پاکستان کا بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے ، تجارت ختم کرنے کا فیصلہ

پاکستان کا بھارت کیساتھ سفارتی تعلقات کو محدود کرنے ، تجارت ختم کرنے کا فیصلہ
image by facebook

اسلام آباد : پاکستان نے بھارت کی جانب سے مقبوضہ کشمیری کی خصوصی حیثیت کو ختم کرنے کے فیصلے کے بعد اہم اقدامات کا فیصلہ کرتے ہوئے دوطرفہ تجارت کو معطل کرنے اور سفارتی تعلقات کو محدود کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس میں وزیراعظم عمران خان کی زیر صدارت قومی سلامتی کونسل کا اجلاس ہوا جہاں سول اور عسکری قیادت نے شرکت کی اور ہم بھارت کے حوالے سے 5 اہم فیصلے کیے گئے۔


اجلاس کے بعد جاری اعلامیے کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اقدامات سے بگڑی صورت حال اور مقبوضہ جموں اور کشمیر کی اندرونی اور کنٹرول لائن (ایل او سی) پر صورت حال کا جائزہ لیا گیا۔قومی سلامتی کے اجلاس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ بھارت کے ساتھ دوطرفہ تجارت کو معطل کر دیا جائے گا اور سفارتی تعلقات کو محدود کر دیاجائے گا۔

اعلامیے کے مطابق یہ فیصلہ کیا گیا کہ پاک-بھارت تعلقات پر نظرثانی کی جائے گی اور بھارت کے غیر قانونی اقدامات کو اقوام متحدہ کے سامنے اٹھائے جائیں گے۔قومی سیاسی اور عسکری قیادت نے فیصلہ کیا ہے کہ یوم آزادی کو کشمیریوں کے ساتھ یوم یک جہتی کے طور پر منایا جائے گا اور مسئلہ کشمیر کو بھرپور انداز میں اجاگر کرتے ہوئے 15 اگست کو یوم سیاہ منایا جائے گا۔

قومی سلامتی کونسل کے اجلاس میں وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی، وزیردفاع پرویز خٹک، وزیرداخلہ اعجاز شاہ، وزیر تعلیم شفقت محمود، وزیر انسانی حقوق شیریں مزاریں، وزیر امور کشمیر و گلگت بلتستان، وزیر قانون، مشیر خزانہ، چیف آف آرمی سٹاف جنرل قمر جاوید باجوہ، ڈائریکٹر جنرل (ڈی جی) انٹرسروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) جنرل فیض حمید سمیت دیگر اعلیٰ سول و عسکری حکام نے شرکت کی۔