شام میں امن معاہدے کے کچھ دیر بعد ہی پھر جھڑپیں شروع ہو گئیں

دمشق : شام میں محفوط علاقو ں کے قیام کا معاہدہ کیا گیا تھا جس کے کچھ ہی دیر بعد انسانی حقوق ک کارکنوں نے ان علاقو ں میں فائرنگ اور شیلنگ کی آوازیں کی اطلاعات دی ہیں۔اس سے پہلے شام میں محفوظ زونز بنانے کے حوالے سے روس کی جانب سے اعلان کردہ ایک معاہدے پر عمل درآمد شروع کیا گیا تھا۔ معاہدے کے مطابق ان علاقوں میں حملے نہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
چار محفوظ رونز کا یہ معاہدہ روس اور ایران کے درمیان جمعرات کو قزاقستان میں طے پایا۔ یاد رہے کہ روس اور ایران دونوں ہی صدر بشار الاسد کے حمایتی ہیں۔اس معاہدے میں ضامن کا کردار ادا کرنے کے لیے ترکی نے حامی بھری ہے۔
روس کا کہنا کہ امریکہ، اقوام متحدہ اور سعودی عرب بھی اس معاہدے کی حمایت کرنے کا کہا ہے۔تاہم شام میں باغی فورسز کے کچھ نمائندوں نے اس معاہدے پر غصے کا اظہار کیا ہے۔ روسی نائب وزیرِ دفاع نے کہا کہ محفوظ زونز میں تمام جانب سے حملے رات بارہ بجے تک رک جانے چاہییں۔اس معاہدے کا مقصد ’مہاجرین کی باحفاظت واپسی کا ممکن بنا نا ہے تاکہ لوگوں کو محفوظ راستہ دیا جائے