تقاریر براہ راست نشر نہ کرنے پر اپوزیشن کا آج پھر واک آؤٹ

تقاریر براہ راست نشر نہ کرنے پر اپوزیشن کا آج پھر واک آؤٹ

اسلام آباد: قومی اسمبلی کا اجلاس اسپیکرسردارایازصادق کی زیرصدارت ہوا۔ اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے کہا کہ ہمیں کہا گیا کہ ہم رنگ بازیاں کرتے اور قلا بازیاں کھاتے ہیں۔ نکتہ اعتراض پر بات کرتے ہوئے شاہ محمود قریشی نے کہا کہ خطے میں سنگین بحران جنم لے رہا ہے لیکن ہماری وزارت خارجہ کنفیوز دکھائی دے رہی ہے۔ آج ملک میں بجٹ پر بحث کے بجائے جے آئی ٹی پر بحث ہو رہی ہے۔ شاہ محمود قریشی کی جانب سے حسین نواز کی تصویر اور قطری شہزادہ کا نام لینے پر رانا حیات اور میاں منان نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ ایم کیو ایم کے آصف حسنین اور جماعت اسلامی کے صاحبزادہ طارق اللہ نے اسپیکر سے لائیو تقاریر دکھانے کا معاملہ حل کرنے کا مطالبہ کر دیا۔ محمود خان اچکزئی نے حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کا حل تجویز کر دیا۔ کہتے ہیں اپوزیشن لیڈر کی تقریر پی ٹی وی پر براہ راست نشر کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ محمود خان اچکزئی کی تقریر کے دوران اپوزیشن جماعتیں ایک بار پھر بجٹ اجلاس سے واک آوٹ کر گئیں۔


واضح رہے گزشتہ دنوں بھی حزب اختلاف کے رہنمائوں کی بجٹ تقاریر سرکاری ٹی وی پر براہ راست نہ دکھانے کے خلاف اپوزیشن نے پارلیمنٹ ہائوس کے باہر قومی اسمبلی کا اجلاس لگا لیا تھا۔ پارلیمنٹ ہائوس کے گیٹ پر جاری اپوزیشن جماعتوں کے اجلاس میں پیپلز پارٹی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم اور جماعت اسلامی سمیت حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں کے ارکان شریک ہوئے تھے۔ اس اجلاس میں نہال ہاشمی کے خلاف مذمتی قرارداد منظور کرتے ہوئے سپریم کورٹ سے ان کے بیان کا فوری نوٹس لینے کا مطالبہ بھی کیا گیا تھا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں