امریکی تارکین وطن کی مشکلات میں اضافہ ،بچوں کو تحفظ فراہم کرنیوالا پروگرام اچانک ختم

امریکی تارکین وطن کی مشکلات میں اضافہ ،بچوں کو تحفظ فراہم کرنیوالا پروگرام اچانک ختم

واشنگٹن:ڈونلڈ ٹرمپ کے کرسی صدارت سنبھالتے ہی تارکین وطن کے خلاف ہر آئے روز نئے سے نئے اقدامات کیے جارہے ہیں جن کی وجہ سےامریکی تارکین وطن کو مشکلات کا سامنے کرنا پڑ رہاہے ۔تفصیلات کے مطابق ٹرمپ  انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر امریکا لائے گئے وہ بچے جو اب جوان ہوچکے ہیں انھیں ملک بدری سے تحفظ دینے کا پروگرام (ڈی اے سی اے) کو اچانک ختم کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں ۔ 


ٹرمپ انتظامیہ کے اس فیصلے سے تقریباً 8 لاکھ افراد کا مستقبل خطرے میں پڑگیا ہے۔؎سابق صدر باراک اوباما نے اپنے دور میں شروع کیے گئے اس پروگرام کو ختم کرنے کے فیصلے کو غلط اور ظالمانہ قرار دیا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی طرف سے کیئے گئے اس اہم اقدام کو سابق صدر نے بھی خوب تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ سوشل میڈیا پیغام میں ٹرمپ پر تنقید کرتے ہوئے اوباما نے لکھا کہ امریکا کی خدمت کا جذبہ رکھنے والے نوجوانوں کو نشانہ بنانا درست نہیں ہے۔اپوزیشن ہی نہیں حکمراں جماعت ری پبلکن پارٹی کے اراکین نے بھی تارکین وطن کے خلاف اقدام کی سخت مخالفت کی ہے۔

ایوان نمائندگان کے اسپیکر پال ریان نے کہا ہے کہ ان کا خیال ہے کہ کانگریس کو ان لوگوں کے تحفظ کے لیے کوئی راستہ تلاش کرنا چاہیے۔ تارکین وطن کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کے تازہ احکامات پر امریکا بھر میں احتجاج کا سلسلہ بھی شروع ہوگیا۔

کاروباری افراد، دکانوں کے مالکان ، مختلف شہروں کے میئرز ، یونین اور شہری حقوق کی تنظیموں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے فیصلے کی مذمت کی ہے۔نیویارک میں ٹرمپ ٹاور اور واشنگٹن میں بھی مظاہرین امریکی جھنڈے لیے سڑکوں پر نکل آئے اور ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف نعرے بازی کی۔

خیال رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے کانگریس سے کہا ہے کہ وہ 6 مہینوں میں اس بارے میں فیصلہ کرے کہ ایسے بچے جنہیں ان کے والدین غیر قانونی طور پر اس ملک میں لائے تھے، کیا انہیں امریکا میں رہنے کی اجازت دی جائے یا نہیں ۔