آئی ایم ایف نے پاکستان میں بیروزگاری اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کردیا

The IMF has raised fears of rising unemployment and inflation in Pakistan
کیپشن:   فائل فوٹو

اسلام آباد: انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے رواں سال پاکستان میں بیروزگاری اور مہنگائی بڑھنے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔ بین الاقوامی ادارے کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں رواں مالی سال مہنگائی کی شرح آٹھ اعشاریہ سات فیصد رہے گی۔

آئی ایم ایف کی جانب سے پاکستانی معیشت پر جاری اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ توقع ہے کہ پاکستان میں شرح نمو ایک اعشاریہ پانچ فیصد تک رہے گی۔ خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے شرح نمو دو اعشاریہ ایک فیصد رہے جبکہ مرکزی بینک نے تین فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا تھا۔

انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ ملک میں کرنٹ اکاؤنٹ کا خسارہ ایک اعشاریہ پانچ فیصد رہے گا تاہم حکومت پاکستان نے اس کا اندازہ ایک اعشاریہ چھ فیصد رہنے کا اندازہ لگایا تھا۔

ورلڈ اکنامک آؤٹ لک کی رپورٹ میں پاکستان میں رواں مالی سال کے دوران افراط زر کی اوسط شرح آٹھ اعشاریہ سات فیصد، جی ڈی پی کے ایک اعشاریہ پانچ فیصد کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اور بیروزگاری میں پانچ فیصد تک اضافے کی پیشگوئی کی ہے۔

خیال رہے کہ یہ پیشگوئی حکومت پاکستان کی جانب سے رواں مالی سال جی ڈی پی کی شرح نمو کے لیے دو اعشاریہ ایک فیصد، افراط زر کی چھ اعشاریہ پانچ فیصد اور کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے لیے ایک اعشاریہ چھ فیصد کے طے شدہ اہداف کے بالکل برعکس ہے۔

بین الاقوامی مالیاتی فنڈ کی جانب سے پیشگوئی کی گئی ہے کہ اقتصادی نمو کی شرح  مالی سال 2022ء میں جی ڈی پی کے چار فیصد اور 2026ء تک پانچ فیصد تک ہو جائے گی۔

آئی ایم ایف کی جانب سے کہا گیا ہے کہ افراط زر کی شرح گزشتہ سال دس اعشاریہ دو فیصد سے کم ہو کر سالانہ بنیادوں پر رواں سال آٹھ فیصد ہو جائے گی جبکہ مالی سال 2022ء تک اوسطا دس  فیصد ہو جائے گی۔