گرفتار شدہ سعودی شہزادوں اوروزراءکی ناموں کی فہرست جاری

ریاض:سعودی عرب میں جاری کرپشن مخالف مہم کے تحت گرفتار شد ہ سعودی شہزادوں اوروزراءکی ناموں کی فہرست جاری کر دی گئی ہے۔


تفصیلات کے مطابق وزارت اطلاعات و نشریات نے بتایا ہے کہ مملکت کی تاریخ میں بے نظیر انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11شہزادوں ، 4موجودہ وزراءاور دسیوں سابق وزراءنیز سرمایہ کاروں کو حراست میں لیا گیاہے۔ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی جانب سے انسداد بدعنوانی اعلیٰ کمیٹی کی تشکیل کے چند گھنٹے بعد ہی بدعنوانی میں ملوث شخصیات کو حراست میں لے لیا گیا۔

کرپشن کیخلاف قائم کی گئی کمیٹی کا سربراہ ولی عہد شہزاد ہ محمد بن سلمان کو بنایا گیا ہے۔ انسداد بدعنوانی مہم کے تحت 11شہزادے اور 38موجودہ اور سابق وزراءاور نائبین حراست میں لئے گئے۔ اس اقدام نے بدعنوانی اور رشوت کا لین دین کرنے والے مافیا کے ایوانوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔

شاہ سلمان کے اس اعلان نے کہ وہ بدعنوانی کی بیخ کنی اصلاح کی تلوار سے کرینگے اور انکے اس عزم نے کہ ہم اللہ کے معاملے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کو خاطر میں نہیں لائیں گے اوریہ کام غیر متزلزل عزم اور پختہ ارادے کے ساتھ انجام دینگے۔ معاشرے میں اطمینان کی لہر دوڑا دی۔ حراست میں لی جانے والی مندرجہ ذیل شخصیات کے نام سامنے آچکے ہیں

ان میں شہزادہ ولید بن طلال

شہزادہ متعب بن عبداللہ

شہزادہ ترکی بن عبداللہ(سابق گورنر ریاض)

شہزادہ ترکی بن ناصر (سابق سربراہ محکمہ موسمیات)

شہزادہ فہد بن عبداللہ بن محمد (سابق نائب وزیر دفاع)

خالد التویجری(سابق سربراہ ایوان شاہی)

محمد الطبیشی(سابق سربراہ ایوان شاہی)

عمرو الدباغ (سابق گورنر ساجیا)

سعود الدویش (سابق سربراہ ایس ٹی سی)

صالح کامل اور انکے بیٹے عبداللہ و محی الدین

الولید البراہیم (این بی سی گروپ کے مالک)

عادل فقیہ(سابق وزیر اقتصاد و منصوبہ بندی)

ابراہیم العساف (سابق وزیر خزانہ)

عبداللہ السلطان (بحریہ کے سبکدوش کمانڈر)

خالد الملحم (السعودیہ کے سابق ڈائریکٹر)

بکر بن لادن(چیئرمین بن لادن گروپ)

اور سرمایہ کار محمد العمودی شامل ہیں۔