'دو قومی نظریے کو آج کشمیر کے وہ رہنما بھی مان رہے ہیں جو بھارت کیساتھ تھے'

'دو قومی نظریے کو آج کشمیر کے وہ رہنما بھی مان رہے ہیں جو بھارت کیساتھ تھے'
مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کو جاننا ہو گا، آصف زرداری۔۔۔۔۔۔۔۔فوٹو/ اسکرین گریب

اسلام آباد: سابق صدر آصف علی زرداری کا کہنا ہے کہ قائداعظم محمد علی جناح کے دو قومی نظریے کو آج کشمیر کے وہ رہنما بھی مان رہے ہیں جو بھارت کے ساتھ تھے۔


پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے آصف علی زرداری کا کہنا تھا کہ مشرقی پاکستان کے بعد کشمیر کا واقعہ دوسرا بڑا واقعہ ہے اور اس مسئلے کو سمجھنے کے لیے ہمیں تاریخ کو جاننا ہو گا۔

آصف زرداری نے کہا کہ بھٹو نے حکمت سے اندرا گاندھی سے پاکستان کی زمین واپس لی۔ کسی کو مخاطب کیے بغیر آصف علی زرداری نے کہا کہ آپ کا باڈی گارڈ آپ کے کہنے پر گولی نہیں چلائے گا۔ آپ کا باڈی گارڈ اس وقت گولی چلائے گا جب آپ پر گولی چلے گی۔

انہوں نے کہا کہ یہ ہم سے پوچھتے ہیں کہ میں کیا کروں۔ اگر خدانخواستہ میرے وقت میں یہ ہوتا تو میری پہلی فلائٹ ہوتی ابوظہبی، دوسری چین اور تیسری روس۔

ان کا کہنا تھا کہ آج بھی یہی فارمولا ہے کہ ہمیں دوستوں کو پھر ملانا ہے اور چین کے لوگ بہت مختلف ہیں۔ بدقسمتی سے آپ عملی طور پر ان کی بے عزتی کر رہے ہیں۔

صدر پیپلز پارٹی نے کہا کہ عوام آج اپوزیشن کے ساتھ کھڑی ہے اور آپ کے ساتھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ فخر ہے ان کشمیری بھائیوں پر جنہوں نے برطانوی پارلیمنٹ میں تحریک پیش کی۔ فخر ہے ہمیں ان کشمیری بھائیوں اور بہنوں پر جو اپنی میتوں کو بھی پاکستانی پرچم لپیٹ کر دفناتے ہیں۔