881 غیر قانونی بھرتیاِں: سندھ پولیس کی تاریخ کے سب بڑے کرپشن ریفرنس کی سماعت

کراچی: نیب عدالت میں سندھ پولیس کے کرپشن ریفرنس کی سماعت ہوئی۔  سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی، سابق اے آئی جی فنانس فدا حسین شاہ، ایاز حسین میمن، عبدالرزاق، سمیت آٹھ ملزم پولیس افسران عدالت میں پیش ہوئے۔  نیب نے اس حوالے سے اپنی رپورت عدالت میں جمع کروا دی ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ پولیس افسران نے محکمہ میں 881 غیر قانونی بھرتیاِں کیں۔

سندھ پولیس کی تاریخ کے سب سے بڑے کرپشن ریفرنس کی سماعت کے دوران سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی، سابق اے آئی جی فنانس فدا حسین شاہ، ایاز حسین میمن، عبدالرزاق، غلام نبی کریو سمیت آٹھ ملزم پولیس افسران پیش ہوئے۔ ملزموں کے وکلا نے دستاویزات کی فراہمی کے خلاف سے متعلق مزید اعتراضات لگا دیے۔عدالت نے ریفرنس سے متعلق ملازموں کو مکمل دستاویزات فراہم کرنے کا حکم دے دیا۔سابق آئی جی سندھ غلام حیدر جمالی سے سمیت آٹھ پولیس افسران پر بیس مئی کو فردجرم عائد کی جائے گی،۔ نیب کے مطابق پولیس افسران نے محکمہ میں 881 غیر قانونی بھرتیاِں کیں،بھرتیاں ایس آر پی حیدرآباد کے لئے کی گئیں.جعلی بھرتیوں کے ذریعے 50 کروڑ 46 لاکھ 61 ہزار 664 روپے قومی خزانے سے لوٹ لئے گئے. نیب کا مزید کہنا تھا کہ بھرتیاں کانسٹیبلز، کمپیوٹر آپریٹراور دیگر عہدوں پر کی گئیں.

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے معاملے کا میڈیا رپورٹس پر نوٹس لیا تھا۔ ملزمان کے خلاف اختیارات کے ناجائز استعمال، کرپشن، اقرباء پروری اور دیگر دفعات کے تحت ریفرنس دائر کیا گیا ہے۔تمام ملزمان نے ہائی کورٹ سے عبوری ضمانت حاصل کررکھی ہے۔سابق آئی جی غلام حیدر جمالی اور دیگر پولیس افسران پر کرپشن کے دیگر ریفرنسز بھی زیر سماعت ہیں۔

مصنف کے بارے میں