مبشرہ قتل کیس، چیف جسٹس کا قبر کشائی اور دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم

لاہور: چیف جسٹس پاکستان نے زیادتی کے بعد قتل کی جانے والی 7 سالہ مبشرہ کی قبر کشائی اور لاش کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کا حکم دے دیا۔ جڑانوالہ میں کھیتوں سے 7 سالہ لڑکی کی لاش برآمد ہوئی تھی جس کی شناخت مبشرہ کے نام سے ہوئی جسے زیادتی کے بعد قتل کیا گیا۔ بچی کے قتل پر جڑانوالہ میں شدید احتجاج کیا گیا جس کے بعد چیف جسٹس پاکستان نے واقعے کا از خودنوٹس لیا تھا۔

سپریم کورٹ لاہور رجسٹری میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں جڑانوالہ میں 7سالہ بچی مبشرہ سے زیادتی و قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ کیس کے سلسلے میں آئی جی پنجاب عارف نواز عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ کیس کی تمام زاویوں سے تفتیش کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: پورے ملک میں ہم کراچی کی وجہ سے شرمندہ ہوتے ہیں، جسٹس گلزار احمد

اس پر چیف جسٹس نے کیس میں پیشرفت نہ ہونے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اطمینان عدالت اور ریاست کا ہونا چاہیے درخواست گزار کا نہیں ۔

سماعت کے دوران چیف جسٹس پاکستان نے مقتولہ بچی کی قبر کشائی اور ایم ایس الائیڈ اسپتال فیصل آباد کو بچی کا دوبارہ پوسٹ مارٹم کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے آئندہ سماعت پر مقتولہ کے نمونوں کی فرانزک رپورٹ طلب کرتے ہوئے پراسیکیوٹر جنرل کو بھی آئندہ سماعت تفتیش کی رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا۔

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں