وزیراعظم نوازشریف کو اصولاً استعفیٰ دینا چاہئے عمران خان

وزیراعظم نوازشریف کو اصولاً استعفیٰ دینا چاہئے عمران خان

اسلام آباد : پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ وزیراعظم نوازشریف کو اصولاً استعفیٰ دینا چاہئے۔ ہر جمہوریت میں یہی روایت ہے جن اداروں نے تحقیقات کرنی ہیں۔ وہ وزیراعظم کے ماتحت ہیں اگر نوازشریف اوپر بیٹھا ہو گا تو کیسے ادارے آزادانہ طور پر کام کرینگے جوڈیشل کمیشن کی تشکیل کے لئے مشاورت کے بعد  جمعہ  کو اپنا جواب سپریم کورٹ میں جمع کروائیں گے۔


ان خیالات کا اظہار عمران خان نے سپریم کورٹ کے باہر پاناما لیکس کی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ آج نوازشریف کے وکیل نے یہ کہا کہ جو اس نے پارلیمنٹ میں قوم سے خطاب کیا وہ سیاسی بیان تھا یعنی جو انہوں نے باتیں کیں وہ سیاسی تھیں آئین کے آرٹیکل 191 کی شق چھ میں لکھا ہے کہ وزیراعظم کابینہ اور اسمبلی کو جوابدہ ہے جب وزیراعظم نے اسمبلی میں خطاب کیا وہ اس لئے کہا کہ اپوزیشن بار بار پوچھ رہی تھی کہ پانامہ میں جو انکشافات ہوئے اور وزیراعظم پر دباؤ پڑا اور اس پریشر کی وجہ سے وزیراعظم کو پارلیمنٹ میں جواب دینا پڑا اب پتہ چلا ہے جو انہوں نے پارلیمنٹ میں باتیں کیں جن میں انہوں نے واضح طور پر کہا کہ میں ساری دستاویزات پارلیمنٹ میں رکھ رہا ہوں۔ ہمارے پاس تمام دستاویزات ہیں۔ ہمارے پاس منی ٹریل کے سارے ثبوت ہیں کہ کس طرح مئے فیئر اپارٹمنٹس لئے گئے۔ آج سپریم کورٹ میں پتہ چلا کہ ان کے پاس کچھ بھی نہیں ہم نے ثابت کیا کلف رئیل مل 26 لاکھ درہم کا نقصان کر رہی تھی آج جواب آیا وہ 26 لاکھ کسی نے دے دیئے تھے یہ کس نے دیئے یہ ان کو نہیں پتہ۔ عام لوگوں کو کوئی ہزار روپیہ نہیں دیتا، لاکھ روپیہ مشکل سے دیتا ہے۔ ان کو کروڑوں اربوں روپے دے دیئے ہیں۔ یہ نہیں پتہ کس نے دیئے، یہ عدالت نے کہا ہے نہ ہی قطری خط کا ثبوت اور نہ کوئی اور ثبوت کہا گیا سارا کاروبار پرچیوں پر چل رہا تھا۔ یہ ایک اور مذاق کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم کمیشن کی تشکیل کے حوالے سے عدالت سے دو دن مانگے ہیں۔ جمعہ کے روز تک ہم فیصلہ کرینگے کیا ہونا چاہئے۔ اصل میں ہم اور ساری قوم یہ مانگ رہی ہے کہ عدالت فیصلہ کرے۔ ہم مشاورت کرینگے۔ عدالت بتائے گی کمیشن کا کیا دائرئہ اختیار ہو گا اور اس کے کتنی مدت ہو گی۔ کمیشن دستاویزات کا جائزہ لے گا کہ وہ درست ہیں یا غلط ہیں۔ ہم نے اس جانب توجہ دلائی ہے کہ تمام ادارے حکومت کے ماتحت ہیں جنہوں نے تحقیقات کرنی ہیں وہ ان کے نیچے ہیں۔ اصولاً نوازشریف کو استعفیٰ دینا چاہئے۔ کیا اخلاقی جواز رہ گیا۔ وزیراعظم کا سپریم کورٹ میں احتساب ہو رہا ہے۔ ان کے نیچے ادارے ہیں جنہوں نے تحقیقات کرنی ہیں وہ کیسے کرینگے۔ اصولاً وزیراعظم کو استعفیٰ دینا چاہئے۔ ہر جمہوریت کی یہ رسم ہوتی ہے اگر نوازشریف اوپر بیٹھا ہو گا تو نیچے ادارے آزادانہ طور پر کام کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی اور (ن) لیگ کی جانب سے جمع کروائی گئی دستاویزات کی تصدیق کروانا پڑے گی۔

#/S