عرب فوجی اتحاد نے یمن کی بری، بحری اور فضائی حدود بند کردیں ہیں

عرب فوجی اتحاد نے یمن کی بری، بحری اور فضائی حدود بند کردیں ہیں

جدہ:سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے تشکیل دیئے گئے عرب فوجی اتحاد نے عارضی طور پر یمن کی بری، بحری اور فضائی حدود بند کردی ہیں۔


تفصیلات کے مطابق عرب اتحاد کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ یمن کی زمینی، فضائی اور بحری حدود کی بندش کا فیصلہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب باغیوں نے دو روز قبل سعودی عرب پر ایران کا فراہم کردہ ایک بیلسٹک مزائل حملہ کیا تھا۔ اگرچہ اس حملے کو ناکام بنا دیا گیا تھا مگر اس کے بعد عرب اتحاد نے یمن کے باغیوں کی طرف سے مزید حملوں سے بچنے کے لیے سرحد سیل کردی ہے۔

بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا بھرپور حق حاصل ہے۔ کسی ملک کو سعودی عرب کی سرزمین اور قوم کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ اقوام متحدہ کے چارٹر 51 کے تحت عرب اتحاد نے عارضی طور پر یمن کی بری، بحری اور فضائی حدود بند کردی ہیں۔

بیان میں حوثیوں کے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملے کو ایران کی طرف سے مملکت پر براہ راست حملہ اور جنگ قرار دیا ہے۔عرب اتحاد نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ یمن سے متعلق قرارداد 2216 پر عمل درآمد کرتے ہوئے حوثی باغیوں کے خلاف فوری کارروائی کرے

قبل ازیں عرب اتحاد کے ترجمان کرنل ترکی المالکی نے ایک پریس کانفرنس کے دوران الزام عاید کیا تھا کہ ایران اور حزب اللہ یمن کے حوثی باغیوں کو بیلسٹک میزائل، اسلحہ اور جنگی مہارت فراہم کرتے ہیں۔