پارک لین ریفرنس:زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی پھر موخر

پارک لین ریفرنس:زرداری پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی پھر موخر

اسلام آباد: احتساب عدالت نے پارک لین ریفرنس میں سابق صدر آصف علی زرداری، انور مجید اور دیگر ملزموں پر فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی موخر کر دی۔


عدالت نے سماعت 14 جولائی تک ملتوی کر دی۔ پیر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج اعظم خان نے  پارک لین ریفرنس پر سماعت کی ۔ آصف زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے عدالت کو بتایا کہ یہ جان بوجھ کر قرض ڈیفالٹ کا مقدمہ ہے، سٹیٹ بینک نے ایکشن لینا تھا۔ جس پر نیب نے کہا کہ آصف زرداری کیخلاف اختیار کے ناجائز استعمال، دھوکہ دہی، فراڈ کا مقدمہ ہے۔

عدالت نے آصف زرداری کی پارک لین ریفرنس خارج کرنے کی درخواست پر نیب کو نوٹس جاری کیا جس پر نیب پراسیکیوٹر نے کہا ہم نے نوٹس وصول کرلیا، آج ہی جواب دیں گے، عدالت سے استدعا ہے کہ آصف زرداری کی درخواست پر فیصلہ کرے، آصف زرداری سمیت تمام ملزمان پر فرد جرم عائد کی جائے۔

آصف زرداری کے وکیل فاروق نائیک نے فرد جرم عائد ہونے سے روکنے کیلئے ایک اور درخواست دیتے ہوئے کہا کہ جب تک کام کی باتیں نہ ہو تب تک فرد جرم عائد نہیں کی جا سکتی۔عدالت نے کہا کہ آپ عین اس دن درخواست دائر کر رہے ہیں جب سب چیزیں تیار ہیں اور فرد جرم عائد کرنا ہے۔

فاروق نائیک نے کہا کہ اس کے لیے پڑھنا پڑتا ہے، چیزیں نکالنی پڑتی ہیں، گورنر اسٹیٹ بینک کے لیے قانون کے مطابق نوٹس دینا ضروری تھا، ہم مہینہ نہیں مانگ رہے، مناسب وقت دیں، آئندہ منگل کو یہ کیس سماعت کے لیے رکھ لیں، میں نے ریسرچ کرنی ہے ۔

احتساب عدالت نے کہا کہ  آج فرد جرم عائد نہیں کی جائے گی۔ عدالت نے فرد جرم عائد کرنے کی کارروائی پھر موخر کرتے ہوئے سماعت 14جولائی تک ملتوی کر دی ۔