آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جلد یو اے ای منتقل کرے، عاقب جاوید کا مطالبہ

 آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جلد یو اے ای منتقل کرے، عاقب جاوید کا مطالبہ
سورس:   فائل فوٹو

لاہور: سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جلد متحدہ عرب امارات (یو اے ای) منتقل کرنے کا اعلان کرے۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے آئی سی سی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ جلد یو اے ای منتقل کرنے کا اعلان کرے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت میں کورونا کی موجودہ صورت حال اور آئی پی ایل ملتوی ہونے کے بعد یہاں میگا ایونٹ ہرگز نہیں کرانا چاہیے۔ خوف کی فضا سے سب کو نکالنے کے لیے جتنی جلدی ممکن ہو اور ورلڈ کپ کو یہاں سے شفٹ کر دینا چاہیے۔ یواے ای کے پاس موجود بہترین انفراسٹرکچر کا مقابلہ دوسرے ممالک سے کیا جائے تو اس میں زمین اور آسمان کا فرق نظر آتا ہے۔ وہاں بہترین ماحول اور انتظامات میں  ورلڈکپ کو کامیابی سے کرایا جا سکتا ہے۔

عاقب جاوید نے واضح کیا کہ یو اے ای میں ٹی ٹین لیگ کو جس  طرح محفوظ طریقے سےکرایا گیا، وہ اپنی مثال آپ ہے،اسی فارمولے کے تحت  آئی سی سی ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ بھی باآسانی کرواسکتی ہے۔ لاہور قلندرز کےڈائریکٹر ڈویلپمنٹ اور کوچ پی ایس ایل کے بائیو اسکیور ببل انتظامات پر بھی غیر مطمن نظر آئے، ان کا کہنا تھا کہ جب پہلی مرتبہ پی ایس ایل کو کورونا کی وجہ سے ملتوی کیاگیا، اس وقت سے لے کر ابھی تک شاید پی سی بی نے کچھ نہیں سیکھا۔ ہوٹل، گراونڈ،اسٹاف، کھلاڑی، ٓآفیشلز، بس ڈائیورزسمیت ہر شخص کو اس بائیو ببل سے باہر نہیں جانا چاہیے، ہوٹلز میں صرف ٹیموں کو ٹھہرانا چاہیے، وہاں کوئی غیر متعلقہ شخص موجود نہ ہو۔  ایک دفعہ جب تمام چیزیں سیٹ ہوجاتی ہیں تو پھر باہر سے کسی کو اس مخصوص ماحول میں اندر آنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ اگر پاکستان کرکٹ بورڈ بائیو سکیورببل کے انتظامات کو سو فی صد یقینی بنانے میں کامیاب ہوجاتا ہے تو پھر پی ایس ایل کو کرانے میں حرج نہیں۔

عاقب جاوید کے مطابق لاہور قلندرز کی ٹیم کوراشد خان کی عدم موجودگی کا بہت نقصان ہوگا،اس کا متبادل تو کوئی ہے ہی نہیں اور زبردست فنشر ڈیوڈ ویزے کی بہت کمی محسوس ہو گی،سمت پیٹل، ڈینلی بھی بہت اچھے ہیں۔ نئی ڈرافٹنگ میں ہم نے شکیب الحسن کو لیا ہے کیونکہ وہ پانچویں یا چھٹے نمبر پر بہتر پرفارمنس دے سکتے ہیں۔ سمت اور ڈیوڈ کے کومبو کو شکیب الحسن پورا کر سکتے ہیں۔ فرگونس اور بن ڈنک بھی دسیتاب ہوں گے۔ ہماری اصل قوت بولنگ ہے جس کو بنانے میں ایک عرصہ لگا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاہور قلندر کے پاس شاہین، حارث، دلبر، دانیال کی موجودگی میں جس طرح کا کمبی نیشن ہے وہ کسی اورکے پاس نہیں۔ شکیب اور حفیظ کی صورت میں اچھا سپن کمبی نیشن ہے۔ پاکستان کے ٹاپ تھری بیٹسمنیوں میں سے فخر زمان اور حفیظ ہماری ٹیم کا حصہ ہیں اور ان کے ساتھ کپتان سہیل اخترکسی بھی ٹیم کے خلاف زبردست پرفارمنس دے کر میچ کا پانسہ پلٹ سکتے ہیں۔