ہوا کے اخراج نے 10,000 لوگوں کی جان لے لی ،

 ہوا کے اخراج نے 10,000 لوگوں کی جان لے لی ،

لندن : جدید دور میں ہوا کے اخراج کو ایک معمولی واقعہ سمجھا جاتا ہے لیکن تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو پتا چلتا ہے کہ اس حرکت پر ایسے ایسے فساد برپا ہوئے کہ انسان سوچ کر ہی کانپ جائے۔ تاریخ دان کہتے ہیں کہ ماضی میں ہوا خارج کرنا کئی سیاسی تحریکوں، انقلابات اور حتیٰ کہ خونریز جنگوں کا سبب بھی بن چکا ہے۔


جریدے ڈیلی بیسٹ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایک ایسی ہی جنگ کا تذکرہ کیا گیا ہے جس کا آغاز ایک شخص کے ہوا خارج کرنے سے ہوا لیکن اختتام 10ہزار افراد کی موت پر ہوا۔ رپورٹ کے مطابق تاریخ دان ہوزیفس لکھتا ہے کہ یہ دلخراش واقعہ پہلی صدی عیسوی کے دوران رومن سلطنت میں پیش آیا۔ ہوزیفس کے مطابق رومن فوج کے ایک سپاہی نے ایک مقدس تہوار کے موقع پر بے شرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک بڑے ہجوم کے سامنے اپنی پتلون نیچے کی اور زوردار انداز میں ہوا خارج کردی۔ اس شیطانی فعل پر ایک ہنگامہ برپاہوگیا اور مشتعل ہجوم اور فوجیوں کے درمیان لڑائی شروع ہوگئی۔ یہ لڑائی اس قدر بڑھی کہ پوری سلطنت میں ہنگامے پھوٹ پڑے۔ ان ہنگاموں میں تقریباً 10 ہزار افراد دنیا سے ہی رخصت ہوگئے جبکہ ہزاروں زخمی بھی ہوئے۔

ہوا کے اخراج سے شروع ہونے والا یہ واحد ہنگامہ نہیں۔ یونانی تاریخ دان ہیراڈٹس بھی ایک ایسے ہی واقعے کا ذکر کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ کنگ ایسپرائز کا تختہ الٹنے کی تحریک کا آغاز بھی ایک شخص کے ہوا خارج کرنے سے ہوا۔ اس ایک شخص کی حرکت سے شروع ہونے والی لڑائی بڑھتی ہوئی ایک ہنگامے اور پھر انقلاب میں بدل گئی جس کا نتیجہ مصر کے طاقتور بادشاہ کا تختہ الٹنے کی صورت میں سامنے آیا۔ مﺅرخین کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہوا کے اخراج پر پھوٹنے والے ہنگاموںکی فہرست اتنی طویل ہے کہ اس پر کئی کتابیں لکھی جا سکتی ہیں۔