شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 10 نومبر تک کی توسیع

شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 10 نومبر تک کی توسیع
نیب کی جانب سے شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 12 نومبر تک توسیع کی استدعا کی گئی تھی۔۔۔۔۔فائل فوٹو

اسلام آباد: احتساب عدالت نے آشیانہ ہاؤسنگ کیس میں گرفتار مسلم لیگ (ن) کے صدر اور قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف کا 10 نومبر تک راہداری ریمانڈ منظور کر لیا۔


نیب نے آج شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ کے خاتمے پر انہیں اسلام آباد کی احتساب عدالت کے روبرو پیش کیا۔ دوران سماعت نیب کی جانب سے شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 12 نومبر تک توسیع کی استدعا کی گئی۔ تاہم شہباز شریف نے اعتراض کیا کہ جب قومی اسمبلی کا سیشن 9 نومبر کو ختم ہو جائے گا تو یہ 12 نومبر تک کیوں راہداری ریمانڈ مانگ رہے ہیں؟۔

اپوزیشن لیڈر نے عدالت سے کہا کہ 'نیب کو کہیں کہ 10 نومبر کو انہیں متعلقہ احتساب عدالت میں پیش کریں'۔ شہباز شریف نے مزید کہا کہ 'میں عدالت کے نوٹس میں لانا چاہتا ہوں کہ سیشن کے بعد بھی مجھ سے تفتیش جاری رہی۔ تفتیشی افسر اس وقت بھی کمرہ عدالت میں موجود ہیں اور اُن سے پوچھیں کہ میں صحیح کہہ رہا ہوں یا غلط'۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ 'تفتیش کو ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا مگر آدھے دھیلے کی کرپشن ثابت نہیں ہوئی'۔ جس پر احتساب عدالت کے جج نے ریمارکس دیئے کہ 'یہ بات آپ لاہور کی متعلقہ احتساب عدالت کو بتائیے گا'۔

اس کے ساتھ ہی عدالت نے شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 10 نومبر تک کی توسیع کر دی۔

واضح رہے کہ شہباز شریف آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل کیس کے سلسلے میں 5 اکتوبر سے قومی احتساب بیورو (نیب) کی تحویل میں ہیں۔ 29 اکتوبر کو لاہور کی احتساب عدالت نے قومی اسمبلی اجلاس میں شرکت کے لیے ان کا 3 روزہ راہداری ریمانڈ منظور کیا تھا جس کے بعد انہیں اسلام آباد لایا گیا اور منسٹر انکلیو میں موجود ان کی رہائش گاہ کو ہی سب جیل قرار دے دیا گیا تھا۔ بعدازاں 31 اکتوبر کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے شہباز شریف کے راہداری ریمانڈ میں 6 نومبر تک کی توسیع کر دی تھی۔