رات دیر تک جاگنا! کیا سوچتے رہے مگر حقیقت تو کچھ اور ہی نکلی

لاہور:رات دیر تک جاگنا کچھ افراد کیلئے طرز زندگی کے معمولات کا حصہ بن جاتا ہے۔ وہ افراد رات دیر تک جاگ کر صبح اپنی مرضی سے اٹھتے ہیں۔ اکثر لوگ اس کو منفی سمجھتے ہیں مگر طبی سائنس نے رات دیر تک جاگنے والے افراد کی ایسی خوبیاں بتا دی جو ہر شخص کو حیرت زدہ کر دیں گی ، یہ خصوصیات درج ذیل ہے۔


زیادہ تخلیقی سوچ کے حامل:

کسی مسئلے کا اچھا حل تلاش کرنا چاہتے ہیں؟ تو اس کا جواب رات گئے تک جاگنے والے کسی فرد سے جاننے کی کوشش کریں، کم ازکم اٹلی میں ہونے والی ایک تحقیق میں تو یہی دعویٰ کیا گیا ہے۔ کیتھولک یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جو لوگ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں وہ زیادہ تخلیقی سوچ کا اظہار کرتے ہیں۔ مختلف ذہنی آزمائشی مقابلے میں ایسے افراد نے صبح جلد جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ کامیابی حاصل کی۔ محققین کے مطابق ایسے افراد کے اندر غیرروایتی روح ہوتی ہے اور آسانی سے مسائل کے حل ڈھونڈ لیتے ہیں۔

مضبوط ذہن:

ویسے تو علی الصبح جاگنے والے افراد اپنے کام جلد نمٹاتے ہیں مگر وہ ذہنی طور پر بھی رات گئے تک جاگنے والوں کے مقابلے میں زیادہ جلدی تھکاوٹ کا شکار ہوسکتے ہیں۔ بیلجیئم میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق ان دونوں گروپس کے درمیان ذہنی چوکنے پن کے حوالے سے واضح فرق پایا جاتا ہے، نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ جلد اٹھتے ہیں ان کے مقابلے میں رات گئے تک جاگنے والے زیادہ طویل وقت تک ذہنی طور پر ہوشیار اور چوکنے رہتے ہیں۔

اچھی ذہانت کے حامل :

لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ قدرتی طور پر تمام جانداروں کے اندر ایک گھڑی یا ردھم پایا جاتا ہے جو اعصابی خلیات کو ریگولیٹ کرتا ہے۔تحقیق میں بتایا گیا کہ رات کو زیادہ فعال یا الو کی طرح جاگنے والے علی الصبح اٹھنے والوں کے مقابلے میں زیادہ ذہانت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ تحقیق میں امریکی نوجوانوں کے جائزے سے یہ بات معلوم ہوئی کہ زیادہ ذہین افراد عام طور پر رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، یا یوں کہہ لیں کہ دیر سے سونا اور جاگنا انہیں پسند ہوتا ہے۔ محققین کے مطابق اوسط ذہانت اور نیند کے سونے کے رجحان کے درمیان تعلق پایا جاتا ہے۔

خاص مضبوطی:

کینیڈا کی البرٹا یونیورسٹی کی تحقیق میں صبح جلد اور رات کو دیر سے سونے والے افراد کے درمیان جسمانی مضبوطی کو جانچا گیا، نتائج سے معلوم ہوا کہ صبح جلد اٹنے والے افراد کی جسمانی مضبوطی دن بھر برقرار رہتی ہے جبکہ رات گئے تک جاگنے والوں میں یہ مضبوطی شام میں عروج پر نظر آتی ہے۔ ایسے افراد میں رات کو موٹر کورٹیکس اور ریڑھ کی ہڈی کے کام کرنے کے افعال میں اضافہ ہوجاتا ہے، اس کے مقابلے میں صبح جلد اٹھنے والوں یہ امتزاج بیک وقت عروج پر کسی وقت نظر نہیں آتا۔

زیادہ جسمانی توانائی:

سننے میں تو بالکل عجیب لگے مگر جو لوگ زیادہ دیر تک جاگتے ہیں وہ جسمانی طور پر زیادہ توانائی کے مالک ہوسکتے ہیں، حیران کن طور پر جرمنی کی Aachen یونیورسٹی کی تحقیق میں بتایا گیا کہ جب آپ سونے کے لیے دیر سے بستر پر جاتے ہیں تو اٹھنے پر خود کو زیادہ توانائی سے بھرپور پاتے ہیں اور آپ کے لیے نیند کے چکر کو مکمل کرنے کے لیے وقت زیادہ ہوتا ہے۔

دھیما مزاج:

ایک تحقیق کے مطابق رات گئے تک جاگنے والے افراد میں ذہنی تناو کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کی شرح صبح جلد اٹھنے والوں کے مقابلے یں کم ہوتی ہے، آسان الفاظ میں بستر پر دیر سے جانا دھیمے مزاج کی شخصیت کا باعث بھی بن سکتا ہے۔

ان کی تعداد زیادہ ہے:

اگر تو آپ رات گئے تک جاگنے کے عادی ہیں تو آج کے دور میں آپ اکثریت میں ہے، جرمنی میں ہونے والی ایک یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق اس وقت صرف دس فیصد کو علی الصبح جاگنے والے افراد سمجھا جاسکتا ہے، جبکہ بیس فیصد رات گئے تک جاگنے کے عادی ہوتے ہیں، باقی 70 فیصد کے سونے کے معمولات بدلتے رہتے ہیں اور وہ دونوں کیٹیگریز میں فٹ نہیں ہوتے۔

ذہنی تناو کا کم امکان

سننے میں متضاد لگے گا مگر رات گئے تک جاگنے والوں کے پاس ذہنی تناو میں کمی لانے والی سرگرمیوں کا حصہ بننے کے لیے زیادہ وقت ہوتا ہے۔ اب وہ یوگا کی مشقیں ہوں یا کچھ اور، وہ رات کا وقت ان سرگرمیوں کے لیے وقف کرسکتے ہیں جو شخصیت کو متوازن رکھنے میں مددگار ثابت ہو جو کہ ایک مثبت چیز ہے۔