شریف فیملی کیخلاف ریفرنس پر فیصلہ ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا

شریف فیملی کیخلاف ریفرنس پر فیصلہ ساڑھے تین بجے سنایا جائے گا

احتساب عدالت كے جج محمد بشیرایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آج سنائیں گے۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست مسترد کر دی گئی۔عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ پہلے  2 گھنٹے کے لئے مؤخر  کیا اور  پھر 3 بجے تک کے لیے موخر کردیا  تاہم پھر اسے ساڑھے تین بجے تک موخر کر دیا گیا۔ احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے 9 بجکر 40 منٹ پر سماعت کا آغاز کیا۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز لندن میں موجودگی کی وجہ سے آج پیش نہیں ہوئے جبکہ نواز شریف کے داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر مانسہرہ میں موجودگی کی وجہ سے عدالت میں پیش نہیں ہوئے جہاں وہ اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔

 

سماعت کے آغاز پر کلثوم نواز کی تازہ میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی گئی۔ مریم نواز اور کیپٹن (ر) صفدر کے وکیل امجد پرویز نے عدالت کو بتایا کہ بیگم کلثوم نواز کی حالت تشویشناک ہے اور ڈاکٹرز کے مطابق آئندہ 48 گھنٹے فیملی کا کلثوم نواز کے ساتھ ہونا ضروری ہے لہذا فیصلے کو کچھ دن کے لیے موخر کر دیا جائے تاہم نیب کے ڈپٹی پراسیکیوٹر جنرل سردار مظفر عباسی نے فیصلہ موخر کرنے کی درخواست کی مخالفت کر دی تھی۔

جج محمد بشیر نے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ کرتے ہوئے سماعت ایک گھنٹے کے لیے موخر کر دی۔ بعد ازاں عدالت نے نواز شریف اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کی جانب سے ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ موخر کرنے کی درخواست مسترد کر تے ہوئے  کہا کہ ایون فیلڈ ریفرنس کا فیصلہ آج ساڑھے 12 بجے سنایا جائے گا تاہم اسے پہلے ڈھائی بجے  پھر 3 بجے تک  تاہم پھر اسے ساڑھے تین بجے تک موخر کر دیا گیا۔

 

 

اس ضمن میں احتساب عدالت ملزمان کو جمعے کو پیش ہونے کے لیے نوٹسز جاری کرچکی ہے فیصلہ سنائے جانے کے موقع پر انہیں حاضری یقینی بنانے کی ہدایت بھی کرچکی ہے۔

 

واضح رہے کہ ریفرنس میں نواز شریف، مریم، حسن اور حسین نواز کے ساتھ کیپٹن (ر) صفدر بھی ملزم نامزد ہیں۔ نواز شریف، ان کی بیٹی مریم اور داماد کیپٹن (ر) صفدر عدالت میں پیش ہوتے رہے تاہم حسن اور حسین نواز پیش نہ ہوئے جس پر عدالت نے عدم حاضری کی بنا پر انہیں اشتہاری قرار دیا۔

 

نواز شریف سمیت تمام ملزمان کے خلاف مقدمات میں نیب کی دفعہ نائن اے لگائی گئی ہے جو رقوم اور تحائف کی غیر قانونی منتقلی سے متعلق ہے۔اس جرم کی سزا 14 سال قید ہے۔ مریم نواز کے خلاف جعلی دستاویزات کے الزام میں ایک اور سیکشن 31 اے کا حوالہ بھی دیا گیا ہے جس میں سزا 3 سال قید ہے۔

 

دریں اثنا نوازشریف نے اس مقدمے کا فیصلہ آج سنانے کے خلاف درخواست دائر کی ہوئی  تھی جس میں اپیل کی گئی ہے کہ کیس کا فیصلہ سنانے کی تاریخ موخر کی جائے۔ 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں