سندھ پولیس میں بھی کوہلی کی دھوم

سندھ پولیس میں بھی کوہلی کی دھوم
image by facebook

کراچی:پاکستان میں کمیونٹی کو ہمیشہ ان کی قابلیت کے مطابق حقوق دیئے جاتے ہیں جس کی تازہ مثال سندھ پولیس میں ہندو خاتون اے ایس آئی پشپا کماری کوہلی کی بھرتی ہے ۔


 پاکستان میں رہائش پذیر ہندو کمیونٹی سے تعلق رکھنے والی خواتین زیادہ تر میڈیکل کی شعبے سے وابستہ ہیں لیکن اب سندھ پولیس میں پہلی بار ہندو خاتون کو اے ایس آئی کے عہدے پر تعینات کردیا گیا ہے۔ہندو خاتون پشپا کماری ہمیشہ سے سندھ پولیس میں بھرتی ہونے کا خواب تو نہیں دیکھتی تھیں، لیکن انہوں نے سن 2014 میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ سائنسز سے کری ٹیکل کیئر میں گریجویشن مکمل کیا تھا، پشپا کوہلی کمیونٹی سے تعلق رکھتی ہیں۔

پشپا کماری اس سے قبل بینظیر بھٹو ایکسیڈنٹ اینڈ ٹراما سینٹر میں انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ٹیکنولوجسٹ کے فرائض سر انجام دے رہی تھیں پھر انہوں نے کسی دوسرے شعبے میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔پشپا کماری کا کہنا تھا کہ پاکستان میں کثیر تعداد میں ہندو لڑکیاں میڈٰیکل کے شعبے سے وابستہ ہیں مگر میں اب کچھ نیا کرنا چاہ رہی تھی اس لیے میں نے پبلک سروس کمیشن میں پولیس میں بھرتی ہونے کے لیے پیپر دئیے۔

پشپا نے 2018 میں اے ایس آئی کی آسامی کے لیے اپلائی کیا اور جنوری 2018 میں تحریری امتحان پاس کیا اس کے بعد پشپا کو فائنل انٹرویو کے لیے کال آئی۔فائنل انٹرویو میں کامیابی حاصل کرنے کے دو ہفتے بعد کامیاب امیدواروں کی فہرست آویزاں کی گئی جس میں پشپا کماری کا نام بھی موجود تھا۔

پشپا کماری کا کہنا تھا کہ سندھ پولیس میں ہندو خواتین تو موجود ہیں لیکن وہ کانسٹیبل کے عہدے پر ڈیوٹی سر انجام دے رہی ہیں میں پہلی خاتون ہوں جس نے اے ایس آئی کے امتحان میں کامیابی حاصل کی ، ہندو خاتون پشپا کا کہنا تھا کہ ان کا خواب اے ایس آٗئی تک ہی محدود رہنا نہیں ہے بلکہ وہ کرمنالوجی میں ماسٹرز کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ آف پولیس کے عہدے پر کام کرنا پسند کریں گی۔

پشپا کماری کا کہنا تھا کہ میرے پولیس میں شامل ہونے کے بعد دیگر خواتین کو بھی حوصلہ ملے گا اور وہ اپنے کیریئر کے انتخاب میں ہمت کرتے ہوئے پولیس، فوج، فضائیہ اور پاک بحریہ میں شامل ہوں گی۔