بھارت کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے, حافظ محمد سعید

بھارت کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے, حافظ محمد سعید

فوٹو بشکریہ سوشل میڈیا

بہاولپور: امیر جماعةالدعوةپاکستان پروفیسر حافظ محمد سعید نے کہا ہے کہ نظریہ پاکستان سے انحراف کرنے والوں کا حال قوم دیکھ چکی ہے۔ملی مسلم لیگ کو لوگوں نے بے پناہ محبتوں سے نوازا،ہمارے راستہ میں رکاوٹیں کھڑی کی گئیں مگر پھر بھی ہم نے الیکشن لڑا،الیکشن ختم ہو گیا مگر خدمت انسانیت کی صورت میں ہمارا سیاسی سفر جاری رہے گا۔آج قیام پاکستان والے جذبے اجاگر کرنے کی ضرورت ہے۔بھارت کشمیر میں مسلم آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی سازشیں کر رہا ہے۔کشمیری عوام بھارتی سازشوں کیخلاف متحد و بیدار ہیں۔ پاکستانی حکمرانوں کو بھارتی ریاستی دہشت گردی کیخلاف مضبوط آواز بلند کرنی چاہیے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکز البدر شکار پوری گیٹ بہاولپور میں ملی مسلم لیگ کے ورکزر کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔کنونشن سے صدر ملی مسلم لیگ سیف اللہ خالد ، نصر جاوید ،ابو ہریرہ و دیگر نے بھی خطاب کیا۔حافظ محمد سعید نے اپنے خطاب میں کہا کہ اسلام دشمن طاقتوں نے کلمہ کی بنیاد پر بننے والے ملک کو نشانہ بنا رکھا ہے۔روایتی سیاست کی بجائے نظریہ پاکستان کی بنیاد پر سیاست کریں گے۔پاکستان کو لسانیت،فرقہ واریت،شدت پسندی اورپارٹی بازی کی دلدل سے نکالیں گے۔ہمارے راستے میں رکاوٹوں کی وجہ ہماری نظریہ پاکستان کی بنیاد پر سیاست ہے۔رسول اکرم ۖ کا اسوہ حسنہ ہمارا مشن و منشور ہے۔عمران خان نے پاکستان کو مدینہ ثانی بنانے کا اعلان کیا ہے ہم ان کے لیے دعا گو ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قائد اعظم نے یہ نظریہ پیش کیا کہ ہندو مسلم دو علیحدہ قومیںہیں یہ اکٹھی نہیں رہ سکتیں۔ جس طرح پاکستان کا قیام ضروری تھا اسی طرح آج پاکستان کو نظریہ پاکستان کی بنیاد پر کھڑا کرناضروری ہے۔ 14 اگست 1947 کو اللہ نے برصغیر کے مسلمانوں کو قربانیوں کے نتیجے میں بڑی کامیابی سے نوازا تھا۔قیام پاکستان کے بعد سیاستدانوں و حکمرانوں نے اللہ سے کئے گئے عہد کو پورا نہیں کیا۔حافظ محمد سعید نے کہاکہ بھارت نے پاکستان بننے سے لیکر آج تک پاکستان کو قبول نہیں کیا،اس نے ہمیشہ کلمہ طیبہ کی بنیاد پر حاصل کئے گئے اس ملک کو نقصانات سے دوچار کرنے کی سازشیںکی ہیں۔ آج پھر سے ملک بھر میں "پاکستان کا مطلب کیا؟ لاالہ الا اللہ محمد رسول اللہ" کا نعرہ بلند کرنے کی ضرورت ہے۔جنہوں نے نظریہ پاکستان سے آنکھیں چرائیں اوراس سے انحراف کیا'پاکستانی قوم انہیں اچھی طرح پہچان چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم وہ دعوت کھڑی کریں گے کہ ہر گلی محلہ میں دین اسلام کا نغمہ گونجے گا۔ انگریز نے جو ورثہ سیاست میں چھوڑا۔ سب پارٹیاں اسی کو لیکر چل رہی ہیں۔ ہم نے اصلاح کی سیاست کرنی ہے اور نظریہ پاکستان کو پروان چڑھانا ہے۔ ہم نے لوگوں کی ذہن سازیاں کرنی ہیں۔ ہم ملک میں مدینہ والی سیاست کو پروان چڑھائیں گے ۔