طیارے اپنے پیچھے دھویں کی لکیریں یا ’خطوط التکثیف‘ کیوں چھوڑتے ہیں؟

 طیارے اپنے پیچھے دھویں کی لکیریں یا ’خطوط التکثیف‘ کیوں چھوڑتے ہیں؟

 اکثر آپ کے ذہن میں یہ سوال اٹھتاہوگا کہ جہاز کے گزرنے کے بعد فضا میں بادلوں کی لکیر کیوں  بن جاتی ہے،  اس سوال نے انسان کو ایک صدی سے ورطہِ حیرت میں ڈال رکھا  ہے، لیکن آخر یہ لکیر حقیقت میں  ہے  کیا او کیوں بنتی ہے ؟

آسٹریا کے ماہر طبیعیات رابرٹ اٹلی کے شمال مشرقی خطے، ایٹنریک جنوبی ٹائرول میں ایک طیارے کو آسمان پر پرواز کرتے ہوئے دیکھ رہے تھے کہ انہوں نے  مشاہدہ کیا کہ طیارے کے پیچھےایک لمبے سے بادلوں کا ایک خط چلا آرہا ہے۔

جہاز سے خارج ہونے والے خطوط التكثيف (کنٹریلز) کی تشکیل کے لئے طیارے نے ایک مخصوص حد کی بلندیوں تک پہنچنے کے لیے فضا میں بلند ہونا شروع  کیا ۔اور جیسے جیسے  طیارے کی پرواز  بلند ہوئی  ویسے ہی اس طیارے سے  خارج ہونے والے دھویں کی لکیر یا خطوط التكثيف نےبھی  بلند ہونا شروع کردیا ۔ 

خطوط التكثيف  طیارے کے خارج ہونے والے دھویں کے نتیجے میں بننے والی لکیر کے سائز کے مہین ذرات کے بادل ہیں۔ جو 100 میٹر سے لے کر کئی کلومیٹر طویل ہو سکتے ہیں۔ان خطوظ  کے بننے کے لیے تین چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے: آبی بخارات، ٹھنڈی ہوا اور وہ ذرات جن پر پانی کے بخارات گاڑھے ہو سکتے ہیں۔

پانی کے بخارات طیاروں کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں کیونکہ اس کے ایندھن میں موجود ہائیڈروجن ہوا میں آکسیجن کے ساتھ رد عمل ظاہر کرتی ہے۔  شومن کا کہنا ہے کہ یہ عمل بڑے پیمانے پر سرد موسم سرما کے دن جمی ہوئی سانس سے مشابہت رکھتا ہے۔ تاہم تمام ہوائی جہاز خطوط التكثيف (کنٹریلز) خارج نہیں کرتے ہیں - یہ تقریباً 18 فیصد پروازوں میں ہوتے ہیں جو   عام طور پر 20,000 فٹ  کی بلندی پر پرواز کرتے ہیں ۔