نواز شریف کیخلاف فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا رد عمل

نواز شریف کیخلاف فیصلے پر سیاسی رہنماؤں کا رد عمل

image by facebook

اسلام آباد : امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا کہ نواز شریف کیخلاف فیصلہ انتخابات پر اثر انداز نہیں ہونا چاہیے ، مردان میں گفتگو کرتے ہوئے سراج الحق نے کہا کہ ایک فرد کیخلاف فیصلے سے انتخابات آگے پیچھے نہیں ہونے چاہئیں۔

سراج الحق نے کہا کہ پاناما لیکس کے بعد ہم نے 436 افراد کے نام پیش کردیے تھے، ان افراد کےخلاف عدالتی کارروائی چیونٹی کی رفتار سےبھی کم ہے، قوم چاہتی ہےکہ احتساب ہو تو سب کا ہو۔

رہنما مسلم لیگ(ن)مریم اورنگزیب نے  کہا کہ مسلم لیگ ن اس فیصلے کو مسترد کرتی ہے، ایسے فیصلے آتے رہے ہیں، تاریخ ان کا جواب دےگی۔مریم اورنگزیب نے کہا کہ نواز شریف کو نہ پہلے اور نہ اب اس فیصلے سے فرق پڑے گا۔

سابق وزیر خارجہ خواجہ آصف نے سیالکوٹ میں جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 25جولائی کو عوام کا فیصلہ آئے گا ، خواجہ آصف نے کہا کہ اس فیصلے میں پریشانی والی کوئی بات نہیں ہے، عوام نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے گی، عوام بھرپور محنت کرکے نواز شریف کے حق میں فیصلہ دے ، انہوں نے کہا کہ فیصلے کے خلاف ہائیکورٹ اور سپریم کورٹ سے رجوع کیا جائے گا۔

سینیئر سیاستدان جاوید ہاشمی کا کہنا ہے کہ شہباز شریف محنت کررہے ہیں لیکن نوازش ریف کی کمی پوری نہیں ہوسکتی ، جاویدہاشمی نے کہا کہ مشورہ ہے نواز شریف آئیں اور اس جنگ کو تیزی سے لڑیں، وزیر اعظم پهانسی بهی چڑهے، جیل بهی گئے، قربانیاں دینا پڑتی ہیں۔

مزید پڑھیئے:نیب کا نوازشریف اور مریم نواز کو ایئرپورٹ پر گرفتار کرنے کا فیصلہ
 
 
انہوں نے کہا کہ نواز شریف واپس آكر عدالتوں كا سامنا كریں، فیصلے سے نواز شریف اور مریم کے لیے ہمدردی کی لہر اٹھے گی، پاكستانی قانون كے تحت سزا پر فوری ضمانت ہوجاتی ہے۔

تحریک انصاف کے ترجمان فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ عدالتی فیصلے کے پاکستانی سیاست پر مثبت اثرات پڑیں گے۔میڈیا نمائندوں سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ ہمارا مفاد ہے کہ نواز شریف کو سزا ہو اور پیسے بھی واپس آئیں، پاکستان سے جو 3 ہزار کروڑ باہر گئے وہ واپس کیسے آئیں گے یہ اہم ہوگا۔

ترجمان پی ٹی آئی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کے پاکستانی سیاست پر مثبت اثرات پڑیں گے، پاکستان میں طاقتور لوگوں کا احتساب شروع ہوگیا ہے ، انہوں نے مزید کہا کہ شریف فیملی کو دفاع کا بھرپور موقع ملا۔

خیال رہے کہ احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 11 اور ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 8 جب کہ داماد کیپٹن (ر) صفدر کو ایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔


احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے فیصلے میں نوازشریف کو 80 لاکھ پاؤنڈ اور مریم نواز کو 20 لاکھ پاؤنڈ جرمانہ بھی کیا اور ایون فیلڈ اپارٹمنٹس کو ضبط کرنے کا بھی حکم دیا جبکہ عدالت نے کیپٹن (ر) صفدر پر جرمانہ نہیں کیا ہے۔

عدالت نے کہا کہ حسن اور حسین مفرور ہیں انہیں اشتہاری ملزم قرار دیا جائے اور دونوں کے دوبارہ ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کیے جائیں۔