الیکشن کمیشن ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک متفقہ ضابط اخلاق تیار کرے، صدر ممنون حسین

صدر ممنون حسین نے کہاہے کہ گلی کوچوں میں اڑنے والی خاک سے لے کر اقتدار کے پیچیدہ مسائل تک کی واحد اور بنیادی وجہ یہی رہی ہے کہ ووٹ کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا یا ووٹ کے نتیجے میں ہونے والے فیصلوں کو نظرانداز کر دیا گی

الیکشن کمیشن ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک متفقہ ضابط اخلاق تیار کرے، صدر ممنون حسین

اسلام آباد: صدر ممنون حسین نے کہاہے کہ گلی کوچوں میں اڑنے والی خاک سے لے کر اقتدار کے پیچیدہ مسائل تک کی واحد اور بنیادی وجہ یہی رہی ہے کہ ووٹ کی اہمیت کو تسلیم نہیں کیا گیا یا ووٹ کے نتیجے میں ہونے والے فیصلوں کو نظرانداز کر دیا گیا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے نہ سمجھنے کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں سیاسی اور انتظامی مسائل پیدا ہوئے اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان میں بگاڑ پیدا ہوتا چلا گیا۔


یہ بات انہوں نے ایوان صدر میں ووٹروں کے قومی دن کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دن پاکستان کے پہلے عام انتخابات کی مناسبت سے دسمبر کو منایا جا رہا ہے ، اس سے ووٹ کی اہمیت، افادیت اور حرمت کو اجاگر کیا جا سکے گا جس کے نتیجے میں وطنِ عزیز میں جمہوریت کی بنیادیں مزید مستحکم ہوں گی۔ اس سلسلے میں ایک متفقہ اور جامع ضابط اخلاق بھی غیرمعمولی اہمیت کا حامل ہے۔ صدرمملکت نے کہ الیکشن کمیشن ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کی مشاورت سے ایک متفقہ ضابط اخلاق تیار کرے جسے ایک قومی دستاویز کی حیثیت حاصل ہو۔ اس طرح کی دستاویز صرف اسی صورت میں غیر متنازع اور مثر ہوں گی اگر یہ عوامی خواہشات کی عکاس بھی ہو۔اس ضمن میں چیف الیکشن کمشنر کی سیاسی جماعتوں سے مشاورت نہایت مفید ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اس مقصد کے لیے الیکشن کمیشن کو ہر اعتبار سے خود مختار اور خودکفیل ہونا چاہیے تا کہ آزادانہ اور منصفانہ انتخابات کے انعقاد کے لیے تمام ضروری انفراسٹرکچر اس کی دسترس میں ہو اور ریاست کے تمام ادارے اس سلسلے میں اس کے ساتھ تعاون کریں۔صدر مملکت نے کہا کہ ووٹروں کاقومی دن مناتے ہوئے ہمیں تین باتیں ضرور پیشِ نظر رکھنی چاہیں۔ ایک جب ووٹ دینے کا موقع آئے تو عوام کسی ترغیب، تحریص یا کسی منفی جذبے کی بجائے خالص قومی اور ملی مقاصدکو پیشِ نظر رکھتے ہوئے ووٹ کا استعمال کریں۔ دوسرے انتظامیہ یقینی بنائے کہ عوام نے جو فیصلہ دیا ہے، وہ مقدس ہے لہذا اس فیصلے پر نہایت ایمانداری کے ساتھ عمل کیاجائے اور اس کی راہ میں آنے والی ہر رکاوٹ کو دور کردیا جائے اور تیسرے قوم جب ایک بار کوئی فیصلہ دے دے تو پھر معاشرے کے تمام طبقات کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس فیصلے کو دل سے تسلیم کریں، اس کا احترام کریں اور قومی مقاصد کے حصول کے ضمن میں عوام کے فیصلے کو اپنی طاقت بنالیں۔

صدر ممنون حسین نے کہا کہ ملک میں آزادانہ، غیر جانبدارانہ اور شفاف انتخابات کی بنیادعوامی شعور کی پختگی میں ہے جس کا پہلا قدم نہایت ذمہ داری کے ساتھ ووٹر لسٹ میں ناموں کا اندراج ہے۔ الیکشن کمیشن نے اس مقصد کے لیے ضلعی سطح پر ووٹر ایجوکیشن کمیٹیاں قائم کی ہیں تاکہ عوام کو ووٹ کی اہمیت سے باخبر کر تے ہوئے ووٹوں کے درست اندراج کو یقینی بنایا جائے۔ یہ کمیٹیاں ووٹوں کے درست اندراج کی ذمہ داری کے ساتھ ساتھ ووٹ کی اہمیت اور اس کے صحیح استعمال کی تربیت بھی کریں تاکہ ہمارا انتخابی نظام مزید بہتر اور شفاف ہو سکے اور ملک میں جمہوری نظام کی جڑیں مضبوط ہو سکیں۔اس موقع پر چیف الیکشن کمیشن جسٹس ریٹائرڑ محمد رضا اور سیکریٹری الیکشن کمیشن نے بھی خطاب کیا۔ اس تقریب میں وزرا ئے کرام اور دیگر مہمانان کی ایک بڑی تعدا د نے شرکت کی۔