسٹ ٹیم کی قیادت ون ڈے اور ٹی20 سے بہت مختلف ہے اور مصباح الحق کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹیم کو کامیابیوں سے ہمکنار کرانا کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔مصباح الحق نے کافی عرصے تک بہترین کارکردگی دکھائی اور ایک ٹیم تیار کی جو انتہائی متوازن تھی اور اس نے بے شمار کامیابیاں حاصل کیں۔


ایک انٹر ویو میں سرفراز نے کہا کہ یہاں سے مصباح الحق کے نقش قدم پر چلنا کسی چیلنج سے کم نہیں ہو گا۔ ٹیسٹ میچز کسی بھی طور آسان نہیں ہوتے۔ آپ کو انتہائی صبر سے کام لینا ہوتا ہے اور میں محدود اوورز کی کرکٹ کی طرح ٹیسٹ کرکٹ میں بھی اپنی پوری کوشش کرتے ہوئے ٹیم کو کامیابیوں سے ہمکنار کرانے کی کوشش کروں گا۔یونس اور مصباح الحق کی رخصتی کے ساتھ قومی ٹیم کو ناصرف ان دونوں تجربہ کار کھلاڑیوں کے متبادل تلاش کرنے کے کڑے امتحان سے گزرنا ہو گا بلکہ اس کے ساتھ ساتھ ٹیم کیلئے متوازن کمبی نیشن بھی ڈھونڈنا ہو گا۔

ٹیسٹ کپتان نے اس بات کا ادراک کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ہماری ٹیم دیکھیں تو اس وقت گیارہ کھلاڑیوں میں صرف پانچ کھلاڑیوں کی جگہ پکی ہے جس میں اظہر علی، اسد شفیق، میں، یاسر شاہ اور عامر شامل ہیں۔ مڈل آرڈر میں ہمارے پاس مصباح اور اظہر تھے اور ہمیں یقین تھا کہ ہم جس بھی پوزیشن میں کیوں نہ ہوں، یہ دونوں کھلاڑی ہمیں اس سے نکال لیں گے۔اگر ہم پہلے بیٹنگ کرتے تھے تو ہمیں معلوم تھا کہ ہم 400 رنز بنا سکتے ہیں جس سے ہم مطمئن محسوس کرتے تھے۔ اب ہمارے پاس بابر اعظم جیسے کھلاڑی آ رہے ہیں۔ اسد شفیق ٹیسٹ میچوں میں اب ایک نمبر اوپر آئیں گے۔ یہ لڑکے ایسے ہیں کہ جن کی بدولت میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ یہ ہمیں مصباح اور یونس کی طرح اچھے مقام تک لے جائیں گے۔سرفراز کا بحیثیت ٹیسٹ کپتان پہلا امتحان رواں سال اکتوبر نومبر میں سری لنکا کے خلاف سیریز ہو گی لیکن ان کی اصل آزمائش آئندہ انگلینڈ میں ہونے والی دو میچوں کی سیریز ہو گی۔

سرفراز احمد نے مستقبل کی حکمت عملی پر بھی گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم ٹیسٹ ٹیم میں جس کو بھی لائیں گے تو ہماری کوشش ہو گی کہ اسے طویل عرصے تک ٹیم میں رکھیں۔ ہم لڑکوں کو پورا موقع دینا چاہتے ہیں اور صرف ایک دورے کے بعد انہیں ڈراپ نہیں کریں گے۔انہوں نے پراعتماد انداز میں کہا کہ وہ اپنی فٹنس پر کام کرتے ہوئے وکٹ کیپنگ، بیٹنگ اور قیادت کی ذمے داریوں کو احسن طریقے سے انجام دیں گے کیونکہ وہ ڈومیسٹک سطح پر قیادت کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔پاکستان کی تاریخ کے ان چند کھلاڑیوں میں سے ہوں جو جونیئر سطح سے یہاں تک قیادت کرتے ہوئے آئے ہیں۔ میں کلب کی سطح، انڈر 19، ہر فارمیٹ میں اور ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی قیادت کی ہے۔سرفراز احمد نے کہا کہ میں ذمے داری بڑھنے کے ساتھ اپنی فٹنس پر کام کرتے ہوئے سخت محنت کر رہا ہوں جبکہ اپنی بیٹنگ اور وکٹ کیپنگ پر بھی کام کرنے کا سلسلہ جاری رکھوں گا.

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں