عثمان بزدار اور فرح گوگی کی کرپشن کہانیاں

عثمان بزدار اور فرح گوگی کی کرپشن کہانیاں

آسٹریلوی ماہر معاشیات نے ایک بار حکومتی معاملات کی تفہیم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’نااہل ، بدعنوان اور گھٹیا لوگوں کی حکومت سے بڑھ کر تہذیب کیلئے کوئی چیز خطرناک نہیں ہے ‘‘۔ جبکہ امریکی سیاستدان ایڈلے سٹیونسن کا اس حوالے سے ماننا تھا ’’عوام کے ذہنوں کو بگاڑنے والے بھی اتنے ہی برے ہوتے ہیں جتنے عوام کی جیبوں سے پیسے چوری کرنے والے‘‘۔

فرح خان عرف گوگی نامی ایک کردار آج کے دور کا کپتان رانی بن رہا ہے، تبدیلی سرکار کیوں پاکستان کی تاریخ میں ایک بدترین مثال بنی ، کیسے پاکستانی عوام کا تبدیلی کا خواب چکنا چور ہوا ؟اس کے تانے بانے اب جڑنا شروع ہو گئے ہیں۔ جسے پورا پاکستان عمران خان کی اے ٹی ایم کے نام سے جانتاتھا جب خان صاحب نے اسی بنک کو ٹھگنے اور تباہ کرنے کی کوشش کی تو آخر کار وہ پھٹ پڑا۔ کہانی کا کلائمیکس ہوتا ہے 2018ء میں جب ایک یار ، بہت قریبی ساتھی اور اپنے نوٹوں کی بوریوں کے منہ کھول دینے والے کی ان تھک محنت کا ثمر ملتا ہے، اس نے 2010ء میں پاکستان تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی اور 8سال تک شدید ، ان تھک محنت اور وفاداری سے اپنے قائد کی پیروی کی ۔ مگر اب پاکستانی عوام کے اچھے دن آنے کا وقت تھا اور موقع تھا کہ اصولی سیاست کرتے ہوئے جو خواب پاکستانی عوام کو دکھائے گئے تھے ان کی تعبیر کیلئے جدوجہدکا آغاز کیا جائے ۔

علیم خان کو ہر طرف سے مبارکبادوں کے پیغامات ملنے لگے اورخود وہ بھی پنجاب میں اہم ترین ذمہ داری سنبھالنے کی تیاریوں میں مصروف تھے کیونکہ یہ ان سے وعدہ تھا، یہی ان کا منصوبہ تھا ۔ لیکن پھر اس سے پہلے کہ وزیر اعظم ہائوس سے بلایا جاتا انہیں نیب کی طرف سے کرپشن کے نوٹسز آنا شروع ہوگئے، علیم خان کا ماتھا ٹھنکا کہ ہم تبدیلی کے سفر میں اب کچھ کرنا چاہ رہے ہیں مگر مجھے نیب کے نوٹسز کیسے؟ کیوں؟ 

خیر علیم خان نے پہلی بار نیب کے دفتر کی چوکھٹ پار کی اور پھر ان کا اکثر وقت وہیں گزرنے لگا ۔انہیں محسوس تو ہو رہا تھا کہ انہیں حکومت سے دور رکھنے کی کوشش کی جا رہی ہے، مگر پھر ایک دن جب وہ نیب کے دفتر میں ڈی جی نیب کو اپنی صفائیاں دینے میں مصروف تھے تو ٹی وی پر خبر چلی کہ عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنجاب بنا دیا گیا ہے۔ سب کچھ روز روشن کی طرح عیاں ہو گیا، دماغ کی ساری الجھنیں سلجھ گئی اور علیم خان نے سامنے بیٹھے ڈی جی نیب کو کہا کہ جس وجہ سے میرے نیب کے چکر لگ رہے تھے وہ کام تو ہو چکا، وزیر اعلیٰ پنجاب کا اعلان ہو گیا اور امید ہے اب آپ بھی مجھے زحمت نہیں دیں گے۔ علیم خان نیب کے دفتر سے گھر کو نکلے ،مگر اب انہیں معلوم ہو چکا تھا کہ ان کے لیڈر نے ہی انہیں نیب کیسز میں پھنسایا تاکہ وہ پنجاب کی سیاست میں ہونیوالی تبدیلیوں میں کسی سازش کا حصہ نہ بن سکیں اور جو ان کے لیڈر چاہتے ہیں وہ کر سکیں۔ علیم خان کو صرف یہ شکایت تھی کہ ان کے لیڈر نے کیوں انہیں اپنے پاس بلا کر یہ اطلاع نہیں دی کہ وہ عثمان بزدار کو وزیر اعلیٰ پنچاب بنانا چاہتے ہیں اور کیوں انہیں نیب کے کیسز میں پھنسایا۔ یہ سوال کہ آخر کیا عمران خان نے ہی علیم خان کو نیب کے کیسز میں پھنسایا تھا کس حد تک درست ہے تو اس کا جواب بالکل واضح ہے کہ پھر کئی ماہ تک علیم خان کو نیب کی طرف سے کوئی نوٹس موصول نہیں ہوا اس وقت تک جب تک پنجاب میں عثمان بزدار کے جانے کی خبریں گردش کرنے لگیں۔

علیم خان کا خیال تھا کہ جب کسی کے ساتھ اچھا وقت گزرا ہو تو تقاضا یہ ہے کہ ربط چاہے کم ہو جائے لیکن تعلق کا تقدس بحال رہنا چاہیے، مگر پھر علیم خان نے عمران خان کو ایک ایسی خبر دی جس کے بعد خلیج میں مزید اضافہ ہو گیا، علیم خان نے عمران خان کو بتایا کہ پنجاب میں کرپشن کا بازار گرم ہے جس کا سرغنہ عثمان بزدار ہے۔ ہر سرکاری تقرر و تبادلے پر کروڑوں روپے کی رشوت لی جا رہی ہے اور ایسی ہر ڈیل میں فرح خان نامی ایک خاتون موجود ہوتی ہے ۔ یہ تو پورے پاکستان کو معلوم ہے کہ فرح گوگی ، عمران خان کی اہلیہ بشریٰ بی بی کی سہیلی ہیں اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں ہر جگہ بشریٰ بی بی کا سایہ بنی رہیں۔ پنجاب میں اربوں کی کرپشن ہو رہی تھی اور فرح خان اس کرپشن کا مرکزی کردار تھی مگر علیم خان نے جب یہ سب عمران خان کو بتایا تو انہیں کے کانوں پر جوں تک نہ رینگی۔ 

اب معلوم نہیں کہ علیم خان کو نیب کی حراست میں کیوں جانا پڑی، فرح خان کی کرپشن کا عمران خان سے ذکر کرنے پر یا ٹی وی چلنے والی چند خبریں اس کا ذریعہ بنی۔ میڈیا پر یہ خبریں گردش کر رہی تھیں کہ عثمان بزدار کو ہٹایا جا سکتا ہے۔ علیم خان کو نیب کے دفتر بلا بھیجا گیا مگر اس بار وہ واپس نہ آ سکے اور 100دنوں تک انہیں جیل میں رہنا پڑا۔

علیم خان کا خیال ہے کہ عمران خان پاکستان کے مامے نہیں لگتے کہ انہیں ہر حال میں وزیر اعظم رہنا چاہیے اور وہی اس ملک کے سگے ہیں ۔ انہیں گلہ ہے کہ جو بھی عمران خان کے خلاف ہے اسے ملک کا غدار قرار دیدیا جاتا ہے۔ وہ مانتے ہیں کو عمران خان کو ان سے بہتر کوئی نہیں جانتا اور انہیں اس حد تک نہ دیوار سے نہ لگایا جائے کہ پھر وہ کپتان کا سارا کچا چٹھا کھول کر رکھ دیں۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ وہ تبدیلی نہیں جس کا خواب عوام کو دکھایا گیا تھا ، پنجاب میں پی ٹی آئی کے 183اراکین صوبائی اسمبلی ہیں مگر صرف 5ایم این ایز کی سپورٹ حاصل کرنے کیلئے پرویز الٰہی کی مدد لی گئی جس کو عمران خان ڈاکو کہا کرتے تھے، کیا یہ وہ تبدیلی تھی جس کا خواب عوام کو دکھایا گیا تھا کہ جسے آپ ڈاکو کہتے ہیں اسی کی مدد سے حکومت بنا رہے ہیں، کیا آپ کو 183 پی ٹی آئی اراکین صوبائی اسمبلی میں سے ایک بھی بندہ اس قابل نہیں ملا تھا کہ آپ اسے وزیر اعلیٰ پنجاب کیلئے نامزد کر سکتے۔ علیم خان کو یہ بھی دکھ ہے کہ پنجاب میں اربوں کی کرپشن کرنے والی فرح خان شاید ملک سے بھاگ کر دبئی چلی گئی ہے اور یہ سب کچھ تبدیلی سرکار میں عمران خان کی ناک کے نیچے ہوا۔

علیم خان کے الزامات، تاثرات، خیالات اور جذبات اپنی جگہ لیکن اگر ان میں ذرا سی بھی سچائی ہے تو کیا عمران خان ریاست مدینہ کی طرح خود کو ، اپنی اہلیہ اور ان کی سہیلی سمیت احتساب کیلئے پیش کریں گے یا اس بار بھی وہ میدان سے بھاگ جائیں گے۔

مصنف کے بارے میں