ایک سال میں پاکستان کا قرض کیسے اترے گا؟

ایک سال میں پاکستان کا قرض کیسے اترے گا؟

(گزشتہ سے پیوستہ)

دنیا کی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں قومیں اور افراد جب بھی برباد ہوئے ہیں اس کے پیچھے صرف ایک وجہ کارفرما نظر آتی ہے کمزور ’’قوت ارادی‘‘۔ جب ارادے کمزور ہوں تو عمل میں کوتاہی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ پھر کوئی بھی زوال کو روک نہیں سکتا۔ اس کے برعکس جب قوت ارادی مضبوط ہو تو عمل کی تحریک خود بخود پیدا ہو جاتی ہے۔ پھر وہ فرد ہو یا قوم عروج کی منزلیں طے کرنے کا سفر شروع ہو جاتا ہے۔ ہمیں اپنے ہی ملک میں ایسی مثالیں مل جاتی ہیں اگر ان کا مطالعہ کیا جائے تو انسان ورطہ حیرت میں ڈوب جاتا ہے۔ کہ اگر اس ملک میں ایک آدمی اتنی معاشی ترقی کر سکتا ہے تو یہ ملک کیوں نہیں۔ بحریہ ٹاؤن کے مالک ملک ریاض حسین ایک زبردست کیس سٹدی ہیں۔ ملک ریاض سے متعلق مشہور ہے کہ وہ اتنے امیر ہیں کہ لوگوں کو کروڑوں روپے بطور تحفہ دے دیتے ہیں۔ لیکن یہ بات کم لوگوں کو معلوم ہے کہ ملک ریاض ہمیشہ سے اتنے امیر نہیں تھے۔ لیکن آج وہ کھرب پتی ہیں اور دولت کمانے کا یہ سفر جاری ہے۔ ملک ریاض کے متعلق لوگ جو بھی رائے رکھتے ہوں لیکن مجھے وہ ایک حیرت انگیز انسان لگتے ہیں۔ میں سوچتا ہوں کہ ایک ایسے معاشرے میں جو کہ زوال کا شکار ہے یہ شخص کیسے اتنی ترقی کر گیا؟ میں جتنا بھی دماغ دوڑاؤں مجھے ایک ہی جواب ملتا ہے مضبوط ’’قوت ارادی‘‘۔ 73 سالہ ملک ریاض ایک اوسط درجے کے ٹھیکیدار کے گھر پیدا ہوئے۔ والد کوئی زیادہ کامیاب بزنس مین نہیں تھے۔ اسی لیے میٹرک بھی نہ کر سکے۔ لیکن گھٹی میں کاروبار تھا اس لیے تھوڑی بہت کوشش سے فوج میں ڈی کلاس ٹھیکیداری سے کام شروع کیا۔ چھوٹے چھوٹے ٹھیکوں میں بچت نہ ہونے کے برابر تھی۔ خود دیواروں پر رنگ کرتے، مزدوروں کے ساتھ مل کر سڑکوں پر تار کول بچھاتے۔ ملک ریاض اس دور کی تکالیف کا ذکر اپنے انٹرویوز میں اکثر کرتے ہیں۔ یہ ایسا وقت تھا جب اپنی بیٹی کے علاج کے دوران انھیں گھر کے برتن بیچنا پڑے۔ ان کی مرحوم بیوی کی خواہش تھی کہ کاش ان کا پانچ مرلے کا اپنا گھر ہوتا۔ کسے معلوم تھا یہ شخص ہزاروں شاندار گھر بنائے گا۔ ملک ریاض کم تعلیم یافتہ ضرور تھے لیکن ان میں دو باتیں بدرجہ اتم موجود تھیں۔ ایک وہ بلا کے ذہین ہیں دوسرا ان میں قوت ارادی اس قدر زیادہ ہے کہ آج 45 سال بعد بھی ان کی دولت کمانے کا سفر نہیں رک سکا۔ 90 کی دہائی کے پاکستان میں جمہوری اتھل پتھل اس قدر زیادہ تھی کہ کوئی بھی حکومت کسی 

بھی قسم کے پائیدار معاشی منصوبے بنانے کی پوزیشن میں نہیں تھی۔ ملک ریاض کے تیز ذہن نے ان حالات کو سمجھا اور ایک فیصلہ کیا کہ انھیں فوج کے ساتھ بزنس کرنا چاہئے جو کسی طرح بھی گھاٹے کا سودا نہیں ہو گا۔ وقت نے ثابت کیا کہ ان کا فیصلہ درست تھا۔ ملک ریاض شکل و صورت اور حلیے سے سادہ شخصیت کے حامل تھے۔ لیکن انھوں نے کسی نہ کسی طرح افسروں تک رسائی حاصل کی اور انھیں پیسہ کمانے کے منصوبے پیش کیے۔ ملک ریاض کی محنت اور مضبوط قوت ارادی کے سامنے قسمت نے بھی گھٹنے ٹیک دیئے۔ انھیں پہلی کامیابی اس وقت ملی جب نیوی نے راولپنڈی کے ہاؤسنگ پراجیکٹ پر مزید کام نہ کرنے کا فیصلہ کیا لیکن اس سکیم سے نام واپس نہ لیا۔ یہ ایسا ٹرننگ پوائنٹ تھا جس نے ملک ریاض کی زندگی بدل دی۔ ان کا تیز دماغ ایک کے بعد ایک منصوبہ بناتا چلا گیا۔ لوگوں نے صرف سکیم کے اعلان پر ہی دیوانہ وار لائنوں میں لگ کر بحریہ ٹاؤن کے فارم خریدے۔ یہاں تک کہ رش اور دھکم پیل کے باعث لاٹھی چارج اور آنسو گیس تک استعمال کرنا پڑتا تھا۔ چند سو روپوں کی دوائی کے لیے گھر کے برتن بیچنے والا شخص آج کھرب پتی بن چکا ہے۔ ایک اندازے کے مطابق ملک ریاض کے اثاثے 40 کھرب سے زائد مالیت رکھتے ہیں۔ یہ پاکستان کے نصف بجٹ کے برابر رقم بنتی ہے۔ وہ پاکستان کا دوسرا امیر شخص ہے۔ ملک ریاض کو معمولی ٹھیکوں کے لیے کسی کلرک، کیپٹن یا میجر کے دفترکے باہر گھنٹوں بیٹھا رہنا پڑتا تھا۔ اب کئی سابق جنرلز اور بریگیڈئر ان کے ملازم ہیں۔ ان میں ایک اور صلاحیت بھی بدرجہ اتم موجود ہے کہ وہ خود سے ملنے والے شخص کو ایک نظر میں پہچان لیتے ہیں۔ پھر اسے اس کے مطابق ڈیل کرتے ہیں۔ ملک ریاض نے ترقی کے اس سفر میں صرف فوج سے ہی تعلقات پر توجہ نہیں دی بلکہ بڑی سیاسی جماعتوں کی ٹاپ لیڈر شپ کے ساتھ بھی قریبی تعلقات بنائے۔ انھیں اپنے کاروبار کو بچانے کے لیے ریاست کی سپورٹ چاہئے تھی۔ اس لیے انھوں نے پہلے دن ہی یہ طے کر لیا تھا کہ وہ ٹکراؤ کی طرف نہیں جائیں گے۔ ان پر بے شمار مقدمات بنے لیکن اپنے تعلقات اور اثر و رسوخ کی بنیاد پر وہ آگے بڑھتے رہے۔ ان کی ترقی کا سفر نہیں رک سکا۔ وہ بیک وقت پرویز مشرف، آصف زرداری، شریف برادران، چودھری برادران اور عمران خان سے بہترین تعلقات رکھتے ہیں۔ وہ ہوا کے رخ پر گہری نظر رکھتے ہیں۔ پاکستان کی پچھلے 20 برس کی سیاسی تاریخ میں ملک ریاض ایک اہم کردار بن کر ابھرے ہیں۔ اس لیے تمام اہم سیاسی مواقع پر ملک ریاض کا بڑا اہم کردار رہا ہے۔ انھوں نے کلرک سے صدر تک اور کونسلر سے وزیر اعظم تک ہر شخص کو اپنا ہمنوا بنا لیا۔ یہ ایک آرٹ ہے۔ ملک ریاض نے پاکستانی رہائشی طرز زندگی کو بدل دیا ہے۔ اس نے ایک ایسا انقلاب پیدا کیا جس کا ہدف مڈل کلاس تھی۔ اس نے انھیں گھر نہیں بلکہ ان کے خواب بیچے ہیں۔ ان کے لیے اعلیٰ اور سستی رہائشی سکیمیں بنائیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ دسترخوان بھی اس آدمی کے ہیں جہاں روزانہ ہزاروں لوگ کھانا کھاتے ہیں۔ ہزاروں بچے ملک ریاض کے وظائف پر مفت تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ پاکستان میں سب سے زیادہ مفت کڈنی ٹرانسپلانٹ ملک ریاض نے کرائے ہیں۔ لوگ ملک ریاض کے بار ے میں مختلف رائے رکھتے ہیں۔ ان میں خامیاں ڈھونڈتے ہیں۔ لیکن میں انھیں ایک کامیاب شخص سمجھتا ہوں۔ جس نے نامساعد سیاسی اور معاشی حالات رکھنے والی ریاست میں ایسی کامیابی حاصل کی جو کہ اپنے آپ میں ایک مثال ہے۔ کیا پاکستان جیسی ناکام ریاست میں ایسے کامیاب شخص کا ہونا کسی نعمت سے کم ہے؟ ہمیں ملک ریاض سے سیکھنا چاہئے کہ کیسے نامساعد حالات میں کیسے آگے بڑھنا ہے۔ بطور مُلک ہمیں اپنے دوستوں اور دشمنوں کی پہچان کیسے کرنی ہے اور انھیں ڈیل کیسے کرنا ہے۔ ہمیں اپنے داخلی اور خارجی محاذ پر کیسے کامیاب پالیساں تشکیل دینا ہیں۔ پاکستا ن کو بنے 75 برس ہو گئے۔ ان عرصہ میں قوم اگر دو قدم آگے بڑھی ہے تو دس قدم پیچھے ہٹی ہے۔ ترقیٔ معکوس کا ایک سفر ہے جو جاری ہے۔ اس کی بڑی وجہ سیاسی عدم استحکام ہے جو معاشی مفلوک الحالی کا سبب بنا ہے۔ آج پاکستان کا شمار دنیا کی پسماندہ قوموں میں ہوتا ہے۔ جہاں سیاست، انصاف، گورننس، ڈسپلن سمیت زندگی کا ہر شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے۔ ملک کی یہ حالت دیکھ کر دل گرفتہ رہتا ہے۔ ہمارے ملک میں ایسے بے شمار لوگ ہیں جو ان حالات کا درماں کر سکتے ہیں۔ آپ صدر الدین ہاشوانی، ناصر شون، حبیب رفیق، میاں منشا اور عبدالرزاق داؤد سے ملیں تو ان کی کامیابیاں جان کے حیران رہ جائیں۔ کیا ریاست ان سب کو اور ان جیسے بے شمار لوگوں کے ساتھ مل کر آگے بڑھو پاکستان کا ایک پلیٹ فارم نہیں بنا سکتی؟ میں آپ کو یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ حکومت ایک سال کے لیے ان افراد کو موقع دے کہ بزنس پالیسیاں یہ لوگ بنائیں۔ اس کے بدلے میں ان کے ذمے صرف ایک کام ہو گا کہ ملک کا سارا قرض اتارنا ہے۔ میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ یہ معجزہ ایک سال سے بھی کم وقت میں ہو جائے گا۔ کیسے یہ آئندہ کالم میں۔۔۔

مصنف کے بارے میں