فیصلے سے امریکا کا امن عمل میں ثالث کا کردار ختم ہو گیا، فلسطینی صدر

مشرقی یروشلم: امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کے اعلان کے بعد فلسطین میں آج ہڑتال کی جارہی ہے جب کہ فلسطینی صدر محمود عباس کا کہنا ہے کہ فیصلے سے امریکا کا امن عمل میں ثالث کا کردار ختم ہو گیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب میں کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا اقدام اسرئیل کو فلسطینی سرزمین پر قبضے کو تقویت بخشے گا جب کہ ٹرمپ کا حالیہ اعلان بھی اسرائیل کو انعام دینے کے مترادف ہے۔

صدر محمود عباس نے کہا کہ امریکی صدر کا فیصلہ مقبوضہ بیت المقدس کی حقیقت کو تبدیل نہیں کرے گا اور اس معاملے پر اسرائیل کو کوئی قانونی حیثیت حاصل نہیں ہو گی۔ فلسطینی صدر نے کہا کہ ہم قومی آزادی حاصل کر کے رہیں گے۔ امریکی صدر کے اعلان سے امن مذاکرات کو خطرہ اور تشدد پسند عناصر کی حوصلہ افزائی ہو گی۔

 

دوسری جانب فسلطینی تنظیم حماس کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹرمپ کے فیصلے نے جہنم کے دروازے کھول دیئے ہیں۔ فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے فیصلے سے دو ریاستی حل تباہ ہو گیا اور امریکی صدر نے امریکا کو مستقبل میں کسی بھی امن عمل کے لیے نااہل کر دیا ہے۔

 

 

نیو نیوز کی براہ راست نشریات، پروگرامز اور تازہ ترین اپ ڈیٹس کیلئے ہماری ایپ ڈاؤن لوڈ کریں