عورت مارچ اور ہم

عورت مارچ اور ہم

پاکستان میں پہلی دفعہ 8 مارچ 2018ء کو عورت مارچ منایا گیا۔ اُس کے بعد ہر سال اِسی دن ہی پاکستان کے مختلف شہروں میں یومِ خواتین منایا جاتا ہے۔ عورت مارچ کی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو پتہ چلتا ہے کہ پہلی دفعہ 1908ء میں ایک فیکٹری کی خواتین نے نیویارک کی سڑکوں پر مارچ کیا۔ وہ بہتر تنخواہ، کمتر اوقاتِ کار اور ووٹ کے حق کا مطالبہ کر رہی تھیں۔ خواتین کی طرف سے اپنے حقوق کی یہ پہلی تگ ودَو تھی۔ اِس کے بعد یہ تحریک دنیا میں پھیلتی چلی گئی اور 1975ء میں اقوامِ متحدہ نے 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کی حیثیت سے تسلیم کر لیا۔ دسمبر 1977ء میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے عورتوں کے حقوق کا ریزولیوشن بھی پاس کر لیا جس میں یہ کہا گیا کہ ہرملک اپنی سہولت کے مطابق یہ دن کسی بھی تاریخ کو منا سکتا ہے۔ اب اقوامِ عالم میں 8 مارچ کو ہی عورتوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ 

خواتین کے حقوق کی اگر کوئی آواز اُٹھاتا ہے تو اِس پر تنقیدوتعریض بالکل غلط اور بے جاہے لیکن جب حقوق کی بات اخلاقی بندھن توڑ کر شتر بے مہار ہوجائے اور عقائدونظریات کا تمسخر اُڑایاجائے تو قابلِ قبول نہیں۔ ایک خاتون ہونے کے ناتے ہم خود عورتوں کے حقوق کی علمبردار ہیں لیکن دینِ مبیں کی حدودوقیود سے باہر ہرگز نہیں۔ جب ہم اپنے آپ کومسلمان کہلاتے ہیں تو پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ ہم واضح احکاماتِ ربی سے منحرف ہو جائیں۔ اہلِ مغرب نے تو آج عورت کے حقوق کی بات کی ہے لیکن اسلام تو یہ حقوق چودہ سو سال پہلے دے چکا۔تاریخ بتاتی ہے کہ اسلام کا نور پھیلنے سے پہلے عورت مظلوم اور عزت واحترام سے محروم تھی۔ اُسے قابلِ نفرت تصور کیا جاتا تھااور اگرکسی کے گھر میں بیٹی پیدا ہوجاتی تو وہ یا تو مُنہ چھپائے پھرتا یا پھر اُس معصومہ کو زندہ درگور کر دیتا۔ فرقانِ حمید میں اِس کا نقشہ یوں کھینچا گیا ہے ’’اور جب اِن میں سے کسی کو بچی کی ولادت کی خبر دی جاتی ہے تو اُس کا چہرہ سیاہ پڑ جاتا ہے اور وہ غصّے میں گھٹتا جاتا ہے۔ وہ اِس بُری خبر کے عار کی وجہ سے قوم سے چھپُتا پھرتا ہے۔ وہ (سوچتا ہے کہ) آیا اُس کو ذلت کی حالت میں لیے پھرے یا زندہ زمین میں دبا دے۔ خبردار! کتنا بُرا خیال ہے جو وہ کرتے ہیں‘‘ (سورۃ النحل 58،59)۔ ربّ ِ لَم یَزل نے سورۃ التکویر آیت 9 میں زندہ دفن کی جانے والی لڑکیوں کا انصاف اپنے ذمے لیتے ہوئے فرمایا ’’اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس قصور میں ماری گئی‘‘۔ گویا روزِ قیامت ایسا قبیح فعل کرنے والوں سے ضرور حساب لیا جائے گا اور ظاہر ہے کہ رَبّ ِ جباروقہار کی پکڑ بہت سخت ہے۔

 تقلیدِ مغرب کی علمبردار خواتین سے سوال ہے کہ کیا اُنہوں نے کبھی یہ سوچنے کی زحمت بھی گوارا کی کہ جتنے حقوق اسلام نے عورت کو دیئے ہیں اُتنے کسی مذہب نے دیئے اور نہ ہی کسی معاشرے نے۔ اگر بنظرِ غائر دیکھا جائے تو اسلام نے عورت اور مرد کو برابر حقوق دیئے ہیں البتہ جس طرح کوئی ریاست سربراہ کے بغیر مکمل نہیں ہوتی اُسی طرح گھرانے کی سربراہی مرد کو دی گئی ہے جسے اسلام نے قوام (نگہبان) مقرر کیا ہے۔ گویا گھر کی تمام تر ذمہ داری مرد کی ہے، وہی عورت کے نان ونفقہ اور بچوں کی پرورش کا ذمہ دار ہے۔ حتیٰ کہ اگر کوئی عورت صاحبِ جائیداد ہو اور معقول ذرائع آمدن بھی رکھتی ہو پھر بھی نان ونفقہ مرد ہی کے ذمے ہے۔ یہ اسلام ہی ہے جس نے عورت کو وراثت کا حق دیا۔ اب اگر خواتین اسلام کے عین مطابق اپنے حقوق کے لیے تگ ودَو کرتی ہیں تو بالکل بجا اور لائقِ تحسین لیکن جہاں دینِ اسلام اور شعائرِ اسلام کا مذاق اُڑایا جاتا ہو، وہاں قومی غیرت وحمیت کا جوش مارنا فطری ہے۔

حقیقت یہ کہ عورت مارچ کا مقصد تو عورتوں کو بنیادی حقوق دلوانا ہے نہ کہ عریانی، فحاشی اور بے حیائی پھیلانا۔ اگر عورت اسلامی جمہوریہ پاکستان میں یہ پوسٹر اُٹھائے نکلتی ہے کہ ’’اگر دوپٹہ اتنا پسند ہے تو آنکھوں پہ باندھ لو‘‘ تو اِس کا صریحاََ مطلب یہ ہے کہ عورت اِس حکمِ رَبی سے منحرف ہو چکی ’’اے نبی! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور مومنین کی عورتوں سے کہہ دیجیے کہ جب وہ باہر نکلیں اپنے سروں پر چاردیں اوڑھ لیا کریںتاکہ وہ پہچان لی جائیں اور ستائی نہ جائیں‘‘۔ ہمارا یہ مطلب ہرگز نہیں کہ ہم ہر عورت کو زبردستی دوپٹہ اوڑھا دیں، یہ اُس کا اور اُس کے رَب کا معاملہ ہے۔ ہمارا مطلب تو یہ ہے کہ اِس قسم کے بینرز لہرا کر دین کا مذاق اُڑانا کسی بھی صورت میں قابلِ قبول نہیں۔ اِسی طرح سے ناروے سے ’’میرا جسم میری مرضی‘‘ جیسا نعرہ چلا جسے ہماری حقوقِ نسواں کی علمبردار خواتین نے اپنا لیا۔ اب اگر اِس نعرے کی گہرائی میں جا کر دیکھا جائے تو سَر شرم سے جھک جاتے ہیں۔

 وہ دینِ مبیں جس میں پہلے مردوں کو حکم دیا جاتا ہے ’’مومن مردوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیںاور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں۔ یہ اُن کے لیے بہت پاکیزگی کی بات ہے اور اللہ اُن تمام باتوں سے بخوبی واقف ہے جو وہ کرتے ہیں‘‘ (سورۃ النور آیت 30)۔ پھر یہی حکم عورتوں کے لیے یوں ہوا ’’مومن عورتوں سے کہہ دیجئے کہ وہ اپنی نگاہیں نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور اپنی زینت کی نمائش نہ کریں سوائے اِس کے جو از خود ظاہر ہو‘‘ (سورۃ النور آیت 31)۔اِن واضح احکاماتِ ربی کے بعداِس قسم کے بینرز اور پوسٹرزکااُس مملکت میں لہرایا جانا جو اِس عہد کے ساتھ حاصل کی گئی کہ ہم اِسے اسلام کی تجربہ گاہ بنائیں گے، کسی بھی صورت قابلِ قبول نہیں۔یہ سوال اپنی جگہ کہ وہ ایسا کون سا حق ہے جو اسلام اور اسلامی جمہوریہ پاکستان کے آئین نے عورتوں کو نہیں دیا۔ پھر وہ مغرب زدہ این جی اوز کی ترغیب پر کون سا حق لینے نکلی ہیں؟۔ تسلیم کہ پاکستان میں آج بھی عورت کے ساتھ ہر ظلم روا رکھا جا رہا ہے۔ اُسے وراثت کے حق سے محروم کرنے کے لیے اُس کی (نعوذ باللہ) قُرآن سے شادی کر دی جاتی ہے لیکن یہ ایسے دور دراز علاقوں میں ہو رہا ہے جہاں اِن مغرب زدہ خواتین نے کبھی جانے کی زحمت ہی گوارا نہیں کی۔ جن بڑے شہروں میں انسانی حقوق کی علمبردار یہ خواتین بینرز لہراتی پھرتی ہیں، وہاں کی خواتین اپنے حقوق کو پہچانتی بھی ہیں اور اُن کی حفاظت کرنا بھی خوب جانتی ہیں۔ اگر اِن کے دلوں میں مجبورومقہور عورتوںکا اتنا ہی درد ہے تو پھر وہ اُن علاقوں میں جاکر آواز اُٹھائیں۔ اگر عورت کو اسلام اور آئینِ پاکستان کے مطابق حق نہیں مل رہا تو یہ قصور حکمرانوں کا ہے۔ 

اب آخر میں کچھ ملکی حالات کے بارے میں جنہیں دیکھ اور سُن کر وسوسے دامن گیر ہوتے ہیں۔ ہم نے مارشلائی ادوار بھی دیکھے اور جمہوریتوں کا مزہ بھی چکھا لیکن اِس میں کوئی شک نہیں کہ کسی بھی دَورِحکومت میں ملک وقوم کی بہتری لائقِ تحسین نہیں رہی۔ اِس میں بھی کوئی شک نہیں کہ جس دَورِ حکومت کی کارستانیوں کو عوام اب بھگت رہے ہیں، وہ ناقابلِ یقین۔ ’’پنبہ کُجا کُجا نہم‘‘ کے مصداق کس کس کا رونا روئیں، مہنگائی کا یا افراتفری کا، ناکام ترین خارجہ پالیسی کا یا بَدترین داخلہ پالیسی کا، دہشت گردی کا یا سرِعام ڈاکوں کا، ڈوبتی معیشت کا یا قرضوں کے بوجھ تلے دَبے عوام کا، آئی ایم ایف کے پاس گروی رکھے وطنِ عزیز کا یا اپنی شہ رَگ کو مودی کے حوالے کرنے کا۔ اب ساڑھے تین سال بعد جب ملک دیوالیہ ہونے کے قریب ہے تب اپوزیشن کو بھی ہوش آیا لیکن اِس ہوش میں بھی جوش کی کمی ہے کیونکہ اپوزیشن کی ہر سیاسی جماعت کا اپنا اپنا ایجنڈا ہے جس پر تاحال تو اتفاق ہو نہیں سکا۔ یہ ضرور کہ ساری اپوزیشن اِس نکتے پر متفق ہے کہ عمران خان کو اب گھر جا کر استراحت فرمانی چاہیے۔ یہ بھی عین حقیقت کہ اپوزیشن کے پاس عدم اعتماد کے لیے نمبر پورے ہیں لیکن یہاں بھی مسئلہ یہ آن پڑا کہ اپوزیشن کی دو بڑی جماعتوں میں سے نوازلیگ عدم اعتماد کی کامیابی کے فوراََ بعد نئے عام انتخابات کا ڈول ڈالنا چاہتی ہے جبکہ پیپلزپارٹی اگلے ڈیڑھ سال تک سندھ حکومت سے چمٹے رہنے کی تگ ودَو میں ہے۔ اُدھر عمران خاں جو اپوزیشن تو کُجا، اپنوں سے بھی ہاتھ ملانے کے روادار نہیں تھے، اب دَر دَر کے بھکاری ہیںجس سے یہ عیاں کہ اب اُن کے سَر سے اسٹیبلشمنٹ کا دستِ شفقت اُٹھ چکا۔

مصنف کے بارے میں