سینیٹ انتخابات میں ثابت ہو گیا کہ انتخابات دولت کا کھیل ہے: سراج الحق

سینیٹ انتخابات میں ثابت ہو گیا کہ انتخابات دولت کا کھیل ہے: سراج الحق

راولپنڈی: امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن سینیٹ کے کامیاب امیدواروں کو بلا کر بیان حلفی لے کہ انہوں نے ووٹ نہیں خریدے۔ الیکشن کمیشن تماشائی بنا رہا تو عوام کا بیلٹ باکس سے اعتماد اٹھ جائے گا۔


راولپنڈی میں ذمہ داران کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیر جماعت اسلامی پاکستان سینیٹر سراج الحق نے کہا کہ سینیٹ انتخابات میں ثابت ہو گیا کہ انتخابات دولت کا کھیل ہے، جبکہ سیاست اور جمہوریت جاگیرداروں اور سرمایہ داروں کے گھر کی لونڈی ہے۔ سینیٹ کے انتخابات میں جن پر رشوت کے الزامات ہیں ، الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ ان الزامات کی مکمل انکوائری کرے اور پارلیمنٹ کو محض دولت مندوں کا اکھاڑہ بننے سے بچایا جائے۔

سینیٹر سراج الحق نے مزید کہا کہ ملک میں بادشاہت کے تحفظ کی بجائے اداروں کا استحکام ضروری ہے۔ پاکستان میں سیاست ذات سے شروع ہو کر ذات پر ختم ہو جاتی ہے اور حکمران قومی مفادات کی بجائے ساری عمر ذاتی مفادات کے پیچھے بھاگتے ہیں۔ ملک میں نظریاتی سیاست کی بجائے ذاتی مفادات کی سیاست کا چلن ہے جس میں عام آدمی کی بھلائی اور مفاد کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ عوام کے کندھے پر چڑھ کر اقتدار کے ایوانوں تک پہنچنے والے پانچ سال تک مڑ کر عوام کو نہیں دیکھتے اور نہ انہیں عوام کی پریشانیوں اور مسائل سے کوئی سروکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ ووٹ غریب کی طاقت ہے اس طاقت کے ذریعے ہی ستر سال سے مسلط ظالمانہ نظام سے نجات حاصل کی جاسکتی ہے۔ الیکشن میں ظالموں کو ووٹ دینے کا مطلب ان کے ظلم کا ساتھ دینا ہے۔ عوام جب تک اپنے حقیقی نمائندوں کو سامنے نہیں لائیں گے، ظالم جاگیردار اور بے رحم سرمایہ دار ان کی گردنوں پر مسلط رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تمام مسلکی مسائل کا حل اسلام کے عدل و انصاف کے نظام میں ہے۔ عوام 2018 ءکے انتخابات میں دیانتدار اور با کردار قیادت کا انتخاب کریں۔

مولانا عارف شیرازی اور سجاد عباسی نے بھی اجلاس سے خطاب کیا۔