این آر او نہیں لینے دوں گا

این آر او نہیں لینے دوں گا

پنجابی میں ایک محاورہ ہے کہ اپنا کام کرتے جاؤ لیکن اوپر سے شور بھی کرتے جاؤ۔ تحریک انصاف کی سیاست اسی سے عبارت ہے۔ پنجاب کی بیس صوبائی اسمبلیوں کی نشستوں میں سے پندرہ نشستیں جیت کر کلین سویپ کیا اور اسی پر اپنی مقبولیت کا اب تک ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ آٹھ سال تک لٹکائے رکھا لیکن اس کے باوجود بھی بقول خان صاحب کے الیکشن کمیشن نواز لیگ کا نوکر ہے اور میں کسی کو این آر او نہیں لینے دوں گا۔ لاہور ہائیکورٹ سے لے کر اسلام آباد ہائیکورٹ تک اور سپریم کورٹ سے تمام فیصلے خان صاحب کے حق میں آ رہے ہیں حتیٰ کہ شہباز گل جنھوں نے کھل کر اور انتہائی واضح انداز میں افواج پاکستان کو نشانہ بنایا انھیں دو جمع دو صرف چار دن کے ریمانڈ کے بعد جیل بھیج دیا گیا اور کچھ عرصہ بعد حیرت انگیز طور پر انھیں ضمانت بھی مل گئی لیکن پھر بھی عمران خان کہتے ہیں کہ میں کسی کو این آر او نہیں لینے دوں گا۔ عمران خان ہر جلسہ میں بغیر لگی لپٹی رکھے ہر ادارے کی ایسی تیسی کر رہے ہیں لیکن کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں اور وہ اگر حاضر ڈیوٹی جج کو بھرے مجمع میں دھمکیاں بھی دیتے ہیں تو ان پر کیس ختم کر دیا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ دانیال عزیز، طلال چوہدری اور نہال ہاشمی کو معافی نہیں ملی تھی اور نہال ہاشمی کو تو ایک ماہ جیل بھی کاٹنا پڑی تھی اور سینٹ کی سیٹ سے بھی ہاتھ دھونا پڑے تھے اور اگر سپریم کورٹ کی دس بارہ سال پرانی فائلوں کی چھان بین کی جائے تو پاکستان پیپلز پارٹی کی صف اول کی پوری قیادت پر افتخار چوہدری نے توہین عدالت کے جو کیس بنائے تھے وہ ابھی تک ختم نہیں ہوئے بلکہ غیر معینہ مدت کے لئے کیس ملتوی ہو کر کہیں فائلوں کے نیچے دبے ہوں گے لیکن خوش قسمت ہیں خان صاحب اور جو ان کے ساتھ ہیں کہ وہ جو مرضی کر لیں انھیں عدالتوں سے ریلیف مل جاتا ہے اور ریلیف بھی ایسا کہ جسے کہتے ہیں کہ فوری انصاف اور وہ بھی سائل کی دہلیز پر لیکن پھر بھی عمران خان کہتے ہیں کہ میں کسی کو این آر او نہیں لینے دوں گا۔عمران خان کے مخالفین کے لئے نہیں بلکہ سپریم کورٹ کے فیصلہ پر عمل درآمد کے لئے اگر ایک مرتبہ رات دس بجے عدالتیں کھل ہی گئی تھیں تو اس کے بعد اسلام آباد ہائیکورٹ کتنی مرتبہ رات کو اور چھٹی والے دن عمران خان اور تحریک انصاف کے لئے کھلی ہے اور سپریم کورٹ کی لاہور برانچ کس انڈر سٹیڈنگ کے ساتھ رات بارہ بجے کھلی تھی کہ سائل نے ابھی پٹیشن تیار بھی نہیں کی تھی لیکن پٹیشن وصول کرنے والے پہلے پہنچ گئے تھے لیکن اس کے باوجود اعلیٰ عدلیہ بھی خراب ہے اور خان صاحب کے مخالفین کے ساتھ ملی ہوئی ہے اور اس پر مزید ستم کہ عمران خان کہتے ہیں کہ میں کسی کو این آر او نہیں لینے دوں گا۔

زرداری صاحب نے ایک بیان دیا تھا اینٹ سے اینٹ بجانے کا، انھیں معافی نہیں ملی تھی یہاں تک کہ سندھ میں اپنی حکومت ہوتے ہوئے بھی پورے ملک میں کہیں جائے پناہ نہیں ملی اور بیرون ملک جانا پڑا۔ اسی طرح ڈان لیکس پر کئی مشیروں اور وزیروں کی قربانی کے بعد معافی کے حوالے سے ”ایبسولوٹلی ناٹ“کی لال جھنڈی دکھائی گئی اور بار بار دکھائی گئی لیکن کیا کہنے خان صاحب کے کہ نیوٹرل سے لے کر جانور تک کون سا ایسا لفظ ہے جس سے انھوں نے اسٹبلشمنٹ کی عزت افزائی نہیں کی حتیٰ کہ حکومت کو تبدیل کرنے میں جن لوگوں نے بقول خان صاحب ملک و قوم سے غداری کی ان میں اپنے محسنوں کو بھی شامل کر رکھا ہے اور اس کا برملا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں لیکن اب شاید معیار بدل چکے ہیں کہ خان صاحب ہر جلسے میں جو ان کے منہ میں آتا ہے وہ کہتے لیکن انھیں کھلی نہیں بلکہ بے انتہا کھلی چھوٹ ہے۔ اس قدر تحفظ ہے کہ حکومت بھڑکیں مار کر اور تڑیاں لگا کر بھی خان صاحب کیا ان کی جماعت کے کسی بندے کو ابھی تک گرفتار نہیں کر سکی اور دوسری طرف یہ حال ہے کہ ضمانت کے بغیر کسی وفاقی وزیر کو اسلام آباد اور سندھ کے علاوہ کہیں اور جانے کی ہمت نہیں ہے لیکن پھر بھی عمران خان کہتے ہیں کہ میں کسی کو این آر او نہیں لینے دوں گا۔

اگر قارئین یہ سوچ رہے ہیں کہ ہمارا یہ کالم یک طرفہ ہو گا تو ایسی کوئی بات نہیں۔ حکومت نے یقینا نیب قوانین میں ترامیم کی ہیں جس سے انھیں فائدہ پہنچا ہے اور کئی ایک پر نیب کے کیسز ختم ہوئے ہیں اس کے علاوہ مریم نواز کو انھیں عدالتوں سے با عزت بری کیا گیا کہ جہاں سے عمران خان سمیت تحریک انصاف کے رہنماؤں کے لئے پیار و محبت کے چشمے پھوٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ اسحق ڈاربھی واپس آ کر  وزیر خزانہ بھی بن چکے ہیں۔ ہم کسی حکومتی اقدام کی حمایت میں زمین و آسمان کے قلابے نہیں ملائیں گے بلکہ ایک آدھ سیدھی بات سے اپنا موقف واضح کریں گے کہ مریم نواز ہو یا فریال تالپور، آصف علی زرداری، نواز شریف،شہباز شریف، حمزہ شہباز، سعد رفیق یا سلمان رفیق ایک لمبی لسٹ ہے یہ سب جیلوں میں رہے ہیں اور کوئی دو چار دن نہیں بلکہ لمبے عرصہ کے لئے پابند سلاسل رہے ہیں اور پھر تحریک انصاف کے دور میں انھیں چمی سرکار کے چیئر مین نیب ہوتے ہوئے ضمانتیں ملی تھیں۔ اگر ہمیں اجازت ہو تو ایک بات کرتے جائیں کہ تحریک انصاف کے دور میں اپنے سیاسی مخالفین کی پکڑ دھکڑ اور ان پر مقدمے بنانے کے سوا اس دور میں خان صاحب نے اور کچھ کیا ہے۔ بات کسی اخلاقی اصول کی نہیں ہے اس لئے کہ خان صاحب کی جو سیاست ہے وہ کس اخلاقی اصول کے تابع ہے کہ جو آڈیو لیکس ہوئی ہیں جن میں سائفر سے کھیلنے سے لے کر منٹس بدلنے تک کی حقیقتیں کھل کر سامنے آ چکی ہیں تو اس کے بعد بات اخلاقی اصولوں کی نہیں بلکہ امکانات کی ہوتی ہے تو حکومت میں جو جماعتیں ہیں انھوں نے دور عمرانی کی تباہ حال معیشت کہ جس سے پاکستان دیوالیہ ہونے کے قریب تھا انتہائی مشکل معاشی فیصلے کر کے ملک کو دیوالیہ ہونے سے بچایا ہے لیکن اس کے بدلہ میں انھوں نے اپنی سیاسی ساکھ کو داؤ پر لگایا ہے تو جو مقدمے چار سال میں اور اکثر تو اس سے بھی پہلے کے ہیں ٹھوس شواہد کی عدم موجودگی کی بنا پر کسی منطقی انجام کو نہیں پہنچ سکے تو کیا انھیں ختم نہیں ہونا چاہئے اور دوسرا بات اگر اخلاقیات کی کرنی ہے تو کیا یہ بات درست نہیں ہے کہ پاکستان سے باہر برطانیہ کی عدالتوں میں شریف خاندان کو منی لانڈرنگ کے مقدمات سے بری کیا گیا ہے جبکہ تحریک انصاف کے حامی ایک ٹی وی چینل کو کئی مرتبہ جھوٹ بولنے اور دوسروں پر جھوٹے الزامات کی پاداش میں اربوں ڈالر کا جرمانہ ہو چکا ہے اور وہ چینل برطانیہ میں کسی دوسرے نام سے اپنی نشریات چلا رہا ہے تو خان صاحب کو اب یہ نہیں کہنا چاہئے کہ میں کسی کو این آر او نہیں لینے دوں گا بلکہ زمین حقائق کے مطابق انھیں کہنا چاہئے کہ ”بس کرو میرے مہربانوں آپ نے ایک ایک کر کے میری ساری ذاتی و سیاسی مشکلات دور کر دی ہیں لہٰذا اب میں مزید این آر او نہیں لوں گا“۔

مصنف کے بارے میں