یکساں نصاب سے کام نہیں چلے گا!

Dr Lubna Zaheer, Nai Baat Newspaper, e-paper, Pakistan

دنیا اس حقیقت کو تسلیم کر چکی ہے کہ قوموں کی ساخت اور تعمیر میں سب سے اہم کردار تعلیم و تربیت کا ہے۔ بلاشبہ مذہب، کلچر، رنگ و نسل، رسم و رواج اور تاریخ بھی، قوموں کے اجزائے ترکیبی میں شامل ہیں لیکن یہ اجزائے ترکیبی بھی تعلیم و تدریس ہی کے ذریعے موثر طور پر افراد پر اثرانداز ہوتے اور قوم کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہمارے بارے میں اکثر کہا جاتا ہے کہ 77 سال گزر جانے کے باوجود ہم ایک قوم نہیں بن سکے۔ پاکستان کے ٹوٹنے کا المیہ بھی شاید اسی وجہ سے درپیش آیا کہ ہم نے مذہب یا دو قومی نظریے کو ہی باہمی اتفاق و اتحاد یا قومیت کا محافظ سمجھا۔ یقینا پاکستان اسی بنیاد پر قائم ہوا تھا۔ لیکن پاکستان قائم ہو جانے کے بعد ہمیں باہمی اتحاد اور ایک قوم ہونے کے لئے مذہب کے علاوہ کچھ اور عملی اقدامات بھی کرنا تھے۔ خاص طور پر ضروری تھا کہ ہمارے راہنما تعلیم پر توجہ دیتے۔ تعلیم ہی کے ذریعے آپس کے اتحاد کو پروان چڑھاتے۔ تعلیم ہی کے ذریعے نوجوانوں کے لئے روزگار کے مواقع پیدا کرتے۔ تعلیم کے زریعے جدید ٹیکنالوجی کو فروغ دیتے۔ تعلیم ہی کے ذریعے ایک قومی سوچ پیدا کرتے۔ لیکن ہمارے بڑوں نے پاکستان بن جانے کے بعد بھی یہی سمجھا کہ جس طرح دو قومی نظریہ، پاکستان کو وجود میں لانے کی بنیاد بنا اسی طرح پاکستان بن جانے کے بعد بھی یہی نظریہ ہمیں متحد رکھے گا۔ ایسا نہ ہو سکا۔ مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے عوام کے دلوں میں اسلام بدستور موجود رہا۔ جو آج بھی ہے۔ لیکن دونوں بازووں کو متحد رکھنے کے لئے جو عوامل درکار تھے انہیں نظرانداز کیا گیا۔ 1971 میں پاکستان ٹوٹنے کا سبب یہ نہیں تھا کہ ہمارے دلوں میں مذہب کا جذبہ کمزور پڑ گیا تھا۔ اس کی بڑی وجہ یہ تھی کہ تعلیم کا عمل ناقص رہا۔ مشرقی پاکستان کے عوام میں محرومی کا شدید احساس پیدا ہوا۔ اس احساس کو شیخ مجیب الرحمن نے سیاسی مقاصد کیلئے استعمال کیا۔ نتیجہ پاکستان ٹوٹنے کی شکل میں برآمد ہوا۔

آج حکومت یکساں نصاب تعلیم کو رواج دینے کا عمل شروع کر چکی ہے۔ اس کا افتتاح خود وزیر اعظم نے کیا۔ پہلے مرحلے میں یکساں نصاب پہلی سے پانچویں جماعت تک ہو گا۔ اگلے مراحل میں اسے میٹرک تک لے جایا جائے گا۔ اس معاملے میں مسلم لیگ(ن) جماعت اسلامی اور کچھ اور جماعتیں، حکومتی اقدامات کے حق میں ہیں۔ علمائے کرام کو بھی اس عمل میں شامل کیا گیا۔ بتایا جاتا ہے کہ عمومی اتفاق ہو گیا ہے او ر کسی حلقے کو بھی یکساں نصاب تعلیم پر اعتراض نہیں۔

اصولی طور پر یہ نعرہ اور اس پر عمل اچھی بات ہے۔ اگر پورے ملک میں ہر طرح کے تعلیمی اداروں کے لئے یکساں نصاب تیار ہو جاتا ہے اس کی مخالفت کرنے کا کوئی جواز نہیں۔ لیکن ٹھنڈے دل سے سوچا جائے تو یہ معاملہ اتنا سادہ بھی نہیں۔ تحریک انصاف کے منشور میں یکساں نصاب کا نہیں، یکساں نظام تعلیم کا وعدہ کیا گیا تھا۔ ہمیں یہ باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ملک میں کئی طرح کے تعلیمی ادارے کام کر رہے ہیں، مثلا دینی مدارس، حکومتی انتظام میں چلنے والے سرکاری سکول اور کالج، کسی بیرونی یونیورسٹی سے الحاق رکھنے والے بڑے بڑے انگلش میڈیم سکولز اور گلی، محلوں میں، انگریزی میڈیم کے نام پر کھل جانے والی دکانیں۔ لوگوں نے سمجھا کہ ایچی سن کالج ہو یا ایڈورڈ کالج، نامور انگریزی میڈیم ادارے ہوں یا دینی مدارس، سب کے سب ایک جیسا نصاب پڑھائیں گے اور اس سے قومی اتحاد کو فروغ ملے گا۔ نوجوان نسل احساس کمتری یا برتری سے نکل آئے گی۔ صوبائیت اور علاقائیت جیسے جرثومے فنا ہو جائیں گے۔ اور ہم ایک گروہ کے بجائے ایک قوم بن جائیں گے۔

کیا واقعی یہی کچھ ہو گا؟ میری ناقص رائے میں اس کا جواب نفی میں ہے۔ ایچی سن، ایچی سن رہے گا۔ ایڈورڈ کالج، ایڈورڈ کالج ہی رہے گا۔ دارالعلوم حقانیہ سے نکلنے والے نوجوان ویسے کے ویسے رہیں گے۔ جامعہ اشرفیہ لاہور کے فارغ التحصیل بھی جوں کے توں رہیں گے۔ دینی مدارس، سرکاری تعلیمی اداروں اور بڑے نام رکھنے والے اداروں کے درمیان جو تفریق پہلے تھی وہ اب بھی موجود رہے گی۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ صرف درسی کتاب ہی کو نصاب قرار دینا درست نہیں۔ نصاب میں کئی اور باتیں  بھی شامل ہیں۔ مثال کے طور پر یہ کہ اساتذہ کتنے پڑھے لکھے اور تربیت یافتہ ہیں۔ درس گاہ کس قسم کی ہے؟ بچے کس طرح کے گھروں اور سماجی ماحول سے آئے ہیں؟ سکول میں لائبریری، لیبارٹری اور کھیلوں کی کتنی سہولت ہے؟ اگر ہم ملک بھر کے تعلیمی اداروں کے ہاتھ میں ایک جیسی درسی کتابیں دے بھی ڈالیں تو کیا ان اداروں سے نکلنے والے تمام بچے ایک جیسے ہوں گے؟ کیا کسی دور دراز گاوں کے ٹاٹ سکول میں نیم خواندہ استاد سے فیض پانے والا طالب علم، ایچی سن سے تعلیم حاصل کرنے والے طالب علم کے ہم پلہ ہو گا؟ افسوس کی بات یہ ہے کہ اس معاملے کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

ہم لوگ جذباتی نعروں سے دل بہلانے والی قوم ہیں۔ آج ایک بار پھر اردو میڈیم تدریس کو پاکستانیت کا تقاضا قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک خاص درجے تک تو بجا لیکن سوچنے والی بات ہے کہ اگر جذباتیت کا شکار ہو کر انگریزی پڑھانے سکھانے کی حوصلہ شکنی کی گئی تو ہمارے بچوں کا مستقبل کیا ہو گا؟ چین میں اگر تعلیم چینی زبان میں دی جاتی ہے تو انہوں نے کالج، یونیورسٹی اور ہر طرح کی تحقیق کے لئے معیاری کتب بھی تیار کرلی ہیں۔ وہاں یہ ممکن ہے کہ کوئی شخص ایک لفظ انگریزی پڑھے بغیر پی۔ایچ۔ڈی کر لے۔ یہی حال جاپان کا ہے۔ لیکن ہمارے ہاں تو جدید سائنسی علوم کے بارے میں ابتدائی درجے کی کتابیں بھی اردو میں میسر نہیں۔ چین اور جاپان کے عوام کو روزگار کے لئے دنیا میں ادھر ادھر بھٹکنے کی ضرورت نہیں۔ یہ ممالک اتنی ترقی کر گئے ہیں کہ اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے اپنے شہریوں کو روزگار فراہم کر سکتے ہیں۔ ہم ایسا نہیں کر سکتے۔ ہمارے نوجوانوں کو تو بیرون ملک جانا ہے یا پھر پاکستان میں پرائیویٹ سیکٹر کا رخ کرنا ہے۔ وہ انگریزی پر دسترس کے بغیر کیا کر پائیں گے؟

اور یہ بات بھی نہیں بھولنی چاہیے کہ یہاں حکومت بدلتے ہی سب کچھ الٹ پلٹ جاتا ہے۔ تعلیم کا میدان تو 77 سال سے ایک تجربہ گاہ بنا ہوا ہے۔ کل کوئی اور حکومت آئی تو اس کے دانشور نیا نسخہ لائیں گے۔ اچھا ہوکہ یہ کام سیاسی نعرہ بازی کی نذر کر دینے کے بجائے قومی سطح کے ماہرین کو یہ مشن سونپا جائے جو، پاکستان کے لئے ایک جامع اور قابل عمل تعلیمی پالیسی مرتب کریں ورنہ یہ سب کچھ کھیل تماشا ہی رہے گا۔