صدر ک ممنون حسین نے ’ایمنسٹی اسکیم‘ کے قانون پر دستخط کر دیئے

صدر ک ممنون حسین نے ’ایمنسٹی اسکیم‘ کے قانون پر دستخط کر دیئے

اسلام آباد: ایسے وقت میں جب فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) کو محصولات میں 100 ارب سے زائد کے خسارے کا سامنا ہے، صدر ممنون حسین نے ایمنسٹی اسکیم کو قانونی تحفظ فراہم کرنے کے لیے انکم ٹیکس ترمیمی ایکٹ 2016 کی منظوری دے دی۔


ایمنسٹی اسکیم کے ذریعے جائیداد کے مالکان کو رئیل اسٹیٹ میں ڈالا گیا اپنا کالا دھن 3 فیصد ٹیکس ادا کرکے سفید کرنے اجازت مل جائے گی۔صدر مملکت نے اپوزیشن کی مخالفت کے باوجود قومی اسمبلی سے 30 نومبر کو منظور ہونے والے ترمیمی ایکٹ پر دستخط کردیئے۔یہ اس طرح کی تیسری اسکیم ہے جو 2013 کے بعد مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں نافذ کی گئی۔

مسلم لیگ (ن) کی حکومت ملک کی وہ پہلی حکومت ہے جس نے رئیل اسٹیٹ کے شعبے کو ریگولیٹ کرنے کی کوشش کی۔تاہم سیکٹر کو ریگولیٹ کرنے میں بُری طرح ناکامی کی بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے نئی ایمنسٹی اسکیم کا آغاز کیا۔یہ اسکیم غیر معینہ مدت کے لیے دستیاب ہوگی کیونکہ ایکٹ میں اس کے اختتام کی کوئی تاریخ موجود نہیں، جبکہ اس ایکٹ کا اطلاق رواں سال یکم جولائی سے قبل خریدی جانے والی جائیداد پر ہوگا۔اسکیم کے تحت رئیل اسٹیٹ کے شعبے میں جس کالے دھن کی سرمایہ کاری کی گئی ہے، اسے سفید کرنے والوں سے ان کا ذریعہ آمدنی نہیں پوچھا جائے گا۔

ایک ٹیکس عہدیدار کا کہنا تھا کہ ’اسکیم کم از کم جون 2017 تک جاری رہے گی، جب اگلے سال کے بجٹ کے حوالے سے تجاویز زیر بحث آئیں گی، تب اس اسکیم کے جاری رہنے یا ختم کرنے کے حوالے سے غور کیا جائے گا۔‘ایف بی آر کو اسکیم کے تحت 40 سے 50 ارب روپے جمع ہونے کی امید ہے۔اسکیم کے تحت ٹیکس کی رقم ایف بی آر کے نظر ثانی شدہ ایویلیوایشن ریٹ اور ڈسٹرکٹ کمشنرز (ڈی سی) ریٹ کے فرق سے ادا کی جائے گی۔

تاہم دونوں ریٹس جائیداد کی اصل قیمت کو واضح نہیں کرتے اور اسکیم کے باعث جائیداد کی اصل قیمت کا تقریباً 90 فیصد حصہ ٹیکس نیٹ سے باہر رہ جائے گا۔ایف بی آر کے اندازے کے مطابق پراپرٹی سیکٹر میں سالانہ تقریباً 4 ہزار ارب روپے کی سرمایہ کاری کی جاتی ہے۔شروعات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ ایمنسٹی اسکیم اصل ٹرانزیکشن کی رقم ظاہر کرنے پر آفر کی جائے گی، لیکن اس تجویز کی رئیل سیکٹر کی جانب سے سخت مخالفت کی گئی۔ٹیکس ماہر کے مطابق ’اسکیم سے صرف ان چند لوگوں کو فائدہ ہوگا جنہوں نے اپنے کالے دھن کی رئیل اسٹیٹ مارکیٹ میں سرمایہ کاری کی۔‘