ترک صدر کا عراق سے زمینی اور فضائی حدود بند کرنے کا اعلان

ترک صدر کا عراق سے زمینی اور فضائی حدود بند کرنے کا اعلان

انقرہ :حالات کشیدہ۔ترکی نے بڑے اسلامی صدر کے ساتھ سرحد بند کی دی،ترک صدر رجب طیب اردگان نے کہا ہے کہ ان کا ملک عراق کے صوبہ کردستان میں ہونے والے آزادی ریفرینڈم کے رد عمل میں عراق سے متصل زمینی اور فضائی حدود بند کرنے کی تیاری کررہا ہے۔قبل ازیں ذرائع ابلاغ نے ترک صدر کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں ان کا کہنا تھا کہ ترکی، ایران اور عراق مل کر شمالی عراق سے تیل کی ترسیل روکنے کے لیے اقدامات کریں گے۔


تاکہ علاحدگی کا اعلان کرنے والے صوبہ کردستان کو تیل فروخت کرنے سے روکا جاسکے۔ترک صدر نے ٹی وی چینلوں این ٹی وی اور سی این این ترکی سے بات کرتے ہوئے کہا کہ کردستان نے ریفرینڈم میں تیل کے وسائل سے مالا مال کرکوک شہر کو بھی شامل کیا ہے تاکہ تیل کے وسائل کو استعمال کیا جاسکے۔ ان کا کہنا تھا کہ کردوں کو آئینی طور پر کرکوک میں مداخلت کا کوئی حق نہیں ہے۔

ترک صدر نے بدھ کے روز اپنے دورہ ایران کے دوران ایرانی ہم منصب حسن روحانی سے ملاقات کی تھی۔ بعد ازاں ایک مشترکہ پریس کانفرنس میں دونوں رہ نماں نے عراق کے صوبہ کردستان کے آزادی ریفرینڈم کو مسترد کردیا تھا۔

صدر طیب ایردوآن کا کہنا تھا کہ انقرہ عراقی کردوں کے آزادی ریفرینڈم کا پوری قوت سے جواب دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ کردوں کے اعلان آزادی کے حوالے سے عراقی حکومت کےساتھ مل کر کام کریں گے۔ کردوں کے آزادی ریفرینڈم کی کوئی حیثیت نہیں۔ اسرائیل کے سوا کسی نے اسے تسلیم نہیں کیا۔