عالمی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتیں بڑھنے کے نتیجے میں حکومت کی جانب سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے ماہ نومبر2017 کے دوران مہنگائی میں0.3فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔

بار برداری ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھنے سے جلد خراب ہونے والی خوراک سمیت دیگر اشیائے خوردونوش کی قیمتیں18فیصد بڑھی ہیں۔ سرکاری اعدادوشمار کے مطابق رواں مالی سال کے ابتدائی5ماہ ٴ جولائی تانومبر2017 کے دوران مہنگائی کی شرح میں بتدریج اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔

واضح رہے کہ حکومت نے ماضی کے برعکس عالمی مارکیٹوں میں خام تیل کی قیمتوں میں اضافے کو صارفین پر منتقل کرنے کی پالیسی اختیار کررکھی ہے جس کے منفی اثرات نمودار ہونے لگے ہیں۔ مہنگائی ماپنے کے پیمانے سی پی آئی انڈیکس جس میں فوڈ گروپ کاوزن 37.47فصد ہے۔ اس میں نومبر 2017میں2.4فیصداضافہ ہواہے۔ ماہ بہ ماہ کی نسبت خوراک کی مہنگائی کھانے کی اشیا کی قیمتوں میں 18فیصد اور غیر خوراک مصنوعات میں0.82فیصداضافے سے جولائی تانومبر2017کے پانچ ماہ میں مہنگائی کی اوسط شرح پچھلے سال کے اسی عرصے کی 3.92فیصد کے مقابلے میں3.59فیصد رہی ہے۔ ماہ نومبر2017میں انڈوں کی قیمت میں30.09فیصدٴ آلو میں5.6فیصدٴٹماٹرمیں3.61فیصد ٴ آٹے میں1.99فیصدٴ مرغی میں1.95فیصد ٴ مچھلی میں1.64فیصد اور بیکری اشیا میں1.19فیصد اضافہ ہواہے۔

واضح رہے کہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی سخت مالیاتی پالیسی اور خوراک ٴ پیٹرول کی قیمتیں کم ہونے سے نومبر2015میں مہنگائی نہیں بڑھی تھی۔ ماہ نومبر2017کے دوران تعلیم کے اخراجات 12.40فیصد اور علاج معالجے کے10فیصد بڑھے ہیں۔ کپڑے اور جوتوں کی قیمتیں 3.8فیصدٴ پانیٴ بجلی گیسٴ اوردیگرایندھن کے نرخوں میں 4.85فصد اضافہ ریکارڈ کیا گیاہے۔

مصنف کے بارے میں