بھارت سے روئی کی درآمد کے متعلق قواعد و ضوابط مزید سخت

بھارت سے روئی کی درآمد کے متعلق قواعد و ضوابط مزید سخت

اسلام آباد: وزارت فوڈ سیکورٹی کے ذیلی ادارے ڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن نے بھارت سے روئی کی درآمد کے حوالے سے مزید سخت قواعد و ضوابط کا اعلان کیا ہے اور ادارے کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے۔ ان قواعد و ضوابط پر پورا نہ اترنے والی درآمدی روئی کو بندر گاہ یا بارڈر سے ہی واپس برآمدی ملک بھیج دیا جائے گا۔


ڈی پی پی کی جانب سے متعارف کرائے گئے نئے روئی درآمدی قوانین کے تحت بھارت سے درآمد ہونے والی روئی میں کاٹن سیڈ کی مقدار زیرو فیصد ہونی چاہئے جبکہ درآمدی روئی کے ساتھ برآمدی ملک کے مجاز دارےڈیپارٹمنٹ آف پلانٹ پروٹیکشن کی طرف سے انگلش میں ایک ٴٴفائیٹو سینٹریٴٴ سرٹیفیکیٹ بھی جاری کیا گیا ہو جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہو کہ مذکورہ درآمدی روئی ہر قسم کے کیڑوں اور خاص طور پر انتھونو ماس سے پاک ہے۔

اس کے علاوہ ان شرائط میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس روئی کو برآمد کے لئے لوڈ کئے جانے سے 48گھنٹے قبل 3/4پائونڈ فی1000کیوبک فٹ کے حساب سے میتھائل برونائڈ نامی زرعی ادویات سے فیوموگیٹ کرنا بھی ضروری ہے جبکہ درآمد کرنے والے شپنگ ایجنٹ سے بھی کہا گیا کہ وہ روئی کی درآمد سے 14 دن قبل متعلقہ محکمے سے ٴٴانکروج پرمٹٴٴ بھی حاصل کرے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ درآمد کرنے والے ادارے کو روئی کی ان لوڈنگ سے قبل اس پر کیڑوں سے بچائو بارے سپرے بھی کرنا ہو گا۔

چیئرمین کاٹن جنرز فورم احسان الحق نے بتایا کہ ڈی پی پی کی طرف سے بھارت سے درآمدی روئی بارے ان نئے قوانین کے باعث بھارت سے روئی کی درآمد تقریبا نا ممکن ہو گئی ہے کیونکہ بھارت میں رولر جننگ کے باعث روئی میں بنولہ کی کچھ نہ کچھ مقدار ضرور ہوتی ہے جبکہ برآمدی اور درآمدی ملک میں روئی پر کیڑے مار ادویات کے سپرے اور فیومیگشن کے میعار کو پورا کرنا بھی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔

نیوویب ڈیسک< News Source