دلی امراض کا شکار افراد کی مدد کرنیوالا "ریسکیو ڈرون" ایجاد

ماسکو: روسی سائنسدانوں کی دلی امراض کا شکار افراد کیلئے انتہائی اہم ایجاد سامنے آگئی ، سائنسدانوں نے ڈی فلبریشن کے نظام سے آراستہ ڈرون تیار کر لیا جو دل کے مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے اسے فوری طور پر مطلوبہ جگہ تک پہنچایا جاسکتا ہے۔

دلی امراض کا شکار افراد کی مدد کرنیوالا

ماسکو: روسی سائنسدانوں کی دلی امراض کا شکار افراد کیلئے انتہائی اہم ایجاد سامنے آگئی ، سائنسدانوں نے ڈی فلبریشن کے نظام سے آراستہ "ریسکیو ڈرون"  تیار کر لیا جو دل کے مریضوں کی زندگی بچانے کے لیے اسے فوری طور پر مطلوبہ جگہ تک پہنچایا جاسکتا ہے۔


ماسکو ٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ اور روسی کمپنی آلٹو میڈیکا نے مشترکہ طور پر ایک طبی ڈرون بنایا ہے جو 50 کلومیٹر کی دوری تک جا کر دل کو بجلی کے ذریعے بحال کرنے والا نظام پہنچا سکتا ہے۔ اس میں کارڈیو پلمونری ری سسکی ٹیشن کا پورا انتظام ہے جو حادثے کی صورت میں شہروں کے اندر دل کے مریضوں کو فوری مدد فراہم کر سکتا ہے۔

اس عمل کو انجام دینے کے لیے کسی انسان کی ضرورت رہے گی لیکن ہدایات کو استعمال کرتے ہوئے معمولی پڑھا لکھا شخص بھی اسے استعمال کرسکتا ہے۔ اس میں لگے اسکرین یا اسپیکر کی ہدایت کے تحت مریض کے سینے پر الیکٹروڈ لگانے سے لے کر آلہ چلانے تک کی ہدایات بھی فراہم کی گئی ہیں۔یہ ڈرون مصروف ترین علاقوں میں ایمبولینس سے پہلے پہنچ جائے گا اور وہاں موجود مریض کے جسم میں 400 جول تک توانائی پہنچا کر دل کو دوبارہ سرگرم کرنے میں مدد فراہم کر سکتا ہے اور اس عمل کو ڈی فلبریشن کہا جاتا ہے۔