وزیراعظم کا سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کا دورہ

وزیراعظم کا سیلاب سے متاثرہ بلوچستان کا دورہ

بلوچستان میں طوفانی بارشوں اور سیلاب سے ہزاروں گھرتباہ اور درجنوں دیہات صفحہ ہستی سے مٹ چکے ہیں، لوگ کھلے آسمان تلے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، لسلبیلہ، قلعہ سیف اللہ، نوشکی،جھل مگسی، قلات، خضدار ، جعفر آباد اور نصیر آباد شدید متاثرہ اضلاع میں شامل ہیں، درجنوں گائوں زیر آب آگئے ہیں، اموات کی مجموعی تعداد 137 تک پہنچ گئی ہے ، تقریباً 10ہزار مکانات مکمل طور پر تباہ ہوچکے ہیں، وزیراعظم محمد شہباز شریف بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پہنچ گئے، پہلے انہوں نے متاثرہ علاقوں کا فضائی معائنہ کیا ، ہیلی کاپٹر میں وزیراعظم چیف سیکرٹری بلوچستان کو متاثرہ علاقوں میں عوام کو فوری امداد فراہمی کے ہدایات دیتے رہے ۔

وزیراعظم متاثرہ علاقوں لسبیلہ اور جیکب آباد کے سیلاب زدگان سے بھی ملے ، اُن کے مسائل سنے اور انہیں یقین دہانی کرائی کہ وفاقی حکومت کسی صورت اپنے بلوچستان کے متاثرہ بہن بھائیوں کو تنہا نہیں چھوڑے گی، ان کی بحالی تک چھین سے نہیں بیٹھوں گا، سیلاب سے متاثرہ عوام نے جب وزیراعظم شہباز شریف کو اپنے درمیان دیکھا تو انہیں اُمید نظر آئی کہ کوئی تو ہے جو اس مصیبت کے وقت میں ہمارے پاس آئے ہیں اور ہمارے زخموں پر مرہم پٹھی رکھ رہے ہیں۔ 

وزیراعظم شہباز شریف نے اس موقع پر جاں بحق افراد کے لواحقین کیلئے 10لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا جبکہ زخمیوں کیلئے امدادی رقم 50ہزار سے بڑھا کر 2لاکھ روپے ، جزوی طور پر نقصان پہنچنے والے مکانات کیلئے معاوضہ 25ہزار سے بڑھا کر 2لاکھ روپے اور مکمل طور پر تباہ ہونے والے گھروں کیلئے معاوضہ 50ہزار سے بڑھا کر 5لاکھ روپے کرنے کا اعلان بھی کیا۔ وزیراعظم نے متاثرین کو یقین دلایا کہ جو فصلیں تباہ ہوگئی اور مویشی ہلاک ہوچکے ہیں اس حوالے سے وفاقی سطح پر 4سروے کمیٹیاں قائم کی گئی ہیں جو نقصانات کا جائزہ لے کر رپورٹ پیش کریں گی اور وفاقی حکومت نقصانات کا بھرپور ازالہ کرے گی، انہوں نے کہا کہ متاثرین اس قدرتی آفت میں خود کو تنہا نہ سمجھیں آپ کا خادم آپ کے ساتھ کھڑا ہے، آپ کے نقصان کا ازالہ کیا جائے گا۔

بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں وزیراعظم نے پہنچ کر ثابت کردیا کہ وہ واقعی خادم پاکستان ہیں کیونکہ شہباز شریف سیاست کو عبادت کا درجہ دیتے ہیں، غریب کی غربت کا مذاق اڑانے کی بجائے داد رسی اور دلجوئی کرتے ہیں، عوام کی خدمت کو اپنا فرض سمجھتے ہیں، 20؍20گھنٹے کام کرتے ہیں، نہ دن کی دھوپ اور نہ ہی رات کے اندھیرے کو دیکھتے ہیں، جہاں ظلم ہو وہاں فوری طور پر انصاف کیلئے پہنچ جاتے ہیں۔

 بلوچستان میں شدید بارشوں نے 30سالہ ریکارڈ توڑ دیا، جو تباہی و بربادی ہوئی ہے ۔سڑکیں، پل، ریلوے ٹریک ، باغات، فصلیں اور دیگر املاک پانی میں بہہ چکے ہیں۔پاک فوج نے بلوچستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریلیف اور ریسکیو آپریشن شروع کیا ہے ، پاک فوج کی ٹیمیں مقامی انتظامیہ اور امدادی اداروں کو بھرپور معاونت فراہم کرنے کیساتھ ساتھ متاثرین کو فوڈ پیکیجز بھی فراہم کررہے ہیں اس کے علاوہ ایدھی ویلفیئر فائونڈیشن کے اہلکار بھی ریسکیو اور ریلیف آپریشن میں سول انتظامیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔