لاہور میں غنڈہ راج

 لاہور میں غنڈہ راج

یہ ایک سے زیادہ مرتبہ ہوا کہ رکشہ ڈرائیوروں نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے باوردی اہلکاروں کی بدمعاشی، غنڈہ گردی اور جرمانہ گردی کے خلاف احتجاج کیا۔ لاہور پریس کلب کے باہر سینکڑوں رکشہ ڈرائیور روتے دھوتے تھے، چیختے چلاتے تھے اور میں ان سے کہتا تھا کہ وارڈن ہوں یا لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی، ان کی ذمے داری ہے کہ اول الذکر شہر میں ٹریفک کو رواں دواں رکھیں اور موخر الذکر شہریوں کو بہترین سفری سہولتیں فراہم کرنے کے لئے انتظامی کردارادا کریں۔ میں رکشہ ڈرائیوروں کو ہی ٹریفک نظام کی ابتری کا ذمہ دار سمجھتا تھا، ان سے کہتا تھا وہ اپنے رکشوں کی رجسٹریشن، ڈرائیونگ لائسنس اور روٹ پرمٹ سمیت دیگر کاغذات کو مکمل رکھیں ، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی نہ کریں تاکہ ان سے کوئی زیادتی نہ ہو ۔ وہ بتاتے تھے کہ وارڈنوں سے بھی زیادہ ظالم، بدمعاش اور کرپٹ ایل ٹی سی کے اہلکار ہیں۔ میرے پاس ریکارڈنگز موجود ہیںکہ ایل ٹی سی کے اہلکار جتھوں کی صورت میں نکلتے ہیں اور ان کی وارداتوں کا وقت زیادہ تر صبح کا ہوتا ہے۔ ابھی رکشہ ڈرائیوروں یا دیگر کمرشل گاڑیوں کے ڈرائیوروں نے بوہنی بھی نہیں کی ہوتی کہ وہ ان کا ایک ، ایک ہزار روپے چالان کر دیتے ہیں۔

میں نے انگریزی کی ایک ٹرم Sympathy سے آگے بڑھ کرEmpathy کو بروئے کار لاتے ہوئے ان کے احساسات و جذبات کو سمجھنے کی کوشش کی کہ ایک محنت کش صبح کے وقت رکشہ نکالتا ہے تاکہ وہ سکول و کالج جاتے ہوئے طالب علموں یا دفتر جانے والوں کے ذریعے سو، دو سو روپے کما لے اوراپنے گھروالوں کے لئے ناشتہ لا سکے۔ میں جانتا ہوں کہ غریب روز کا روز ہی کماتے ہیں اور اتنا ہی کماتے ہیں کہ ان کی اس دن کی ضروریات پوری ہوجائیں۔ وہ باہر جاتا ہے اور ایل ٹی سی کے اہلکاروں کے ہتھے چڑھ جاتا ہے جو اس کا ہزا ر روپے کا چالان کر دیتے ہیں۔ اب وہ سارا دن رکشہ چلائے گا، سواریاں ڈھوئے گا اوراس کے بعد ایک ہزار روپیہ پورا کر کے چالان بھرے گا۔ اب سوال یہ ہے کہ جب وہ ایل ٹی سی کا چالان بھرے گا تو پھراپنے بوڑھے ماں باپ، مجبور بیوی اور لاچار بچوں کے پیٹ کا جہنم کیسے بھرے گا مگر یہ بات وہ نہیں جانتے جنہوں نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے نام پر ایک ایسی کمپنی لاہور کے غریبوں پر مسلط کر رکھی ہے جو شائد ایسٹ انڈیا کمپنی سے بھی بری ہے۔ مجھے بعض لوگوں نے یہ شکوہ بھی کیا کہ سابق دور میں بننے والی بہت ساری اتھارٹیاں کسی کمانڈ اینڈ کنٹرول اور کسی احتساب کے نہ ہونے کی وجہ سے محض مال بناؤمحکمے بن چکی ہیں اور ان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی بھی ہے جس نے اربوں روپے کما لئے ہیں لیکن اگر عملی طور پر صورتحال بہتر ہونے کو دیکھا جائے تو انیس ، بیس کا فرق ہی نظر آتا ہے۔

میں لاہور پریس کلب کے باہر سینکڑوں رکشہ ڈرائیوروں میں گھرا کھڑا تھا جن کی قیادت ذیشان اکمل کر رہے تھے۔ وہ مجھے بتا رہے تھے کہ لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے اہلکار صبح صبح ناکے لگاتے ہیں۔ ان کے پاس پچاس، پچاس ہزار روپے تک چالانوں کا ٹارگٹ ہوتا ہے جو وہ ایک دو گھنٹوں میں پورا کرتے ہیں اور ائیرکنڈیشنڈ کمروں میں جا کے موج مستیاں کرتے ہیں جبکہ ڈرائیور اس چالان کو بھرنے کے لئے گدھے کی طرح محنت کرنے لگتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ صرف ان اہلکاروں کی وجہ سے انہیں بلڈ پریشر کی تکلیف ہوتی ہے، وہ ہارٹ اٹیک کا شکار ہوتے ہیں کیونکہ یہ لوگ انتہا کی بدتمیزی کرتے ہیں، گالیاں نکالتے، تھپڑ گھونسے مارتے اور پھر مزاحمت کرنے پر تھانے لے جاتے ہیں۔ یقین کیجئے کہ مجھے کبھی ایسا تجربہ نہیں لہٰذا پروگرام آن ائیر کرتے ہوئے مجھے یقین تھا کہ یہ سب بڑھا چڑھا کر بتا رہے ہیں، لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کوئی انڈین کمپنی نہیں ہے جو لاہور کے غریب محنت کشوں پر حملہ آور ہو گئی ہو مگرگذشتہ روز تجربہ ہو گیا، ٹھہرئیے، ٹھہرئیے، میں کوئی رکشہ یا ویگن نہیں چلا رہا تھا بلکہ اپنی ٹیم کے ساتھ آفس کی ہائی روف پر کینا ل روڈ پر تھا، جس پر کمرشل نمبر پلیٹ لگی ہوئی تھی۔ جب اس اہلکار نے ہماری گاڑی کوروکا اور باہر آنے کے لئے کہا تومجھے یاد آیا کہ رکشہ ڈرائیوروں نے بتایا تھا کہ جب ان کو اضافی آمدن کی ضرورت ہوتی ہے تو یہ اسی طرح دوبارہ دفتروں سے نکل آتے ہیں جیسے بھیڑئیے شکار کرنے کے لئے نکلتے ہیں۔

یہ ہمارے ڈرائیور کے ساتھ ایک عجیب وغریب تجربہ تھا جس میں لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کا اہلکار ( نام بناتے کی ضرورت نہیں کہ کسی سے ذاتی رنجش نہیں بلکہ اس سسٹم کے ذریعے لوٹ ماراور جبر کی نشاندہی مقصود ہے) بدتمیزی کر رہا تھا۔ اس سے پوچھا گیا کہ آپ نے اس گاڑی کو کیوں روکا جبکہ یہ سواریاں لانے لے جانے کا کام بھی نہیں کر رہی تو وہ سوال کرنے پر ہی برہم ہو گیا۔ اس کی رعونت اور بدمعاشی کا یہ عالم تھا کہ اس نے کیمرے دیکھ کر بھی آپے میں واپس آنا مناسب نہ سمجھا ۔ وہ شرم کھانے کے بجائے صحافیوں پر مال بنانے کا الزام لگاتا رہا اور بار بار کہتا رہاتم بکواس مت کرو۔ میرا سوال تھا کہ وہ کسی کوتم کس طرح کہہ سکتا ہے اور کسی کی بات کو بکواس کس اخلاقیات کے تحت۔ اس کے بعد ان دو اہلکاروں نے روایتی ڈرامے شروع کر دئیے کہ ان کے گریبا ن کو پکڑا گیا ہے جس پر میں نے اپنے کیمرہ مین سے کہا کہ اس کے گریبان کی فوٹیج بنا لو، اگر یہ ذرا سا بھی مسلا ہوا  توہم قصوروار ہوں گے۔ ان اہلکاروں نے اپنی موٹرسائیکلیں گاڑی کے آگے لگا دیں اور کہا کہ ہم نے اپنے بندوں کو فون کر دیا ہے اور تمہیں تھانے لے جا کر تمہاری طبیعت درست کرتے ہیں۔ میں اپنے پروگراموں کی روشنی میں اس صورتحال کو انجوائے کر رہا اور کوشش کر رہا تھا کہ ان اہلکاروں کا طنطنہ اور بدمعاشی برقرار رہے۔ انہوں نے بندے بلائے اور کہا کہ اب ہم تمہیں پولیس سٹیشن لے کر چلیں گے جس پر ہم فوری طور تیار ہو گئے مگر بدقسمتی سے آنے والے اہلکاروں نے ہمیں پہچان لیا اور کہا کہ آپ اگر تعارف کروا دیتے تو یہ سب نہ ہوتا۔ میرا جواب تھا کہ میں تعارف کیوں کرواتا، کیا مجھے کوئی غیر قانونی رعائت حاصل کرنی تھی۔میں نے گاڑی کے کاغذات ان کی خدمت میں پیش کئے جس کا انہوں نے بغور جائزہ لیا کہ کوئی غلطی نکال سکیں۔ اسی دوران دو میں ایک اہلکار نے اسے مذہبی معاملہ بھی بنانے کی کوشش کی جب اسے کہا گیا کہ تمہاری اچھی خاصی داڑھی ہے اور تمہار ا رویہ کتنا برا اور شرمناک ہے جس پر اس نے موبائل سے فوٹیج بنائی اور کہا کہ ا س کی داڑھی پر حملہ کیا گیا ہے۔

یہ سارا کھیل پندرہ، بیس منٹ کا ہو گا مگر اس میں مجھے پوری طرح اندازہ ہو گیا کہ میرے شہر کے غریب محنت کشوں کے ساتھ ایک بدمعاش کمپنی کے اہلکار کس طرح کا رویہ رکھتے ہیں۔ اسی موقعے پر بہت سارے رکشہ ڈرائیور بھی جمع ہو گئے اور انہوں نے ان اہلکاروں کے سڑکوں پر غنڈہ راج کے بارے میں بتایا۔لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کا کام یہ ہے کہ وہ لاہوریوں کو سفری سہولتیں فراہم کرے، یہاں پر بسیں چلائے مگر عملی صورتحال یہ ہے کہ یہاں چلتی ہوئی بسیں بھی بند ہوچکی ہیں۔یہ کمپنی اپنے بدمعاشوں کو وردیاں پہنا کر سڑکوں پر کھڑا کر دیتی ہے جوچالانوں کے نام پر لوٹ مار کرتے ہیں بلکہ ٹریفک پولیس کے ساتھ چالانوں کادوہرا نظام چلاتے ہیں۔ یہ بدتمیزی یا تشدد کی مزاحمت پر لوگوں کی ویڈیوز بناتے ہیں اور انہیں تھانوں میں لے جا کر تشدد کا نشانہ بناتے ہیں۔ میں چاہ رہا تھا کہ یہ ہمیں بھی تھانے لے جاتے تاکہ ہم وہاں کے حالات بھی دیکھ لیتے مگر وہ پہچاننے کے بعد تھانے لے جانے کے بجائے سڑکوں پر گھماتے رہے تاکہ معاملہ رفع دفع ہو سکے۔

اللہ تعالیٰ میرے شہر کے غریبوں اور محنت کشوں پر رحم کرے، وہ ظالموں، ڈاکوؤں اور لٹیروں کے حوالے کر دئیے گئے ہیں۔