نئی دہلی: انڈیا کے دارالحکومت دلی میں پولیس کے مطابق ایک سکول میں زہریلی گیس سے متاثرہ ہونے والی کم از کم 200 بچیوں کو ہسپتال میں داخل کروانا پڑا ہے۔طالبات نے گلے میں خراش اور آنکھوں میں جلن کی شکایت کی تھی۔

اطلاعات کے مطابق ایک سلینڈر سے لیک ہونے والی گیس کلورو میتھائیل پائیریڈین تھی جسے کیڑے مار دوا بنانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔تغلق آباد کے علاقے میں موجود اس سکول کو خالی کروا لیا گیا اور کہا جا رہا ہے کہ بچوں کی زندگیوں کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔دلی کے چیف فائیر افسر اتل گارگ نے کہا کہ آگ بھجانے والے دو ٹرک اور خطرناک مادوں سے نمٹنے کے لیے مخصوص وین امدادی ٹیم کے ہمراہ اس سرکاری سکول میں فورا بھجوا دی گئیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 'رانی جھانسی سکول کی طالبات اور سٹاف ممبران سے سکول خالی کروایا لیا گیا اور پورے علاقے کا محاصرہ کر لیا گیا ہے۔'دلی پولیس اور انڈیا کی نیشنل ڈیزاسٹر رسپانس فورس کیمیائی مادہ کی نشاندہی کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔پولیس ڈپٹی کمیشنر رومیل بانیا نے صحافیوں کو بتایا کہ '200 بچیوں کو 4 مختلف ہسپتالوں میں داخل کیا گیا ہے اور کسی کی حالت تشویشناک نہیں ہے۔ حالات اب معمول پر آگئے ہیں۔'

انڈیا کے وزیر صحت نے اپنی ایک ٹویٹ میں متاثرین کے لیے دعائیہ پیغام دیا اور کہا کہ ہسپتال امدادی کارروائی کے لیے تیار ہیں۔انڈیا میں گیس لیکس کوئی غیر معمولی بات نہیں اور اکثر حفاظتی اقدامات کی باقاعدہ پابندی نہ کرنا ایسے حادثات کی وجہ بنتی ہے۔

2014 میں انڈین ریاست چھتیس گڑھ میں انڈیا کے سب سے بڑے سٹیل پلانٹ سے زہریلی گیس پھیلنے سے 6 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ 1984 میں بھوپال میں زہریلی گیس لیک ہونے سے کم از کم 25000 افراد ہلاک ہوئے اور اسے صنعتی دنیا کا بدترین حادثہ سمجھا جاتا ہے۔

مصنف کے بارے میں