جو مَرد بھی اپنی بیوی کی یہ ایک بات مان لے اُس کی شادی بے حد خوشگوار اور کامیاب رہتی ہے

حقوق نسواں اور صنفی مساوات کی جدید تحریک کو قدامت پسند معاشروں کے مردوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے

جو مَرد بھی اپنی بیوی کی یہ ایک بات مان لے اُس کی شادی بے حد خوشگوار اور کامیاب رہتی ہے

لندن : حقوق نسواں اور صنفی مساوات کی جدید تحریک کو قدامت پسند معاشروں کے مردوں کی جانب سے شدید مخالفت کا سامنا رہا ہے۔ روایتی طور پر صنفی تعلقات میں مرد کا کردار غالب رہا ہے لیکن اس کے برعکس تحریک نسواں دونوں کو یکساں قرار دیتی ہے۔ اس تحریک کے حامی تو کہتے ہی رہتے تھے کہ مردوں کے گھرداری سنبھالنے میں کوئی حرج نہیںلیکن پہلی بار سائنسدانوں نے بھی کہہ دیا ہے کہ بیگم کو برابر سمجھنے اور اس کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہوئے گھریلو کام سنبھالنے والے مردوں کی ازدواجی زندگی بہت خوشگوار اور کامیاب رہتی ہے۔


 تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ اگر عورت اور مرد دونوں روزی کمانے میں برابر حصہ ڈالتے ہیں اور گھر کے کام کاج اور بچوں کی دیکھ بھال میں بھی برابر کے حصہ دار ہوتے ہیں تو ان کے درمیان ہر سطح پر انڈرسٹینڈنگ میں اضافہ ہوتا ہے۔ وہ ایک دوسرے کے ساتھ زیادہ بے تکلف بھی ہوتے ہیں اور آزادانہ اپنی صلاحیتوں اور شخصیات کا اظہار بھی کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ ان کے درمیان ایک مضبوط اور پائیدار رشتہ قائم ہوتا ہے اور خصوصاً ازدواجی ہم آہنگی میں اضافہ ہوجاتا ہے۔ یہ جوڑے خوشگوار زندگی اور ازدواجی طمانیت میں دیگر جوڑوں کی نسبت کہیں آگے ہوتے ہیں۔ تحقیق کاروں کا کہنا ہے کہ خواتین کو برابر کا درجہ دے کر، گھر کے کاموں میں ہاتھ بٹاکر اور بچوں کی دیکھ بھال میں حصہ لے کر ہر مرد ازدواجی فوائد سے لطف اندوز ہوسکتا ہے۔