ایران سے بزنس کرنے والا ہمارے ساتھ کاروبار نہیں کریگا, امریکی صدر ٹرمپ

ایران سے بزنس کرنے والا ہمارے ساتھ کاروبار نہیں کریگا, امریکی صدر ٹرمپ

فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

نیویارک: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران سے بزنس کرنے والے کے ساتھ امریکا کاروبار نہیں کریگا۔

امریکی صدر نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں کہا کہ ایران پر پابندیوں کا باضابطہ آغاز ہوگیا ہے ،یہ اب تک کی سب سے سخت پابندیاں ہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ نومبر میں امریکا کی ایران کے خلاف پابندیوں میں مزید سختی لائی جائے گی ،جو ایران سے بزنس کرے گا وہ امریکا سے کاروبار نہیں کرے گا ۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح الفاظ میں لکھا کہ میں یہ سب کچھ دنیا کے امن کیلئے کررہا ہوں ۔امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر امریکا کی جانب سے عائد اقتصادی پابندیاں آج سے قابل عمل ہو گئی ہیں۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر پابندیوں کے نفاذ کے بعد اس کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے والے ممالک کے لیے سخت تنبیہ جاری کی ہے۔ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں انھوں نے ایسے ممالک کو مخاطب کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر وہ ایران کے ساتھ کاروبار کرتے ہیں تو امریکہ کے ساتھ تجارت نہیں کر سکیں گے۔

واضح رہے کہ امریکی صدر کے حکم نامے پر دستخط کے بعد ایران پر منگل کی صبح سے پہلے مرحلے کی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ان پابندیوں میں ایران کے مختلف شعبوں کو نشانہ بنایا گیا جبکہ ایران کی جانب سے تیل کی درآمد پر پابندیاں نومبر سے لاگو ہوں گی۔صدر ٹرمپ نے اپنی ٹویٹ میں مزید کہا کہ 'اس سے قبل اتنی سخت پابندیاں کبھی نہیں لگائی گئی تھیں اور نومبر میں یہ اور سخت کر دی جائیں گی۔ میں صرف عالمی امن کا مطالبہ کر رہا ہوں۔'

بظاہر صدر ٹرمپ کی ٹویٹ یورپی یونین کے ممالک کی جانب اشارہ ہے جن کی جانب سے کہا گیا تھا کہ وہ امریکی اقدامات کی مخالفت کرتے ہیں اور انھوں نے اور اپنی کمپنیوں کی جائز تجارت کو تحفظ فراہم کرنے کا عہد کیا ہے۔

اس سے قبل صدر ٹرمپ نے پیر کو کہا تھا کہ وہ ایران کے ساتھ نیا ایٹمی معاہدہ کرنے کے لیے تیار ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس میں ایرانی حکومت کی تمام منفی سرگرمیوں کا مکمل احاطہ کیا گیا ہو، جس میں اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام اور دہشت گردی کی پشت پناہی شامل ہیں۔