پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کیخلاف درخواست مسترد

پی ٹی آئی ارکان قومی اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کیخلاف درخواست مسترد

اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے ممبران قومی اسمبلی کے مرحلہ وار استعفوں اور قومی اسمبلی کے 9 حلقوں میں انتخابات کے خلاف درخواستیں مسترد کر دی ہیں۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ عدالت پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت کر سکتی ہے اور نہ ہی سپیکر قومی اسمبلی کو استعفے منظور یا نامنظور کرنے سے متعلق کوئی حکم دے سکتی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اسلام آباد ہائیکورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ کی سربراہی میں اسلام ہائیکورٹ کے بینچ نے کیس کی سماعت کی جس دوران پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری نے دلائل پیش کرتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی کے 123 ارکان اسمبلی نے استعفے دئیے لیکن صرف 11 منظور کئے گئے ہیں۔ 

چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کے طریقہ کار پر 2015ءمیں عدالت فیصلہ کر چکی ہے، عدالت پارلیمنٹ کے معاملات میں مداخلت نہیں کر سکتی، قومی اسمبلی ارکان کے 11 منظور شدہ استعفوں کے متعلق سپیکر نے اپنی تسلی کر لی، عدالت سپیکر قومی اسمبلی کی تسلی کے معیار کا جائزہ لینے کا اختیار نہیں رکھتی، ہمیں سوچ بدلنا پڑے گی اور پارلیمنٹ کا احترام کرنا چاہئے۔ 

چیف جسٹس نے کہا کہ جب تک اسمبلی اراکین کے استعفے قبول نہ ہو جائیں کیا ان کی ڈیوٹی نہیں کہ لوگوں کی پارلیمنٹ میں نمائندگی کریں؟ استعفیٰ دینے والا ہر رکن انفرادی طور پر سپیکر کے سامنے پیش ہو کر استعفے کی تصدیق کرے، عدالت سپیکر قومی اسمبلی کواحکامات جاری نہیں کرے گی۔ 

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دئیے کہ جو سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی نے کیا وہ قوانین و عدالتی فیصلوں کے برخلاف تھا جس پر پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری نے کہا کہ ہماری پارٹی کو پک اینڈ چوز کرکے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے، ڈپٹی سپیکر قاسم سوری پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفے منظور کر چکے ہیں جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی قاسم سوری کا نوٹیفیکیشن غیر آئینی ہے۔

اس موقع پر پی ٹی آئی وکیل نے کیس کو لارجر بینچ کے سامنے رکھنے کی استدعا کی جسے عدالت نے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ عدالت کبھی بھی سپیکر کو ہدایات جاری نہیں کرے گی۔ چیف جسٹس نے عدالتی فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عدالتی فیصلے میں استعفے منظور کرنے کا طریقہ کار بتایا گیا تھا، ڈپٹی سپیکر نے استعفے منظور کرتے وقت اصول پر عمل نہیں کیا۔

پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ 123 مستعفی ارکان میں سے کسی نے بھی استعفے سے انکار نہیں کیا، 123 میں سے صرف 11 ارکان کو نکالنے کی کیا تک بنتی ہے؟ جس پر عدالت نے کہا کہ اصل سٹیک ہولڈرز ارکان اسمبلی نہیں، ان کے حلقے کے عوام ہیں، ڈی نوٹیفائی ہونے تک عوام کی نمائندگی کیا مستعفی ارکان کی ذمہ داری نہیں تھی؟

پی ٹی آئی وکیل فیصل چوہدری کے دلائل مکمل ہونے پر سپیکر قومی اسمبلی کے وکیل عرفان قادر نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہی شخص 9 نشستوں پر الیکشن لڑنے کا کہہ رہا ہے جس پر پی ٹی آئی وکیل نے کہا کہ یہ پی ٹی آئی کا فیصلہ ہے کون کہاں سے لڑے گا۔

چیف جسٹس نے کہا کہ آپ کو پتہ ہے الیکشن میں کتنا خرچ آتا ہے؟ عوام اپنے نمائندے 5 سال کیلئے منتخب کرتے ہیں، یہ کوئی اچھی بات نہیں کہ جب دل کیا استعفیٰ دیا، پھر الیکشن لڑ لیا۔ دلائل سننے کے بعد عدالت نے پی ٹی آئی ارکان اسمبلی کے استعفوں کی مرحلہ وار منظوری کے خلاف درخواست مسترد کرتے ہوئے خارج کردی اور پی ٹی آئی ڈپٹی سپیکر قاسم سوری کا 123 ارکان اسمبلی کے استعفوں کی منظوری کا آرڈر غیر قانونی قرار دیدیا۔ 

عدالت نے پی ٹی آئی وکیل کی لارجر بینچ کی تشکیل کی استدعا مسترد کر دی اور پی ٹی آئی کی 9 حلقوں میں الیکشن روکنے کی درخواست بھی خارج کرتے ہوئے کہا کہ عدالت سپیکر قومی اسمبلی کے اختیارات میں مداخلت نہیں کر سکتی۔

مصنف کے بارے میں