مقبوضہ کشمیر : بھارتی فورسز کا ہندواڑہ میں طلبہ کیخلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال

سرینگر: مقبوضہ کشمیر میں قابض بھارتی فورسز نے ہندواڑہ میں طلباء کے خلاف طاقت کا وحشیانہ استعمال کرتے ہوئے بیسیوں طلباء کو زخمی کر دیا ہے۔ زخمیوں میں سے ایک طالبہ کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے جسے علاج کے لیے سرینگر کے ایک ہسپتال میں منتقل کیا گیا ہے۔

ہندواڑہ ڈگری کالج کے طلباء نے پلوامہ اور دیگر علاقوں میں طلباء کی گرفتاری اور ان پر تشدد کے خلاف قصبے میں ایک احتجاج ریلی نکالنا چاہی لیکن علاقے میں تعینات بھارتی فوجیوں اور پولیس اہلکاروں نے انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کی شدید شیلنگ کی جسکے سبب بیسیوں طلباء زخمی ہوگئے۔

بتایا جاتا ہے کہ ریلی میں طالبات کی بھی ایک بڑی تعداد شریک تھی اوران میں سے بھی کئی زخمی ہوئی ہیں۔سرینگر سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روز نامے ''رائزنگ کشمیر '' کی رپورٹ کے مطابق طلبہ نے کالج کے احاطے سے باہر آنے اور قصبے کے مرکزی چوک کی طرف مارچ سے پہلے کالج کے انتظامیہ بلاک کی عمارت پر پاکستانی جھنڈ ا بھی لہرا۔

آخری اطلاعات ملنے تک بھارتی فورسز اہلکاروں اور طلبہ کے درمیان جھڑپوں کا سلسلہ جاری تھا۔ یاد رہے کہ بھارتی فورسز نے گزشتہ ماہ 15اپریل کو گورنمنٹ ڈگری کالج پلوامہ میں گھس کر طلباء کو سخت مارپیٹ کا نشانہ بنایا تھا جس میں 60کے لگ بھگ طلباء زخمی ہو گئے تھے جس کے خلاف مقبوضہ وادی کے اطراف و اکناف میں طلباء و طالبات کے مظاہرے پھوٹ پڑھے جنکا سلسلہ اب تک جاری ہے۔

اس دوران بھارتی فورسز کے ہاتھوں اب تک سینکڑوں طلبہ زخمی ہو چکے ہیں۔

مصنف کے بارے میں