وفا پرست جہانِ وفا کو لے ڈوبے
عجیب بات ہے بندے خداکو لے ڈوبے
چودھری نثار علی خان نے اپنی وفائیں گنوائیں۔ کہا ”نوازشریف اور ان کے خاندان کا بوجھ کاندھوں پر اُٹھایا اب پانی سر سے گزرنے والا ہے۔“ یہ جو گزرنے والا ہے، اس پر آخری سطور میں بات ہوگی۔ چودھری نثار کی چارج شیٹ پہلے دیکھ لی جائے۔
”نوازشریف کو کہا پانامہ کیس عدالت میں نہ لے جاﺅ، قومی اسمبلی میں تقریر نہ کرو، جے آئی ٹی کو تسلیم نہ کرو۔ پھر سب کرلیا تو فیصلہ قبول کرو۔ ججوں پر تنقید نہ کرو اس لیے کہ ریلیف انہوں نے ہی دینا ہے۔ فوج پر بات نہ کرو۔ ماضی میں جو ہوا وہ فوج نے نہیں کیا اس وقت کی فوجی قیادت نے کیا۔ خلائی مخلوق کی بات کرنا ایک اور ڈان لیکس ہے۔ کیا آپ پہلے نظریاتی تھے یا اب نظریاتی ہیں؟ اب ہیں تو پہلے کیا تھے؟ کیا یہ اچکزئی والے نظریاتی تو نہیں؟“
غور کیا جائے تو چارج شیٹ ان چارج شیٹس سے ذرا مختلف نہیں جو ہر قابل جرنیل اقتدار میں آتے ہی پڑھتا ہے۔ مطلب سمجھئے۔ نوازشریف کی کوئی سیاسی بصیرت نہیں اس نے نہیں بھانپا کہ سپریم کورٹ میں جانے کے کیا نتائج نکلیں گے اور پھر جو بعد میں کرنا تھا وہ بھی نہ کیا۔ دراصل وہ ایک بصیرت والا لیڈر ہی نہیں۔ محض پارٹی سربراہ ہے۔
ججوں پر تنقید اس لیے نہ کرو کہ ان کے ہاتھ میں ترازو ہے۔ بُرا مان جائیں گے اور ترازو پھیر دیں گے یہی مطلب لگتا ہے اس سے۔ ایک اصول پرست سیاست دان اپنی عدلیہ اور ججوں سے اگر یہی توقع رکھتا ہے تو اسے کیا چپ رہنے کا مشورہ دینا چاہیے۔ کیا اس کو اس پر صدائے احتجاج بلند نہیں کرنی چاہیے۔ اس لیے نوازشریف کو نہیں بولنا چاہیے کہ سامنے جج ہیں اور وہ غصے میں آجائیں گے کیا ججوں کو غصّے میں آنا چاہیے....؟ دیانت دار، ایمان دار چودھری نثار! آپ کو یہ زیب دیتا ہے کیا؟

فوج نے جو کیا وہ فوج نے نہیں کیا۔ یہ بات کب تک سنائیں گے آپ؟ آپ جیسے ذہنی فوجی.... بھئی فوج نے ایک بار کیا ہو تو ٹھیک .... دو نہیں.... تین نہیں .... بار بار کیا۔ کب نہیں کیا....؟
خلائی مخلوق کو خلائی مخلوق نہ کہیں۔ جگ ہنسائی ہورہی ہے۔ تو خلائی مخلوق خود کو تبدیل کیوں نہیں کرلیتی۔ کیا جگ یہ سب نہیں جانتا۔ کس سے چھپا رہے ہو۔ کس سے پردہ داری ہے۔ اگر اتنا ہی خیال ہے بیرونی دنیا اور اپنی ساکھ کا تو دوسری طرف مشورہ دے ڈالیے۔
حقیقتِ احوال کچھ یوں ہے کہ چودھری نثار نے جو وفائیں گنوائی ہیں، اس کو وہ پہلے بھی بیچ چکے۔ اب پھر وفا برائے فروخت کا بورڈ لگا کر اس وقت بیٹھ گئے جب جہاز ڈولتا دیکھا۔ کیا پرویز مشرف کو آرمی چیف، چودھری نثار نے اپنی وفاﺅں کے عوض نہیں لگوایا تھا؟ وہ الگ بات ہے اس نے بھی انہیں چکر باز کہہ دیا تھا۔ کیا جاوید ہاشمی کی جگہ جب آپ کو لیڈر آف دی اپوزیشن بنایا گیا تو یہ آپ کی وفاﺅں کا صلہ نہ تھا؟ وزیر داخلہ بنایا اور وہ بھی اپنی من مرضی والا وزیر داخلہ تو یہ بھی وفاﺅں کی قیمت نہیں تھی؟
اور یہ بھی بتائے دیتے ہیں کہ جب نوازشریف اٹک قلعے میں تھے تو کلثوم نواز آپ کے پاس آئیں اور درخواست کی کہ میرے ساتھ نوازشریف سے ملنے کے لیے چلیں۔ آپ نے وعدہ کیا لیکن ساتھ نہ گئے اور بیماری کا بہانہ بنایا۔ وہ جب اٹک پُل پہ جارہی تھیں تو آپ سامنے سے ایک گاڑی پر آرہے تھے۔ اس سب کچھ کے باوجود آپ کو نوازشریف نے ساتھ رکھا۔ شاہد خاقان عباسی آپ کو اچھے نہیں لگتے۔ شریف فیملی کی جلاوطنی کے دوران اس کی وفا دیکھئے اور ذرا اپنی ادا بھی۔ جنرل پاشا سے تعلق کو آپ نے خوب نبھایا۔ آپ نے کون سی کسر چھوڑی؟ پنڈی اسلام آباد کے واقفانِ حال سب صحافی سب جانتے ہیں۔
جے آئی ٹی کے بریگیڈئیر ہی تو جے آئی ٹی کی جان تھے۔ آرمی چیف نے خود بتایا کہ انہوں نے اصولی فیصلہ کیا کہ اُن کے افسر جے آئی ٹی کا حصہ رہیں گے۔ خیال تو یہ تھا کہ نوازفیملی کے خلاف یہ دو سُپر اسٹار وہ کچھ لے آئیں گے جو کسی نے دیکھا نہ ہوگا اور شریف فیملی نے سوچا نہ ہوگا۔ لیکن نکلا کیا چند فوٹو کاپیاں۔ آج ان دو سُپر اسٹار سمیت پوری جے آئی ٹی کی تفتیش کی فیتیاں اُڑ رہی ہوتی ہیں احتساب عدالت میں۔
چودھری صاحب! اصل بات بتائے دیتے ہیں۔ آپ ہی وہ ”آزا دگھوڑے“ ہیں جس پر سب سے بڑی بازی لگائی جارہی ہے۔ آپ چاہتے تھے کہ براہِ راست مرکزی قیادت آپ کے بیانات کے نتیجے میں آپ کو نشانہ بنائے اور آپ دو حرف اور ایک ٹانگ رسید کرکے ایک طرف کھڑے ہوجائیں۔ لیکن ہیں وہ بھی بڑے سیانے۔ کہتے ہیں ناں کہ گھر کے .... کے دانت نہیں گنے جاتے۔ آپ تو اگلے آزاد سیٹ اپ میں وزیر اعظم کے امیدوار ہیں۔ اگر وہ نہ ہوا تو پنجاب کی وزارت اعلیٰ تو کہیں گئی نہیں۔
آپ تو بروکر بننا چاہتے تھے وہ بھی نوازشریف کو خاموش کرانے کی حد تک۔ تاکہ پنڈی کو مزید خوش کرسکیں۔ انہوں نے آپ کا سودا خریدا نہیں۔ گذشتہ دنوں جب آپ لاہور گئے تھے، آپ نے نوازشریف سے ملنا چاہا۔ شہبازشریف نے ملوانا چاہا لیکن نوازشریف نے نہ ملنا چاہا۔
پھر شہبازشریف آپ کو پنڈی ملنے آئے اور کہا کہ آئیں چودھری صاحب، رسمِ زمانہ بھی ہے، دستور بھی۔ لندن میں بیگم کلثوم نواز کی تیمارداری کے لیے میرے ساتھ چلئے۔ میاں نوازشریف بھی وہاں ہیں۔ ملاقات بھی ہوجائے گی۔ لیکن آپ کو اجازت نہ ملی۔
اب آپ نے کہا ہے کہ پانی گزرنے والا ہے۔ یہ بھی دراصل آپ کی طرف سے ہوگا یعنی یک طرفہ۔ یہ شعر آپ کی نذر ہے:
یہ کالی کالی گھٹا جو برسنے والی ہے
مزہ تو جب ہے کسی پارسا کو لے ڈوبے

میاں طاہر کالم نگار اور بلاگر ہیں ،ؐمختلف انداز میں لکھنا ان کی خوبی ہے ۔

(ادارے کا بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں)