بابا حیدر، نفیس قادری اور مقدس اوراق

Khalid Minhas, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

بابا حیدر کو لوگ پاگل سمجھتے ہیں وہ دور سے نظر آئے تو کہتے ہیں کہ لو بابا حیدر آ گیا اب یہ ایک ہی بات کرے گا۔سچ یہ ہے کہ پاگل بابا حیدر نہیں بلکہ یہ معاشرہ ہے جو اس کی بات کو سمجھ نہیں رہا۔ وہ سب سے ایک سوال کرتا ہے کہ قرآن پاک کی بے حرمتی دنیا میں کسی بھی جگہ ہو مسلمان باہر آ جاتے ہیں اور پھر احتجاج کا ایک نہ رکنے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔ مظاہرے ہوتے ہیں پولیس کو لاٹھی چارج کرنا پڑتا ہے اور بسا اوقات یہ بھی ہوتا ہے کہ مظاہرین مشتعل ہو کر اپنے ملک کی املاک کو نذر آتش کرنے سے بھی گریز نہیں کرتے۔ جذبہ ایمانی کی حامل اس قوم کو اپنے ملک میں قرآن پاک،مقدس اوراق اور اللہ کے صفاتی ناموں کی بے حرمتی کہیں نظر نہیں آ رہی اور ان میں سے بہت سے ایسے ہیں جو اس بے حرمتی کی وجہ بن رہے ہیں۔ بابا حیدر لوگوں کی توجہ اس جانب مبذول کراتا ہے اور کہتا ہے کہ ارے لوگو کیوں اللہ کے عذاب کو دعوت دے رہے ہو۔ وہ کسی محفل میں ہو یا کسی بازار میں سڑکوں سے ان اوراق کو ڈھونڈ کر محفوظ کرتا ہے جو وہاں بکھرے ہوتے ہیں۔ ان اوراق پر قرآنی آیات اور اللہ کے صفاتی نام لکھے ہوتے ہیں۔ اس کی یہ جدوجہد صرف اپنی کمیونٹی محلے اور شہر تک محدود نہیں ہے بلکہ وہ اس مقصد کے لیے کبھی مقامی عدالت کا رخ کرتا ہے کبھی لاہور ہائیکورٹ جاتا ہے اور اب وہ سپریم کورٹ تک کا دروازہ کھٹکھٹانے کی خواہش بھی رکھتا ہے۔

باباحیدر کے پاس اس قسم کے بہت سے اوراق موجود ہیں جو اس نے گندی نالیوں سے اٹھائے انہیں صاف کیا اور اپنے پاس محفوظ کر لیا۔ اس قسم کے اوراق جب بہت زیادہ ہو جاتے ہیں تو وہ انہیں دفن کرنے کا انتظام بھی کرتا ہے۔اس نے مجھے وہ چادریں دکھائیں جو مزارات پر چڑھائی جاتی ہیں اور ان پر کلمہ طیبہ، درود شریف اور چاروں قل سنہری حروف سے لکھے ہیں مگر جب وہ پرانی ہوتی ہیں تو وہاں کے مجاور یا گدی نشین انہیں کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیتے ہیں۔ اس کے پاس وہ بینرز اور پینا فلیکس بھی موجود ہیں جواس نے کوڑے دانوں یا کوڑے کے ڈھیروں سے اٹھائے ہیں۔ اس کا ایک ہی سوال ہے کہ کیا یہ قرآن کی توہین نہیں ہے اور کیا یہ عمل موجب ثواب ہے یا اس کا عذاب ہم سب کو بھگتنا ہو گا۔ اگر وہ یہ تبلیغ صرف اپنے آس پاس کے لوگوں کو کرتا تو ہم کہتے کہ یہ جو کرتا ہے کرنے دو مگر اس کی بساط میں جو کچھ ہے وہ اسے کرنے کی کوشش کر 

رہا ہے۔ وہ اپنے شہر کے اسسٹنٹ کمشنر کے پاس درخواست لے کر جاتا ہے۔ڈپٹی کمشنر کو یہ سب دکھاتا ہے اور پھر لاہور ہائیکورٹ کے وکلاء اور ججوں سے مخاطب ہوتا ہے مگر ابھی تک اس کی کوئی سن نہیں رہا۔ یہ کمزو ر او رنہتا شخص بسوں اور ویگنوں میں دھکے کھا کر ان عالی مرتبت افراد تک پہنچ کر یہ ساری کہانی سناتا ہے مگر ابھی تک خاموشی ہی اس کے سوال کا جواب ہے۔ ابھی تک کوئی ایسا حکم نامہ جاری نہیں ہوا کہ اس قسم کے مقدس اوراق کو کہاں جمع کروانا ہے اورکون سا ادارہ اس کو صحیح طریقے سے تلف کرنے کا بندوبست کرے گا؟ 

معاشرہ میں کاروبارکی تشہیر سے لے کر انتخابی مہم ہر جگہ اپنی خواہش او ر منشا کے مطابق قرآنی آیات لکھی ہوتی ہیں اور کوئی یہ نہیں سوچتا کہ جب یہ بینرز اور فلیکس پھٹ جائیں گی یا پرانی ہو جائیں گی تو ان کا کیا ہو گا۔ 

اپنے پریس کلب میں نفیس قادری فوٹو گرافر ہمارے سامنے موجود ہیں وہ بھی اس قسم کا کام کر رہے ہیں۔ جب بھی لاہور پریس کلب کے سالانہ انتخابات ہوتے ہیں تو وہ امیدواروں کی توجہ اس جانب مبذول کرواتے ہیں کہ اپنے سٹیکرز پر کوئی اس قسم کا نام یا قرآنی آیات نہ لکھیں جو زمین پر گرے گی۔ ایک زمانے میں ہمیں لاہور میں مختلف جگہوں پر ایسے باکس نظر آتے ہیں جن پر یہ تحریر ہوتا تھا کہ مقدس اوراق یہاں پر ڈالیں مگر اب وہ باکس بھی کہیں نظر نہیں آتے۔

بات بابا حیدر یا نفیس قادری کی نہیں ہے بلکہ ہمارے اجتماعی شعور کی ہے کہ ہم قرآن پاک بے حرمتی کے خلاف بڑے بڑے مظاہرے کرتے ہیں مگر ملک کے اندر اور ہمارے پاس جو کچھ ہو رہا ہے اس سے صرف نظر کر رہے ہیں۔ اسی قسم کا کام کوئٹہ میں بھی ہو رہا ہے۔ وہاں ایک پہاڑ جبل النور ہے۔ پاکستان بھر سے 

مقدس اوراق وہاں پر لائے جاتے ہیں اور پھر وہاں پر انہیں محفوظ بنانے کے لیے کام ہورہا ہے مگر ذاتی سطح پر ہونے والا یہ کام پورے پاکستان کے لیے کافی نہیں ہے۔وہاں پر بہت سے ایسے قرآّن پاک کے پرانے نسخوں کو محفوظ کیا گیا ہے جو اسی طرح کسی نہ کسی جگہ سے انہیں ملے ہیں۔اس پہاڑ میں کئی کلومیٹر طویل لمبی غاریں بنائی گئی ہیں اور وہاں پر ان مقدس اوراق کو محفوظ بنایا جاتا ہے۔ کوئٹہ کی سیر کو جو لوگ جاتے ہیں وہ جبل نور القرآن کا ضرور دورہ کرتا ہے۔  کوئٹہ میں یہ کام دو بھائیوں نے شروع کیا تھا اور آج ان کے پاس ایسے قرآن پاک کے نسخے بھی ہیں جو 600برس پرانے ہیں۔جبل نور کے منتظم حاجی مظر علی کے مطابق انہوں نے پچاس لاکھ سے زائد قرآن پاک کے نسخوں کی تدفین کی ہے اوران غاروں میں اب جگہ کم پڑ گئی ہیں انہوں نے جو سرنگیں کھودی تھیں وہ سب کی سب پر ہو چکی ہیں۔

یہ مسئلہ کوئی معمولی نہیں ہے کہ اسے نظر انداز کر دیا جائے۔ ملک عزیز میں کسی جگہ یہ ثابت ہو جائے کہ کسی نے جان بوجھ کر قرآن پاک کو جلایا ہے یا کوئی ایسا عمل 

کیا ہے جس سے قرآنی آیات کی توہین ہوئی ہے تو اس کے خلاف توہین مذہب کا مقدمہ بن جاتا ہے اوربہت سے ایسے مقدمات اب بھی عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔مذہبی سکالرز کا کہنا یہ ہے کہ مقدس اوراق یا بینرز اور پینا فلیکس کو تلف کرنے کے دو طریقے ہیں ایک یہ ہے کہ انہیں کسی صاف چادر میں لپیٹ کر دفن کیا جائے یا اسے چلتے پانی کے حوالے کر دیا جائے تاکہ پانی سے اس کی سیاہی ختم ہو جائے اور کاغذ پانی سے ضائع ہو جائے مگر پینا فلیکس کے معاملے میں اسے چلتے پانی یا دریا میں نہیں پھینکا جا سکتا۔بابا حیدر پینا فلیکس سے ان مقدس ناموں اور قرآنی آیات کو کاٹ کر الگ کرتا ہے اور پھر انہیں دفن کرنے کابندوبست کرتا ہے۔ہمیں یقین ہے کہ بابا حیدر کی یہ جدوجہد ایک دن ثمر آور ہو گی اور کوئی نہ کوئی ادارہ بنے گا یا کسی ادارے کے سپرد یہ کام کیا جائے گا کہ مقدس اوراق کو عقیدت و احترام سے اکھٹا کیا جائے ان میں سے وہ نسخے جو قابل استعمال ہو سکتے ہیں انہیں محفوظ بنایا جائے اور جو بہت زیادہ مخدوش ہو چکے ہیں انہیں مناسب انداز میں تلف کرنے کا بندوبست کیا جائے۔