واٹر گیٹ سے آڈیو لیکس تک……

واٹر گیٹ سے آڈیو لیکس تک……

آج کل پاکستان میں وزیر اعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس سکینڈل کے چرچے ہیں۔ اس سکینڈل کا تعلق کسی ایک حکومت سے نہیں بلکہ اس کے ڈانڈے ماضی کی حکومتوں سے ملتے چلے آ رہے ہیں۔ میرے ذرائع کا کہنا ہے کہ بظاہر اس سکینڈل کا کھرا ان سہولت کار یا محرک سیاستدان اور بیورو کریسی کے ان افسران کی طرف جاتا ہے جن کی وزیر اعظم ہاؤس اور آفس میں رسائی ایسے ہی ہے جیسا ان کا اپنا بیڈ روم۔ مروجہ اصولوں کے تحت وزیر اعظم ہاؤس کی تمام تر ذمہ داری سربراہ انٹیلی جنس بیورو کی ہوتی ہے لیکن وہ اس سکینڈل کے بعد اب بھی اپنی نشست پر براجمان ہیں۔

یہ سیکنڈل اگر منظر عام پر آیا ہے تو اس کی وجہ موجودہ حکومت اور اپوزیشن کی سیاسی رسہ کشی ہے جس کا مقصد ایک دوسرے کو نیچا دکھانا تھا۔ گو کہ اس حوالے سے ایک Hacker کا نام لیا جا رہا ہے لیکن لگتا ہے کہ رچرڈ نکسن کے واٹر گیٹ سکینڈل کی طرح اس سکینڈل کے مخبر بھی ”ڈیپ تھروٹ“ کی طرح کوئی اندر کا بھیدی ہی ہو گا۔ ان ذرائع نے اس شک کا بھی اظہار کیا ہے کہ مقامی دو سیاسی طاقتوں کا بالواسطہ یا بلاواسطہ اس Hacker سے رابطہ ہے۔ یاد رہے کہ بعد ازاں واٹر گیٹ سکینڈل کو افشا کرنے والے ایک رپورٹر باب ورڈوڈ نے 2005 میں انکشاف کیا کہ ان کا مخبر ”ڈیپ تھروٹ“ اصل میں ایف بی آئی کے مارک فیلٹ تھے جو ایف بی آئی میں ایک اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔ ہو سکتا ہے شفاف تحقیقات ہوں تو آڈیو لیکس سکینڈل میں بھی کوئی گھر کا بھیدی ہی نکل آئے۔ جبکہ میں نے 6 سے زائد موجودہ اور سابق وفاقی وزرا اور حاضر سروس و ریٹائرڈ سینئر بیوروکریٹس سے رابطہ کیا تو انہوں نے ریکارڈنگ ڈیوائس فکس کرنے کے حوالے سے اپنی جان بچانے کے لیے وزیر اعظم ہاؤس کے عملے پر شک کا اظہار کیا۔ لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ سٹاف بغیر کسی پشت پناہی کے ایسا کر سکتا ہے؟ اگر پیسے کے استعمال کا مفروضہ مان بھی لیا جائے تو کیا بغیر کسی پشت پناہی کہ ایسا ممکن ہے؟ البتہ سب نے تسلیم کیا کہ وزیر اعظم ہاؤس جیسے حساس مقام سے آڈیو ریکارڈنگ کسی گھر کے بھیدی کے بغیر ممکن نہیں۔

اب آتے ہیں بدنام زمانہ واٹر گیٹ سیکنڈل کی طرف۔ آج سے لگ بھگ 50 سال قبل 1972 میں واٹر گیٹ سیکنڈل کے باعث امریکی صدر رچرڈ نکسن کو مستعفی ہونا پڑا جس کے بعد نائب صدر جیرالڈ فورڈ نے ان کی جگہ لی۔ گو کہ واٹر گیٹ سکینڈل کا تعلق امریکی نیشنل سکیورٹی سے نہ تھا اور اس کا دائرہ کار مخالف سیاسی جماعت ڈیمو کریٹ پارٹی کی ذیلی تنظیم ڈیموکریٹ نیشنل کمیٹی کے انتخابی دفتر میں خفیہ آلات نصب کرنا تھا اور اس کا مقصد مخالف سیاسی جماعت کی پالیسی بارے آگاہی حاصل کرنا تھا۔ پھر بھی تحقیقات کی روشنی میں امریکی صدر رچرڈ نکسن کو استعفیٰ دینا پڑا۔ لیکن ہمارے وزیر اعظم ہاؤس کی آڈیو لیکس کا تعلق براہ راست ہماری نیشنل سکیورٹی سے ہونے کے باوجود وزیر اعظم کے استعفیٰ کو تو چھوڑیں اس سکیورٹی کے ذمہ دار انٹیلی جنس بیورو کے چیف کا بال بھی بیکا نہ ہو سکا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ عموماً ایسے ہائی رینک افسران وزیر اعظم کے چہیتے گنے جاتے ہیں۔ حیرت اس بات کی ہے کہ موصوف آڈیو لیکس سکینڈل کی تحقیقاتی کمیٹی میں بھی شامل ہیں۔ کیا یہ ممکن ہو گا کہ یہ کمیٹی وزیر اعظم اور ان سے متعلقہ لوگوں بشمول بیوروکریٹس اور سیاسی زعما کو جن کا وزیر اعظم ہاؤس آنا جانا معمول کی بات ہے سے سائنسی بنیادوں پر تحقیقات کر سکے۔

میری اطلاعات کے مطابق ایوان صدر سے لے کر وزیر اعظم و کابینہ کا ہر رکن ذاتی طور پر اور سرکاری حیثیت سے ان کے دفاتر، گھر، موبائل فون، 

کیمپ آفس اور گاڑی اب بھی (bugged) ہے۔ یہی حال ان مقامات پر تعینات افسران کا بھی ہے۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ ہماری نیشنل سکیورٹی اس حوالے سے تباہی کے دہانے پر ہے۔ یقیناً یہ معمولات اگر ڈارک ویب پر موجود ہیں تو ہمارے ازلی دشمن بھارت کے پاس بھی ہوں گی۔

عموماً ایسی ریکارڈنگ کے لیے چار میکنزم اختیار کیے جاتے ہیں جن میں سپاٹ ڈیوائس، لوکل ڈیوائس، موبائل فون اور سائبر بریچ شامل ہیں۔ سپاٹ ڈیوائس فکس ہوتی ہیں اور ان سے ڈیٹا کے حصول کے لیے اس میں موجود کارڈ سے بعد میں حاصل کیا جا سکتا ہے۔ ایسی ڈیوائسز کو کرسی، میز، لیمپس یا میٹنگ کے آس پاس کسی جگہ بھی چپکا دیا جاتا ہے۔ لوکل ڈیوائس وہ ہوتی ہے جو آپ کے لباس کے بٹن، پین، لائٹر، گھڑی، لینڈ لائن فون، پبلک اناؤسمنٹ سسٹم، عینک، آنکھوں کے لینز، بنک کے اے ٹی ایم کارڈ، پرس، خواتین کی آرائشی اشیا لپ سٹک، ہیر بینڈ وغیرہ، ہیرنگ ایڈ اور اسی نوعیت کی دوسری اشیا میں نصب ہوتی ہیں۔ ایسی ڈیوائسز سلکی اور لا سلکی دونوں نوعیت کی ہو سکتی ہیں۔ یعنی ان کے اندر بھی ڈیٹا محفوظ کرنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ اس قسم کی سلکی ڈیوائس پر سگنل جام کرنے والے آلات بھی اثر نہیں کرتے کیونکہ ان سے ریکارڈنگ اسی طرح ہے جیسے آپ مائیک پکڑ کر کسی کی ریکارڈنگ براہ راست کسی ریکارڈنگ ڈیوائس میں کریں۔ جبکہ لاسلکی ڈیوائسز میں ڈیٹا سٹوریج آپ کے پاس موجود کسی ڈیوائس یا آپ کی گاڑی، آفس ٹیبل یا کسی بھی قریبی جگہ نصب ہوتا ہے۔ آپ کے انٹر نیٹ وائی فائی کو بھی جاسوسی کے ذریعے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ لا سلکی ڈیوائسز کو سگنل جامر کے ذریعے روکا جا سکتا ہے۔

موبائل فون اس حوالے سے ڈبل ایج ویپن ہے کیونکہ اس سے اس قسم کی جاسوسی آسانی سے کی جا سکتی ہے اس کے لیے لوکل ڈیٹا ریکارڈنگ اور لاسلکی دونوں مہیا ہوتی ہیں۔ لوکل ڈیٹا ریکارڈنگ فون کے اندر ہوتا ہے اس لیے اس کے سگنل جام کرنا آسان نہیں ہوتا۔ سائبر بریچ کی رینج کافی وسیع ہے اور اس میں آپ کے وائی فائی کنکشن کے علاوہ ان گنت طریقے موجود ہیں۔ لیکن اس کے لیے بھی آپ کا لوکل ہینڈلر ہونا ضروری ہے۔

میری اطلاعات کے مطابق ”آڈیو لیک گیٹ سکینڈل“ میں سیاسی عناصر کے علاوہ وہ اعلیٰ سرکاری افسران ملوث ہیں جن کا وزیر اعظم ہاؤس میں آنا جانا روز کی روٹین ہے۔ سیاسی عناصر نے بھی ان افسران کے سہولت کار کے طور پر کردار ادا کیا ہو گا یا ان کا مقصد اس ریکارڈنگ کے پیچھے عالمی طاقتوں اور طاقتور بیوروکریٹس کی خوشنودی حاصل کرنا تھا۔ میرے ذرائع کے مطابق سرکاری افسران میں وہ گروپ بھی شامل ہے جن کی قسمت میں بیرون ملک تعیناتیوں اور دوروں کی اتنی بہتات ہے کہ ہمعصر رشک نہیں بلکہ حسد کرتے ہیں۔ جبکہ سیاسی لوگوں میں وہ بااثر ترین افراد شامل ہیں جن کا روٹین سکیورٹی چیک اپ کرنے سے سکیورٹی سٹاف کے ہاتھ پاؤں کانپتے ہیں۔ گو کہ وزیر اعظم شہباز شریف نے خود کو بھی سکیورٹی چیک اپ سے استثنیٰ نہیں دیا ہوا لیکن آج بھی کچھ بااثر افراد کو سکیورٹی پروٹوکول کے برعکس مروتاً چھوڑ دیا جاتا ہے۔ واٹر گیٹ سکینڈل کو بے نقاب کرنے والے ایک رپورٹر باب وڈورڈ نے جب اپنے سورس ”ڈیپ تھروٹ“ سے یہ پوچھا کہ وہ اس سکینڈل کے مرکزی کرداروں تک کیسے پہنچیں گے تو اس نے جواب دیا کہ Follow the money trail اور دیکھو کہ پراجیکٹ Re Elect Richard Nixon سے تعلق افسران کے رہن سہن میں کیا بدلاؤ آیا ہے۔ ہمارے ہاں تو منی ٹریل ہمارے سیاستدانوں کی چڑ بن چکی ہے۔

واٹر گیٹ سکینڈل کو منظرعام پر لانے کا سہرا روزنامہ واشنگٹن پوسٹ کے دو رپورٹروں، باب وڈورڈ اور کارل برنسٹین کے سر ٹھہرا تھا۔ اس سکینڈل کے بعد دنیا کے کسی بھی حصے میں سیاسی ہیرا پھیری یا حکومتی بدعنوانی کا کوئی راز افشاں ہوتا تو اس کے ساتھ ”گیٹ“ کا لاحقہ لگا دیا جاتا۔ واٹر گیٹ سکینڈل کا نام بھی ”واٹر گیٹ“ نامی بلڈنگ کی وجہ سے پڑا جہاں ڈیموکریٹس کے دفاتر تھے جن میں خفیہ آلات نصب کرنا مقصود تھا۔ اب لگتا ہے مستقبل میں اگر پاکستان میں بھی کوئی اس قسم کا سکینڈل آیا تو وہ بھی وزیراعظم ہاؤس سے نتھی کیا جائے گا۔

اطمینان بخش بات یہ ہے کہ ہماری سیاسی پارٹیاں مخالف جماعتوں کی پالیسی اور راز جاننے کے لیے ابھی تک تکنیکی طور پر ایڈوانس تو ایک طرف صفر بٹا صفر ہیں ورنہ یہاں بھی روز جوتیوں میں دال بٹ رہی ہوتی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس سکینڈل کے کردار کبھی بے نقاب ہو سکیں گے یا ایک وقفے کے بعد یہ سلسلہ چلتا رہے گا۔ ہماری سیاسی و عسکری قیادت کو اس حوالے سے ایسے اقدامات اٹھانا ہوں گے کہ یہ تحقیقات سیاست کی نذر نہ ہونے پائے اور اس جیسے سکینڈل کا اعادہ نہ ہو۔ گو کہ سائبر سکیورٹی کی کمزوریوں سے دنیا کے ترقی یافتہ ممالک بھی متاثر ہوتے رہتے ہیں لیکن ہمیں بھی ترقی یافتہ ممالک کی مدد سے سکیورٹی نظام کو از سر نو ترتیب دینے اور سکیورٹی پروٹوکول کو فول پروف بھی بنانا ہو گا۔

کالم کے بارے میں اپنی رائے 03004741474 پر وٹس ایپ کریں۔

مصنف کے بارے میں