کویت نے قطر کے معاملے میں مصالحت کروانے کی کوششیں شروع کر دیں،ذرائع

کویت نے قطر کے معاملے میں مصالحت کروانے کی کوششیں شروع کر دیں،ذرائع

 کویت سٹی : سعودی عرب سمیت متعدد عرب ممالک کی جانب سے قطر سے سفارتی تعلقات منقطع کیے جانے کے بعد کویت نے مصالحت کی کوششیں شروع کردیں۔سعودی سفیر سے ملاقات اور بحرین کے حکمراں سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔


دوسری جانب امریکا نے قطر کے رویئے پر اظہار تشویش کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور ہمسایہ ممالک کے درمیان تعلقات کو درست سمت میں لانا چاہتے ہیں۔ قطر اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کی صورت حال مستقل طور پر نہیں دیکھا چاہتے، اپنا نمائندہ بھیجنے کو بھی تیار ہیں۔سعودی عرب، بحرین، متحدہ عرب امارات، مصر، یمن، لیبیا اور مالدیپ کی جانب سے قطر سے سفارتی تعلقات ختم کرنے کے بعد پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو حل کرانے کے لیے کویت نے کوششوں کا آغاز کردیا ہے ۔

اس سلسلے میں کویت کے امیر شیخ صباح الاحمد الصباح نے کویت میں سعودی عرب کے سفیر شہزادہ خالد الفیصل سے ملاقات کی اور ان سے صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔ اس موقع پر شہزادہ خالد الفیصل نے امیر کویت کو سعودی فرماں کا پیغام بھی پہنچایا ۔ تاہم پیغام کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔اس کے بعد امیر کویت شیخ صباح نے بحرین کے حکمراں شیخ تمیم حماد الثانی سے ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور صورت حال پر بات چیت کی ۔ بات چیت کے دوران انہوں نے بحرین کے حکمراں پر زور دیا کہ وہ ایسے کسی بھی اقدام سے گریز کریں جس کے نتیجے میں صورت حال مزید خرابی کی جانب جائے ۔

دوسری جانب امریکا نے کہا ہے کہ وہ نہیں چاہتا ہے کہ قطر اور خلیجی ممالک کے درمیان کشیدگی کی صورت حال مستقل طور پر برقرار رہے ۔

امریکی اعلیٰ عہدیدار کا کہنا تھا کہ یہ بات درست ہے کہ قطر حکومت کا رویہ نہ صرف ہمسایہ عرب ممالک کے لیے بلکہ امریکا کے لیے تشویش ناک ہے اور امریکا چاہتا ہے کہ ان تعلقات کو درست سمت میں لانا چاہتا ہے ۔

اہلکار کامزید کہنا تھا کہ اگر صورت حال کے حوالے سے خلیجی تعاون کونسل کا اجلاس طلب کیا گیا تو امریکا بھی اپنا نمائندہ اس میں شرکت کے لیے بھیجے گا۔ادھرتین جانب سے سمندر سے گھرے اور فوڈ سیکورٹی کے شکار قطر کے لیے سب سے بڑا مسئلہ سعودی عرب کے ساتھ واحد زمینی سرحد بند ہونے کی وجہ سے پیدا ہوگا۔ایک اندازے کے مطابق قطر میں استعمال ہونے والی چالیس فیصد خوراک اسی راستے سے لائی جاتی ہے،خلیجی ملکوں کے بائیکاٹ کے بعد قطر کے شہریوں نے خوراک کا ذخیرہ شروع کردیا ہے۔

ادھر سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی فضائی کمپنیوں نے دوحہ کے لیے تمام پروازیں بند کرنے کا اعلان کیا ہے، بحرین اور مصر نے بھی قطر ایئرویز کے لیے اپنے ہوائی اڈے بند کردیے ہیں،جس کی وجہ سے مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں۔