نیو یارک:جدید ٹیکنالوجی کے آتے ہی ہر کسی نے اسے ایسا اپنایا کہ اب اس کے بغیر رہنا ممکن نظر نہیں آتا ۔کہا یہ جاتا تھا کہ موبائل فونز یعنی اسمارٹ فونز کے استعمال اور اس میں موجود اپلیکیشنز کے استعمال سے بچوں میں نیند کی کمی اور بے چینی بڑھ رہی ہے اس کے علاوہ ان میں بہت سے دوسری نفسیاتی بیمریوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے  جس کی بنیادی وجہ زیادہ دیر تک اسمارٹ فونز کا استعمال تھا۔لیکن حال ہی میں کی گئی ایک تحقیق کے مطابق اسمارٹ فون ایپلیکیشنز ذہنی الجھن اور تنائو میں کمی کا باعث بنتی ہیں۔

سائنس جرنل افیکٹو ڈس آرڈر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق یونیورسٹی آف مانچسٹر، ہاورڈ یونیورسٹی، یونیورسٹی آف میلبورن اور آسٹریلیا کے بلیک ڈاگ انسٹی ٹیوٹ کی جانب سے مشترکہ طور پر کیے جانے والے ایک سروے سے پتہ چلا کہ اسمارٹ فونز کی ایپلی کیشنز بے چینی اور ذہنی الجھن کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ماہرین نے بے چینی یا پریشانی میں مبتلا رہنے والے 2 ہزار افراد کا اسمارٹ فونز کی ایپلی کیشن کے استعمال کے حوالے سے تجربہ کیا۔

ماہرین نے تمام افراد کو مختلف موبائل فون ایپلی کیشنز استعمال کرنے کے لیے کہا، جب ان افراد کا ایپس کو استعمال کرنے کے بعد جائزہ لیا گیا تو ان کی بے چینی میں قدرے کمی واقع ہوچکی تھی اور انہوں نے خود کو پرسکون محسوس کیا۔

لیکن یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ماہرین نے کسی بھی مخصوص ایپلیکیشن کا نام نہیں لیا تا ہم ان کا یہ کہنا تھا کہ مسقبل میں ایپلیکیشنز کی مدد سے اس ضمن میں مزید ترقی ہو سکتی ہے۔