پیراڈائز لیکس، شوکت عزیز بھی آف شور کمپنی مالکان کی فہرست میں شامل

پیراڈائز لیکس، شوکت عزیز بھی آف شور کمپنی مالکان کی فہرست میں شامل

لاہور: انٹر نیشنل کنسورشیم آف انوسٹی گیشن جرنلسٹس نے پاناما پیپرز جاری کرنے کےایک سال بعد اپنا اگلا منصوبہ پیراڈائز پیپرز کے نام سے جاری کر دیا ہے جس میں پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز سمیت برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ، امریکی وزیرخارجہ ریکس ٹلرسن کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔


13.4 ملین دستاویزات میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور روس کے تعلقات کو بھی عیاں کر دیا ہے جبکہ کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو کے چیف فنڈ ریزر سمیت دنیا بھر سے 120 سیاست دانوں کے نام آف شور کمپنیوں کے مالکان کے طور پر آیا ہے۔

آئی سی آئی جے کی جانب سے آف شور کمپنیوں کے مالکان کے حوالے سے جاری نئی دستاویزات میں پاکستان کے سابق وزیراعظم شوکت عزیز کے علاوہ دنیا کے چند بڑے ممالک کے سابق حکمرانوں سمیت ملکہ برطانیہ ایلزبیتھ اور اردن کی سابق مکلہ کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے مشرف دور کے وزیراعظم شوکت عزیز کا نام بھی سامنے آیا اور ان کی کمپنی کو برمودا سے چلایا جا رہا تھا جبکہ سابق وزیراعظم کی اہلیہ اور بچے بینیفشری اونر تھے۔

شوکت عزیزنے 1999 میں پاکستان کے وزیر خزانہ مقرر ہونے سے قبل دو کمپنیاں بنائیں۔ انھوں نے انٹارکٹک ٹرسٹ کے نام سے کمپنی امریکا میں بنائی تھی جس کا بنیفیشل اونر ان کے اہل خانہ کو مقرر کیا گیا تھا جس میں ان کی اہلیہ، بچے اور ایک پوتی شامل ہیں۔

شوکت عزیز کو بعد ازاں پاکستان کا وزیراعظم مقرر کیا گیا تھا لیکن انھوں نے 2003 سے 2006 کے دوران بطور اسمبلی کے رکن اپنے کاغذات میں مالی گوشواروں میں شامل نہیں کیا تھا۔

وہ 2004 سے 2007 تک پاکستان کے وزیراعظم رہے جبکہ اس سے قبل وہ وفاقی وزیر خزانہ کے طور پر کام کرتے رہے تھے۔

شوکت عزیز کے علاوہ نیشنل انشورنس کارپویشن لمیٹڈ کے سابق ڈائریکٹر ایاز خان نیازی کا نام بھی سامنے آیا ہے جن کی جانب سے دو آف شور کمپنیاں بنائی گئی ہیں۔

آئی سی آئی جے کے نئے پیپرز میں برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ کی آف شور کمپنیاں بھی نکل آئی ہیں۔ ملکہ ایلزبتھ نے آف شور کمپنیوں میں کروڑوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔ پیراڈائز پیپرز میں سب سے زیادہ نام امریکا سے سامنے آئے ہیں جہاں امریکی حکومت کے اہم وزرا کے نام شامل ہیں۔

فہرست میں امریکی گلوکارہ میڈونا کے علاوہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 13 قریبی ساتھیوں کے نام بھی سامنے آ گئے ہیں جن میں ٹلرسن کے علاوہ سیکریٹری آف کامرس ولبر لوئس روز جونیئر نمایاں ہیں۔ پیراڈئز پیپرز میں اردن کی ملکہ نورالحسین 2 کمپنیوں کی ٹرسٹ کی بینفشری مالک ہیں۔ آئی سی آئی جے کی جانب سے جاری آف شور کمپنی مالکان کی فہرست میں ملکہ برطانیہ اور امریکی وزیر خارجہ کے علاوہ کینیڈا کے سابق چار وزرا اعظم سمیت ترکی، بھارت، انڈونیشیا اور سوڈان سے تعلق رکھنے والے افراد کے نام بھی شامل ہیں۔

انڈونیشیا کے سابق صدر سہارتو، شام کے صدر بشارالااسد، اردن کی ملکہ نورالحسین، بھارت کے رکن اسمبلی رویندر کشور سنہا، بھارت کے سول ایوی ایشن کے وزیر جیانت سنہا اور ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نمایاں ہیں۔ پیراڈائز پیپرز میں دنیا کے مشہور کھلاڑیوں، گلوکاروں اور کاروباری شخصیات کے علاوہ دنیا کی مشہور کمپنیوں کے نام بھی سامنے آئے ہیں۔

ان کمپنیوں میں ایپل، نائیکی، اوبر اور دیگر بین الاقوامی کمپنیوں ںے ٹیکس سے بچنے کے لیے اس قانون کا سہارا لیا۔ پیراڈائز پیپرز کو جرمن اخبار نے حاصل کیا اور آئی سی آئی جے اور 67 ممالک کے 380 سے زائد صحافیوں کے نیٹ ورک کو دکھائے۔ یہ دستاویزات آف شور کمپنیوں کے حوالے سے خدمات دینے والی دو کمپنیوں مذکورہ ملک کی 19 کارپوریٹ رجسٹریز سے حاصل کی گئیں۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں