میں ،ٹکٹ اور پی ایس ایل کا فائنل

میں ،ٹکٹ اور پی ایس ایل کا فائنل

یہ کیا سب لوگ فائنل دیکھنے جا رہے ہیں؟فیس بُک دیکھتے ہی میرا دماغ اپنے کولیگز کی مشترکہ سیلفی دیکھ کر بھک سے اُڑ گیا ۔اور یہی وہ لمحہ تھا میرے فون کی سکرین روشن ہوئی اور سدرہ کا پیغام ملا۔کہاں ہو تم؟آئی کیوں نہیں ؟آفس میں سب کو فری ٹکٹس ملی ہیں آج! یہ ایک اور بم تھا جو میرے سر پر گرا۔میں نے بے یقینی کے عالم میں اس کا اگلا میسج دیکھا جس میں اس نے ٹکٹ کے ساتھ سیلفی بھیجی تھی اور میں حیران و پریشان اپنی قسمت کو کوس رہی تھی کہ میرا آف آج ہی کیو ں تھا۔


میں نے فوراً  اپنے شفٹ انچارج اکرم صاحب کو میسج کیا۔آپ سب فائنل کے لیے جا رہے ہیں؟کیونکہ وہ ممکنہ طور پر(جو مجھے لگ رہا تھا) مذاق کا حصہ نہیں بن سکتے تھے۔ اور انہوں نے بھی تصدیق ہی کی کہ ہم جا رہے ہیں۔اب تو ثابت ہو چکا تھا کہ واقعی ہی سب جارہے ہیں ۔میں جو لاہور میں فائنل کی خبر کے بعد سے  منتیں کر رہی تھی کہ سب چلتے ہیں فائنل دیکھنے اور ٹکٹ کے لیے بھی تگ و دو جاری تھی اب بالکل مایوس ہو چکی تھی کہ اب کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔  لیکن فوراً  ہی میرے سوئے ہوئے دماغ میں نجم سیٹھی کی رات کی گئی ٹویٹ یاد آئی کہ خواتین طالبعلم اپنا سٹوڈنٹ آئی ڈی دکھا کر معروف نجی ہوٹل سے 8000والا ٹکٹ مفت حاصل کر سکتی ہیں اور یہ ایک ہزار ٹکٹ خواتین طلباءکے لیے تھے۔

میں نے فوراً  آٹو پکڑا اور بند گلیوں سے ہوتے ہوئے شادمان کی خاک چھانتے ہوئے مال روڈ پہنچی کیونکہ کنال روڈ مکمل طور پر بند تھا۔  ایک اور آفت تیار تھی کہ ہوٹل کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور پر بند تھے اور سوائے وہاں کام کرنے والے لوگوں کے کسی کو باغ جناح کا وہ اشارہ کراس کرنے کی بھی اجازت نہیں تھی ۔میں نے ایک سیکیورٹی اہلکار سے پوچھا کہ "  کیا پیدل جانے کی بھی اجازت نہیں؟"  تو میرے کانوں میں وہاں موجود سیکیورٹی انچارج  کی آواز پڑی کہ  ”پلیز یہاں سے چلے جائیں یہاں رش مت کریں، کسی کو بھی جانے کی جازت نہیں، پلیز جائیں یہاں سے“۔

آواز سنتے ہی میرے ذہن میں شہید کیپٹن مبین کے الفاظ آئے کہ پلیز احتجاج بند کریں یہاں کچھ بھی ہو سکتا ہے جس کے بعد مال روڈ پر ایک المناک حادثہ ہوا اور کیپٹن مبین بھی اسی دھماکے میں شہید ہوئے۔یہ بات ذہن میں آتے ہی میں نے وہاں سے جانے کا آرادہ کیا ہی تھا کہ وہاں موجود ایک اور ٹکٹ کی امیدوار نے بتایا کہ وہ صبح سات بجے بھی کافی کوشش کر کے جا چکی ہے لیکن یہی صورتحال تھی اور اب جبکہ پونے2کا وقت تھا۔

اب سوال یہ ہے کہ عین اُسی دن ٹکٹ دینے کا جو احسان کیا گیا وہ کیا سوچ کر کیا گیا؟اور اگر اعلان کردہ ٹکٹ خواتین طلباءکو نہیں ملے تو کہاں گئے؟معذور افراد کے لیے اعلان کیے گئے 500ٹکٹ بھی وہیں سے ملنے تھے اور وہیل چئیر ز پر موجود نوجوان بھی سیکیورٹی اہلکاروں کی منتیں کرنے کے بعد پریشانی کے عالم میں بیٹھا تھا۔خیر ، دو گھنٹوں کے مسلسل سفر اور لاہور کی تمام گلیوں کی خاک چھاننے کے بعد میں گھر کی ایک نزدیکی سڑک پر اتری تا کہ وہاں سے پیدل گھر کا رستہ لوں ۔خدا خدا کر کے میں گھر پہنچی اور جاتے ہی مہر نوید  کو فون کھڑکایا (سدرہ مجھے بتا چکی تھی کہ سر مہر نوید کے پاس 100ٹکٹس ہیں ) میری خود ساختہ سوچ کے مطابق وہ ٹکٹس اُن کے پروگرام پی ایس ایل پویلین میں دیئے جانے والے انعامات میں سے بچے ہوں گے۔اسی دوران میں سدرہ کو " پکا"  کر چکی تھی کہ اس کو ملنے والا ٹکٹ وہ رکھ لے کیونکہ سدرہ نے خود فائنل دیکھنے نہیں جانا تھا۔

مہر صاحب نے کہا تم نے بھی جانا تھا؟ ایک دفعہ پہلے ذکر تو کیا ہوتا۔اب تو میں نے سارے ٹکٹس بانٹ دیئے۔میرے اپنے پاس بمشکل ایک بچا ہے۔ابھی جان بچا کر نکلا ہوں۔  آفس میں ایک ٹکٹ پر تین لوگ جھگڑ رہے تھے۔ادھرمیں جو بہن منیبہ اور سہیلی وردہ کے لیے بھی ٹکٹ کی کوشش کر رہی تھی یہ طے کر چکی تھی کہ میں اکرم صاحب   اور دیگر کولیگز کے ساتھ سدرہ والے ٹکٹ پر خود ہی میچ دیکھ لوں گی ۔ابھی فون بند ہوا ہی تھا کہ سدرہ کا ایک اور پیغام موت کے فرشتے کی طرح حاضر ہوا کہ ابو لینے آگئے ہیں اور میں جا رہی ہوں سب رستے بند ہیں ۔میں نے فوراً  پوچھا کہ تمہارے والا ٹکٹ کہاں ہے؟ ٹھک سے جواب آیا عبدالرﺅف کو دے دیا۔میں نے کنفرم  کیا  کہ اُسے دفتر نے ٹکٹ نہیں دیا؟سدرہ نے بڑی ڈھٹائی سے کہہ  دیا۔ "اسے کسی دوست کے لیے بھی چاہیے تھا"۔

اُف!یہ کیا ہو رہا تھا میرے ساتھ ۔ساتھ ہی نازش کا پیغام ملا "دفتر مت جانا سدرہ سے ٹکٹ لینے۔ سب راستے بند ہیں۔  گھر بیٹھ کے دیکھ لو۔" اللہ ہی خیر کرے یہ کیا ہے سب۔میں نے غصے میں موبائل پٹخا اور چادر تان کر سو نے کی کوشش کی لیکن نیند کیسے آنی تھی۔بے دلی کے ساتھ اٹھی اور چھت پر جا کر قذافی کے چکر لگاتے ہیلی کاپٹر کو ہاتھ ہلا ہلا کر بلایا کہ لے جاﺅ مجھے بھی لیکن کہاں! دل میں سوچا کتنے میسنے ہیں لوگ مجھے پہلے منع کرتے رہے کہ مت جانا مت جانا اور اب سب چلے گئے۔

خیر دعائیں کیں کہ کوئٹہ ہی جیتے لیکن میرا تو دن ہی خراب تھا۔ لٰہذا کوئٹہ نے نہ جیتنا تھا نہ جیتا!آج چینل پہنچنے سے پہلے پکا منصوبہ تھا کہ کسی سے بات نہیں کرنی جو جو میچ دیکھنے گئے۔لیکن یہ کیا میں پہنچی اور سب کے نکلتے دانت کسی اور بات کی طرف اشارہ کر رہے تھے ۔اور سب کی باتیں سن کر مجھ پر حیرانی کے پہاڑ  ٹوٹے کہ نہ ہی تو کسی کو فری ٹکٹ ملا دفتر سے۔ اور نہ ہی کوئی میچ دیکھنے گیا۔ یہ سب مجھے تنگ کرنے کا منصوبہ تھا کیونکہ میں نے ہی شور مچایا ہوا تھا کہ مجھے جانا ہی جانا ہے۔  اور یہ کیا میری سیٹ پر ایک عدد ٹکٹ پڑا تھا ۔جناب یہ وہی ٹکٹ تھا جس کے ساتھ سب نے سیلفیاں لے  لے کے میرا دل جلایا اور وہ دراصل  اصلی ٹکٹ کی کروائی ہوئی  ایک کاپی تھی ۔اُف پھر جو میرا مذاق شروع ہوا تو سدرہ کی طرف سے اس خیال پر ختم ہوا کہ تم اپنی آپ بیتی لکھو ’میں ،ٹکٹ اور پی ایس ایل فائنل‘۔

عظبہ عبدللہ نیو ٹی وی میں سٹاف ممبرہیں