آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1 ہزار میں فروخت ہونے لگا

 آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 1 ہزار میں فروخت ہونے لگا
مہنگی گندم خرید کر سستے داموں آٹا فروخت نہیں کر سکتے، فلور ملز ایسوسی ایشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔فائل فوٹو

لاہور: پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن پنجاب زون نے آٹے کی قیمت میں ازخود اضافہ کر دیا۔ آٹے کا 20 کلو کا تھیلا ازخود 50 روپے مہنگا کر دیا گیا۔ شہر کے مختلف علاقوں میں 20 کلو کا تھیلا 1000 روپے سے زائد میں فروخت ہونے لگا۔


گذشتہ 10 روز میں آٹے کی قیمت میں دوسری مرتبہ اضافہ ہوا ہے۔ 10 روز قبل آٹے کا 20 کلو کا تھیلا 805 روپے میں فروخت کیا جا رہا تھا۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کا موقف ہے کہ آٹے کی قیمت میں اضافہ محکمہ خوراک پنجاب کی ناقص پالیسیوں کے باعث ہوا ہے۔ مہنگی گندم خرید کر سستے داموں آٹا فروخت نہیں کر سکتے۔ اگر حکومت نے آٹے کی قیمتوں میں کمی کروانی ہے تو گندم کا کوٹہ فراہم کیا جائے۔

خیال رہے کہ گزشتہ ماہ کی 29 تاریخ کو پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن نے آٹے کی قیمت میں از خود اضافہ کر دیا تھا اور 20 کلو آٹے کا تھیلا 120 روپے مہنگا کر دیا تھا۔

چیئرمین پنجاب فلور ملز ایسوسی ایشن عبدالرؤف مختار کا کہنا ہے کہ اوپن مارکیٹ میں گندم کی فی من قیمت 1600 روپے سے بڑھ گئی ہے۔ زائد نرخوں پر گندم خرید کر سرکاری نرخوں پر آٹے کی فراہمی ممکن نہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ گندم کی نئی فصل کی نقل و حمل پر پابندی کے باعث صورتحال خراب ہوئی۔ ملز کے سٹاک کو سرکاری تحویل میں لیے جانے سے آٹے کی صورتحال خراب ہوئی اور اس وقت فلور ملز کے پاس 72 گھنٹوں کیلئے گندم کا سٹاک موجود نہیں۔

عبد الرؤف مختار کا مزید کہنا تھا کہ محکمہ خوراک سرکاری قیمت برقرار رکھنا چاہتا ہے تو گندم کا اجراء کیا جائے۔ آٹے کی سپلائی برقرار رکھنا محکمہ خوراک کی ذمہ داری ہے ۔

پاکستان فلور ملز ایسوسی ایشن کی طرف سے آٹے کی قیمت میں از خود اضافے کے بعد رد عمل دیتے ہوئے سینئر صوبائی وزیر عبد العلیم خان کا کہنا ہے کہ گندم اور آٹے کی قیمتوں سے متعلق فلور ملز کا بیان یکطرفہ ہے حکومت اسے تسلیم نہیں کرتی۔

سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ مختلف اضلاع میں گندم کی قیمتوں میں فرق ہے اور ایک جیسا ریٹ نہیں ہو سکتا۔

انہوں نے مزید کہا کہ جہاں گندم سستی ہو گی وہاں آٹے کے نرخ بھی کم ہوں گے۔ نئے نرخوں کے تعین کے لیے فلور ملز ایسوسی ایشن سے کل محکمانہ اجلاس ہو گا۔ ریٹ وہی ہو گا جو انتظامیہ اور محکمہ خوراک کی مشاورت سے طے ہو گا۔

عبد العلیم خان کا کہنا تھا کہ امید ہے کہ مل اوونرز عوام کی تکلیف کا احساس کرتے ہوئے تعاون کریں گے۔ اگر فلور ملز ایسوسی ایشن نے تعاون نہ کیا تو پھر حکومت اپنا طریقہ کار خود طے کرے گی۔

سینئر صوبائی وزیر کا کہنا تھا کہ گندم اور آٹے کی عوام کو وافر فراہمی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ پنجاب حکومت کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں اور کسی قسم کی قلت نہیں ہو سکتی۔